تازہ ترین
Home >> مضامین >> حیاتیاتی تنوع کو خطرہ۔۔۔۔تحریر:نوالھدی ٰ یفتا لئ

حیاتیاتی تنوع کو خطرہ۔۔۔۔تحریر:نوالھدی ٰ یفتا لئ

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں زمین پر جا نوروں کی مختلف اقسام کی تعداد 15ملن ہے ۔ ان میں صرف 1.7ملن جانوروں کی اقسام کا انسانوں کو علم ہے ۔ قدرت کے یہ انمول تحفے آج کل نا پیدہو تے جا رہے ہیں ۔ حضرت انسان کی لا پرواہی اور غفلت کی وجہ سے یہ حیاتیاتی تنوع نا یاب ہو تے جا رہے ہیں ۔ پڑھتی ہو ئی انسانی آبادی اقتصادی ترقی کی وجہ سے ملک کے قدرتی وسائل پر دباؤ میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ ملک میں ناقص اقتصادی منصوبہ بندی کی وجہ سے ملک خدا داد میں امیر و غریب کے درمیان طبقاتی فرق کو مزید زیادہ کر دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے غریب اپنی زندگی بسر کر نے کے لئے قدرتی وسائل استعمال کر نے پر مجبور ہیں جن علاقوں میں زندگی کی بنیادی ضروریات میسر نہیں ہیں وہاں قدرتی وسائل کو بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس کی وجہ سے ملک میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی حد سے زیادہ چرائی کی وجہ سے زمیں کی کٹاؤ اور دریغ شکار جیسے مسائل نے حیاتیاتی تنوع کو تباہی کی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ۔
پاکستان میں جنگلات پر مشتمل علاقے کا کل رقبہ 5.4%ہے ۔ اس کے باوجود جنگلات کی تباہی تیز رفتاری سے جا ری ہے ۔ ہماری بڑھتی آبادی تجارتی مقاصد کے لئے عمارتی لکڑی کا استعمال ، ایندھن وغیرہ حیاتیاتی تنوع پر بری اثرات مرتب ہو تے ہیں کیونکہ اس سے
ما حولیاتی نظام تباہ ہو تا ہے ۔ پاکستان میں خاص کر ضلع چترال میں جنگلی جا نوروں اور پرندوں کا شکار ایک پرانی روایت ہے ۔ اس بے دریغ شکار کی وجہ سے بہت نیاب جانوروں کی کئی تعداد میں کمی ہوئی ہے ۔ مختلف انوع کے حیاتیاتی تنوغ خاص کر مار خور ، تیتر ، چکور وغیرہ نا پیدہو نے کے خطرے سے دو چار ہیں ۔
جبکہ جنگلی حیات کے انتظام کی ذمہ داری صوبائی حکومت کے ذمے ہے ۔ بقائے ماحول سے متعلق کئی قوانین بھی موجود ہیں ۔ جن کی اطلاق مختلف شعبوں پر ہو تا ہے ۔ جبکہ پا کستان میں اسی لحاظ سے وایلڈ لا ئف کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ۔ جس کا مقصد جنگلات و جنگلی حیات کا تحفظ ، کے حقوق وغیرہ شامل تھی ۔ جبکہ پا کستان میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ما حول کی بہتری ہے ۔ تاہم یہ ادارے اپنی اسی مشن اور وژن ابھی تک کوئی خاص کار کر دگی نہیں دیکھا سکتے ہیں ۔
پاکستان میں کئی نیشنل پا رک مو جود ہیں ۔ جن کا انتظام کا اختیار صوبائی حکومتوں کے پاس ہے ۔ اگر موجو دہ حکومت اس شعبے میں اپنی دلچسپی ظاہر کر دے اور مختلف علا قوں میں شکار پر پابندی کے قوانین کا نفاذ کر کے تو کسی تک ہم حیاتینائی تنوع کی تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں ۔