تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے ۔پرنسپل محبوب علی

مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے ۔پرنسپل محبوب علی

گلگت(خصوصی رپورٹ: امیرجان حقانی) گورنمنٹ پوسٹ گریجوٹ ڈگری کالج گلگت مناور میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کالج کے تمام فیکلٹی ممبران، طلبہ کرام اور دیگر ملازمین نے شرکت کی۔ سیمنارسے خطاب کرتے ہوئے ڈگری کالج برائے طلبہ مناور کے پرنسپل پروفیسر محبوب علی نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی حمایت ہمارا اولین فرض ہے۔ آج ہم انڈیا کے ظلم و بربریت اور ماوں بہنوں کی عصمت دری کے حوالے سے یوم یکجہتی منانے پر مجبور ہیں۔حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان والوں کو بہت سہولیات دی ہیں۔ ہم اور ہمارے لیڈروں کو اپنے لیے حکومت اور عالمی برادری پر کوئی ایسا دباو نہیں ڈالنا چاہیے جس سے مسئلہ کشمیر کو کوئی نقصان پہنچے۔مسئلہ کشمیر کے لیے ہمیں حکومت پاکستان سے ہر ممکن تعاون کیا جانا چاہیے تاکہ حکومت توجہ مبذول کرکے کوئی لوجکل حل کی طرف آجائے۔پروفیسروں اور طلبہ کا کشمیر وں کے ساتھ یک جہتی کے لیے بیدار جذبے کو داد دیا اور کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے کوئی لوجیکل حل نکالا جائے۔ ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دینے چاہیے ہیں ہم مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے کشمیریوں کے موقف کی تائید اور بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ڈگری کالج میں منعقد سیمنارسے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ا ینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن کے صدر ارشاداحمد شاہ نے کہا کہ ہمیں قرآنی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپس میں بھی یک جان ہونا چاہیے اور ساتھ ہی کشمیریوں کے لیے بھی ہر طرح کی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جب تک ہم اپنے داخلی انتشار اور اختلاف کو ختم نہیں کریں گے تب تک کشمیر کے ساتھ یک جہتی بے معنی ہوگی۔
پروفیسر اعجاز احمد نے کہا کہ آج پھر سے ہمیں اپنے اسلاف کی تاریخ دھرانی ہوگی۔ اور آزادی کشمیر کے لیے ان کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔
میں اپنی طرف سے اور اپنے طلبہ کی طرف سے پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ اشتیاق احمد یاد نے کہا کہ ہر صورت جنت نظیر کشمیر کو انڈیا کے تسلط سے آزاد کرواکر دم لیں۔کشمیریوں پر ظلم کسی صورت قبول نہیں۔ہم سب کو اس کی فکر کرنی ہوگی۔
پروفیسر انور علی جمیل نے یوم یک جہتی کشمیر پر خصوصی شاعری کے ذریعے سامعین کو گرما دیا اور یہ پیغام بھی دیا کہ کشمیر کے ساتھ پوری مسلم برادری کے لیے ہمیں یک جہتی کا دن منانا چاہیے۔احمد سلیم سلیمی نے زور دے کر کہا کہ ہمیں اپنے اخلاقیات اور اعمال کو ٹھیک کرنا چاہیے اور ڈائیلاگ اور مکالمہ کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے پر توجہ دینا چاہیے۔ سیمینار سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ایسوسی ایشن کے انفارمیشن سیکرٹری اور کالج کی میڈیا اینڈپبلیکشن کمیٹی کے ممبرلیکچرار امیرجان حقانیؔ نے کہا کہ آج سے ٹھیک 70سال قبل 27اکتوبر 1947ء کو بھارتی فوجوں نے کشمیر پر قبضہ کیا ۔ جو غیر آئینی اور بین الاقوامی قوانین کے عین خلاف ورزی تھی۔امیرجان حقانی نے یوم یکجہتی کشمیر اور اس کے تقاضوں کے عنوان سے مقالہ پیش کیا ۔ اپنی تقریر میں کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر ہم سے تقاضہ کرتا ہے کہ ہم مجلس شوریٰ کا مشترکہ اجلاس بلا کر پوری دنیا پر واضح کریں کہ ہم مسئلہ کشمیر پر ایک صفحے پر نہیں ایک لائن پر کھڑے ہیں۔ نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر مسئلہ کشمیر کو بہترین ڈپلومیسی کے ذریعے پیش کرکے اقوام عالم کے دلوں میں یہ بات بٹھانی ہوگی کہ بہر صورت بھارت ظالم ہے اور کشمیری مظلوم،اقوام عالم کو یہ بھی باور کرانا ہوگا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ میں بھارت کا موقف درست نہیں بلکہ کشمیریوں کے خلاف ہے، اسی طرح مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین کا موقف جو کہ پاکستان کی بھرپور حمایت پر مبنی ہے کو عالمی سطح پر اجاگرکرنے کی ضرورت ہے اور او آئی سی اور عرب لیگ اور دیگر مسلم عالمی تنظمیوں کو بھی مجبور کریں کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ہماری بھرپور حمایت کریں۔ امیرجان حقانی نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو مڈل، سیکنڈری اور اعلی تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل اس حوالے سے شعور وآگاہی حاصل کرے۔امیرجان حقانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ باعث اطمینان ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر گزشتہ اٹھائیس سال سے سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے اور دنیا بھر کے پاکستانی سفارت خانوں اور دیگر اداروں میں تقریبات منعقد کی جارہی ہیں اور سال ماضی میں سلامتی کونسل میں پاکستان کی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں پیش کیا اور عالمی توجہ مبذول کروائی۔ وائس پرنسپل پروفیسر اجلال نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کی اور سمینار سے مقررین کی گفتگو کا خلاصہ اور سفارشات پیش کیا۔


error: Content is protected !!