تازہ ترین
Home >> مضامین >> یوم یکجہتی کشمیراوراس کے تقاضے۔۔۔۔تحریر امیرجان حقانیؔ

یوم یکجہتی کشمیراوراس کے تقاضے۔۔۔۔تحریر امیرجان حقانیؔ

ای میل: ibshaqqani@gmail.com
ٍگزشتہ سالوں سے پاکستان بھر میں یوم یک جہتی کشمیر پورے جوش و خوش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔اس دن انڈیا کی طرف سے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف تمام پاکستانی یک جان اور یک آواز ہوکر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں۔یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج گلگت مناور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ اس تقریب میں مجھے بھی یوم یکجہتی کشمیر اور اس کے تقاضے کے عنوان سے گفتگو کرنے موقع دیا گیا۔اس تقریب سے کالج کے پروفیسروں اور طلبہ کرام نے تقاریر کی۔پوسٹ گریجویٹ کالج میں اہل علم و دانش اور صاحبان قلم کے سامنے ایک مختصر مقالہ پیش کیاجو اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہونگا تاکہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی بربریت اور ظلم و ستم واضح طور پر آشکارا ہوجائے۔
یوم یکجہتی کشمیر کا پس منظر
یہ اکیس جنوری 1990 کی بات ہے۔ انڈیا کے زیر تسلط کشمیر کے جملہ عوام نے بھارت کے ظالمانہ و غاصبانہ قبضہ کے خلاف سرینگر اور دیگر شہروں میں لاکھوں کی تعداد سڑکوں نکل کرپراحتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے بھارتی فوج کے مظالم کا بھانڈا پھوڑا تو انڈیا کی درندہ صفت فوج نے نہتے کشمیریوں کو بربریت کا نشانہ بنا کر درجنوں شہریوں کو شہید کر دیا۔اور سینکڑوں کو زخمی کیا اور ماوں بہنوں کی بے حرمتی کی۔انڈیا کے زیر تسلط کشمیر میں یہ پہلا موقع تھا کہ تمام لوگ جن میں نوجوانوں کے ساتھ بوڑھے اور خواتین بھی تھیں نے منظم ہوکر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور کشمیر پر انڈیا کے غاصبانہ قبضہ اور فوجی ظلم کے خلاف اعلان کر دیا۔اور انڈیا سرکار کو واضح پیغام دیا کہ کشمیری عوام ہر حال میں اس سے آزادی چاہتی ہے۔
قاضی حسین اور نوازشریف کا اپیل
یوم یکجہتی کشمیر کا دن کو منانے کا آغاز 1990 کو ہوا۔ بھارتی مظالم کو دیکھ کر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے پوری قوم سے اپیل کی کہ یوم یکجہتی کشمیر کے نام سے یہ دن منایا جائے۔ میاں نواز شریف جو اس وقت وزیراعلی پنجاب تھے نے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور قاضی حسین کی آواز پر لبیک کہا۔قاضی حسین اور نوازشریف کی کال پر پورے پاکستان میں 5 فروری 1990 کو کشمیریوں کے ساتھ زبردست یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ملک گیر ہڑتال ہوئی اور ہندوستان سے کشمیریوں کو آزادی دینے کا مطالبہ کیاگیا۔ اس روز ملک بھر میں کشمیر کی آزادی کے لیے لڑنے والوں اور جہاد کشمیر کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگیں گئیں۔گھروں ، مسجدوں میں اور عبادت گاہوں میں اور دینی مدارس وجامعات اور عصری تعلیم گاہوں میں ، غرض ہرجگہ کشمیر کی آزادی کے لیے دعاوں کا اہتمام کیا گیا۔
بے نظیر بھٹو کی کاوش
جب یوم یک جہتی کشمیر اپنے عروج پر تھا تو اس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیرِاعظم تھیں، انہوں نے اس اپیل پر پاکستان بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کر دیا اور ملک میں یہ بھی ایک گزٹڈ ہالی ڈے کے طور پر منایا جانے لگا۔اس کے بعدیہ دن گزشتہ۲۸ سال سے دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور محکوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے منایا جاتا ہے۔
کشمیریوں کی حق خود اداریت
اقوام متحدہ میں ریاست پاکستان کا مسئلہ کشمیر پر جو موقف ہے وہ انتہائی قابل تعریف اور اخلاقی اعتبار سے بہت بلند اور پلائٹ ہے۔جب انڈیا نے کشمیر پر اپنا موقف اقوام متحدہ میں پیش کیا اور کہا کہ یہ میرے علاقے ہیں تو پاکستان نے بھی پیش کیا اور کہا کہ یہ علاقہ کسی کا نہیں بلکہ کشمیریوں سے خود پوچھا جائے کہ یہ کیا چاہتے ہیں اس پر اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کا حل استصواب رائے قرار دیا اوردنیا کے سامنے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا اعلان کیا گیا اور قراردادوں پر دستخط کئے گئے لیکن سال گزرنے کے باوجود ان قرارداوں پر عمل نہیں کیا گیا نہ ہی کشمیریوں کی حق خود ارادیت کا احترام کیا گیا۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اقوام متحدہ ایک درندہ کی مانند ہے جو اس طرح کے بڑے مسائل کے حل کے بجائے مزید الجھا کر تماشا دیکھنا چاہتا ہے ۔
بانی پاکستان کی کمٹمنٹ
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے اس کو بھارت کے پنجہ استبداد سے طاقت کے ذریعے چھڑانے کی کوشش کی تھی۔قائد اعظم نے یہ کوشش اس وقت کی تھی جب پاک آرمی مکمل طریقے سے منظم بھی نہیں تھی اور نہ ہی آج کی طرح ایٹمی طاقت سے لیس تھی۔انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قائد کے بعد نہ ہی سیاسی و قومی لیڈروں نے مسئلہ کشمیر اور آزادی کشمیر کو سیریس لیا اور نہ ہی سرکاری سطح پر ایسا جاندار عمل کیا گیا جو قائد محترم نے کیا تھا بلکہ کچھ لوگوں نے تو کشمیر پر سودے بازی بھی کی بالخصوص مشرف دور اس کے حوالے سے سیاہ ترین دور رہا ہے۔آج بھی ہمیں قائد جیسے وژن اور عمل کی ضرورت ہے ۔
ایک منٹ کی بے مقصد خاموشی
گزشتہ ۲۸سالوں سے پانچ فروری کو دن دس بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرکے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے تاہم اس کے بعداس مسئلے کو غیر سنجیدگی کے ڈبے میں پیک کیا جاتا ہے یوں وہ خاموشی ہر سال کی طرح بے مقصد و بیکار جاتی کیونکہ ہم لوگ خاموشی کے بعد سنجیدہ تو ہوتے ہی نہیں ہیں۔
ہندوستانیوں کا ظلم و ستم اور قتل و غارت
ایک سروے رپورٹ کے مطابق صرف ۲۰ سالوں میں جو مظالم انڈین آرمی نے کشمیریوں پر کیے ہیں وہ ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنوری1989 سے 31 دسمبر2010 تک غاصب ہندوستانی افواج نے 93,544 کشمیری مردوزن کو شہید کردیا جن میں 6,892 کو زیر حراست قتل کیا گیا۔ 22,749 خواتین بیوہ اور 107,400 بچے یتیم ہوئے۔ گزشتہ دوعشروں میں ہندوستانی افواج کے ہاتھون کشمیری خواتین کی عصمت دری کے 9,987 واقعات ہوئے جب کہ 105,901 مکان اور گھروں کو ہندوستانی قابض افواج نے جلا کر خاکستر کیا۔ یاد رہے کہ اس وقت انڈیا کے زیر تسلط کشمیر میں بیس فیصد ہندو رہتے ہیں جبکہ اسی فیصد مسلمان آباد ہیں۔اور انڈیا ان بیس فیصد سے اسی فیصد پر بھی الگ سے ظلم کروارہا ہے۔ انڈیا کے ظلم کے خلاف اب تو دنیا بھر کے علاوہ خود مودی کے دیس میں اور دہلی یونیورسٹی کے ہندو طلبہ بھی کشمیر پر ہونے والے ظلم پر آواز بلند کررہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی انٹرنیشنل تنظمیوں کی رپورٹیں بھی انڈیا سرکار کی مظالم کی نشاندہی کرتی ہیں۔
دنیا بھر مین سیمینارز اور کانفرنسیں
یہ بات باعث طمانیت ہے کہ مجلس شوری کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان کی کاوشوں سے مسئلہ کشمیر دنیا بھر میں سیمنارز ، تقاریب اور پرامن احتجاجی جلسوں کے ذریعے ہائی لائٹ ہوچکا ہے۔مولانا کی ہدایت پر پانچ فروری کو مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے اور کشمیری قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مختلف سیمینارز اور تقریبات کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا ہے۔دنیا بھر کے ساتھ ملک بھر میں بھی تقاریب اور احتجاجی ریلیاں منعقد کی گئی ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی کئی مقامات پر احتجاجی ریلیاں سرکاری اور غیر سرکاری طور پر نکالی گئی اور دسیوں تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔اور ال پارٹیز کی کانفرنس بھی بلائی گئی۔
مسئلہ کشمیر کا حل
مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خود ارادیت کے سوا کچھ نہیں۔ کشمیر کمیٹی کا قیام بھی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور اقتدار میں عمل میں آیا۔ تحریک آزادی کشمیر کی اہمیت کے پیش نظر یہاں ہم اختصار کے ساتھ بعض اقدامات کا ذکر کرتے ہیں جن پر عمل پیرا ہوئے بغیر اظہار یکجہتی کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔
مسئلہِ کشمیر کے ہم سے تقاضے
مسئلہ کشمیر ہم سے متقاضی ہے کہ ہم درجہ ذیل کام فوری کریں۔
۱۔ مجلس شوری(پارلیمنٹ)کی مشترکہ اجلاس اور چاروں صوبوں کی اسمبلیوں سمیت گلگت بلتستان کی اسمبلی کا اجلاس بلا کر مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک اپناتے ہوئے دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے استصواب رائے ہے۔ان تمام اجلاسوں میں پاک آرمی کو بھی مدعو کرکے عالمی میڈیا کو مدعو کرکے بتانا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر پر ہم ایک لائن میں کھڑے ہیں۔
۲۔ دنیا بھر میں منظم سفارتی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے کشمیر کمیٹی سے بالکل جداگانہ ایک ڈپلومیسی کمیٹی بنائی جائے اور یہ کمیٹی تھنک ٹینک کی مانند ہو جور یسرچ کے ذریعے عالمی سطح پر کام کرے اور دنیا بھر کو لوجک سے مطمئن کرے۔چین نے مسئلہ کشمیر پر جو شاندار موقف اپنایا ہے جو سراسر انصاف پر مبنی ہے اور کشمیریوں اور ریاست پاکستان کی خواہشات پر مبنی ہے کو بھی عالمی مہم میں تشہیر کرنے کی ضرورت ہے۔
۳۔ او آئی سی، عرب لیگ اور دیگر مسلم عالمی تنظیموں کے علاوہ سنٹرل ایشاء کی نئی ریاستوں کے ساتھ روس کو بھی مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے دبا ڈالنے کے لئے تیار کرنا ہوگا جو بہر صورت ایک شاندار ڈپلومیسی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اور ترکی کو مزید اس مسئلے پر انوال کیا جانا چاہیے۔
۴۔انڈیا پر واضح کرنا ہوگا کہ ہم آپ کے ساتھ تجارت بھی چاہتے ہیں اور ہمسائیوں کی طرح تعلقات بھی قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے مسئلہ کشمیر کو بہر صورت ٹیبل ٹاک کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔انڈیا کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر اور تحریک کشمیر کو کسی صورت دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا ہے۔۔تحریک آزادی کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے اور پاکستان اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔بلکہ اس کے حل کے بعد ہی پاکستان انڈیا کے ساتھ ہر قسم کے روابط رکھے گا۔ بصورت دیگر انڈیا کا ہر سطح پر بائیکاٹ کرنا ہوگا۔اور حکومت وقت کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کسی بھی اندرونی اور بیرونی دباو کو ریاست پاکستان کے اصولی موقف کے خلاف قبول نہیں کیا جائے گا۔
۵۔ آج کا دن ہم سے یہ بھی تقاضہ کرتا ہے کہ ہم نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کو سیمنارز ، تقاریب اور پرامن احتجاجی ریلیوں کے ذریعے متوجہ کریں اور ہم دلیل اور برہان کے ذریعے اقوام عالم کو مجبور کریں کہ وہ بہر صورت یہ بات مان لیں کہ مسئلہ کشمیر پر بھارت ظالم ہے اور کشمیری مظلوم ہے۔ آج وہی فاتح عالم ہے جو دلوں کو فتح کرے تو ہر قسم کی میڈیائی ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے اقوام عالم کو مجبور کرنا ہوگا۔اور ان کے دلوں میں کشمیر یوں کی مظلومیت کو بٹھانا ہوگا۔
۶۔یوم یک جہتی کشمیر کا دن ہم سے یہ بھی تقاضہ کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے ادنی سے لے کر اعلی تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے اور یہ نصاب کی قومی پالیسی ہونی چاہیے۔ دینی مدارس و جامعات میں خصوصیت کے ساتھ پڑھایا جائے ۔ ہمارے طلبہ اور اسکالرز کے پاس کشمیر کے حوالے سے زیادہ آگاہی و شعور نہیں اس لیے نصاب کے ذریعے اور ان اداروں میں کشمیرآفیئر کے نام کے سنٹروں کے قیام کے ذریعے آگاہی کی مہم کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔اور کشمیر آفیئر سنٹر پاکستان کے ہر ریجن میں ہونا چاہیے۔