تازہ ترین
Home >> مضامین >> امریکہ کی افغانستان میں ناکامی ۔۔۔!تحریر: رانا اعجاز حسین چوہان

امریکہ کی افغانستان میں ناکامی ۔۔۔!تحریر: رانا اعجاز حسین چوہان

گزشتہ دنوں امریکی کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ نے امریکہ کی افغانستان میں کامیابی کا سر عام بھانڈا پھوڑ دیا ، جس میں بتایا گیا کہ افغان حکومت کا صرف 30 فیصد علاقے پر کنٹرول ہے جبکہ 70 فیصد علاقوں پر طالبان قابض ہیں۔ امریکی حکومت کے سرکاری نگراں ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن (سگار)نے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے یہ رپورٹ امریکی کانگریس کے علاوہ ، محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کو بھی بھیجی جس میں اعتراف کیا گیا کہ امریکہ افغانستان میں کنٹرول کھو رہا ہے اور امریکہ کے زیر کنٹرول اضلاع کی تعداد کم ہو رہی ہے اس کے مقابل ان علاقوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن پر طالبان کا قبضہ یا اثر و رسوخ ہے۔سگار کی رپورٹ کے مطابق 2017ء میں بم حملوں کے اعداد و شمار 2012ء کی نسبت تین گنا زیادہ ہیں اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ سپا ہیوں کو ہلاک کیا جانا تقریباً روز کا معمول بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سے بھی زیادہ تشویش کا سامنا اس بات پر ہے کہ عوامی مفادات کے معاملے پر افغان حکومت بالکل دور ہو چکی ہے۔ سگار رپورٹ میں اس بات کا ذکر بھی کیا کہ گزشتہ برس اگست میں نئی افغان پالیسی کے بعد طالبان کیخلاف امریکی فضائی حملوں اور خصوصی آپریشنز میں اضافہ ہوا۔اکتوبر 2017ء میں امریکہ نے افغانستان میں 653 مرتبہ گولہ بارود گرایا جو کہ 2012ء کے بعد سب سے زیادہ تھا جبکہ اکتوبر 2016ء کے مقابلے میں اس میں 3 گناہ اضافہ ہوا۔ لیکن ان تمام کاروائیوں کے باوجود افغانستان پر افغان حکومت کے کنٹرول میں اضافہ نہیں ہوسکا۔ جاری اس رپورٹ میں خبر دار کیا گیا کہ فورسز کی جانب سے مسلسل فضائی حملوں سے شہریوں کی ہلاکت افغان حکومت کی حمایت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے جبکہ اس سے طالبان کی حمایت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔رپوٹ میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمارکا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یکم جنوری 2017ء سے 30 ستمبر 2017ء تک اندازً 8 ہزار سے زائد شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اس طرح افغانستان میں امریکہ کی زیر قیادت اتحادی افواج نے جن طالبان کو شکست دینے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کیے وہ اب ملک کے 70 فیصد علاقوں میں کھلے عام سرگرم ہیں اور صرف 30 فیصد علاقے افغان حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ جبکہ افغان حکومت نے سگار رپورٹ میں بیان کی گئی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ تر علاقے پر اس کا کنٹرول ہے۔ جبکہ دوسری جانب افغان وزیر داخلہ ا ویس احمد برمک اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے سربراہ محمد معصوم ستانکزئی نے پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران تسلیم کیا ہے کہ افغان دارلحکومت کابل پر حملوں کی حالیہ لہر اور شدت پسندوں کی ملک گیر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر اکیلے قابو پانا اشرف غنی حکومت کیلئے ممکن نہیں رہا۔ جس پر پاکستان کی جانب سے انہیں باور کرایا گیا کہ برس ہا برس کے آپریشنوں کے بعد پاکستان کی سرزمین سے شدت پسند تنظیموں کی منظم موجودگی ختم کر دی گئی ہے۔ افغان حکومت کی طرف سے عزم کے فقدان، استعداد کی کمی اور متعدد دیگر عوامل کے باعث ،پاکستان کی یہ کامیابیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ پاکستان، افغانستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے لیکن اس کیلئے لازمی ہے کہ بات چیت میڈیا کے بجائے سرکاری سطح پر کی جائے۔ پہلے سے موجود سفارتی اور فوجی میکنزم بحال کئے جائیں، رابطہ افسروں کی تعیناتی سمیت اس نظام کو فعال کیا جائے، اور افغان سرزمین پر موجود ،پاکستان دشمن عناصر کے بارے میں ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
بلاشبہ پاکستان سمیت خطے کا امن افغانستان پر منحصر ہے، مگر افغانستان پر مسلط قوتیں اور افغانستان کی مقامی انتظامیہ افغانستان کے استحکام سے زیادہ اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتی ہیں۔ افغانستان میں اپنی ناکامی پر امریکی صدر ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی جاری کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کی امداد بند کرنے کا اعلان کیا بلکہ دشمن ملک بھارت کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تلاش کی آڑ میں پاکستان کی نگرانی کا کام بھی سونپ دیا جس نے اپنا ڈرون طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں بھجوا دیا، جسے پاک فضائیہ کے مشاق دستے نے مستعدی کے ساتھ فوراً مار گرایا، تاہم امریکہ نے بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی سلامتی پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ٹرمپ انتظامیہ ایک جانب تو افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے متفکر نظر آتی ہے اور اس کیلئے ہی پاکستان سے ڈومور کے تقاضے کئے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب نہ صرف کابل حکومت سے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے پر زور نہیں دیا جاتا بلکہ افغانستان میں تعینات امریکی افواج بھی دہشت گردوں کے ان ٹھکانوں کو دانستہ نظر انداز کئے ہوئے ہے۔ چنانچہ ان دہشت گردوں کو افغانستان میں دہشت گردی کیلئے بھی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے اور وہ پاکستان میں بھی آزادانہ طور پر داخل ہو کر دہشت گردی کے اپنے اہداف پورے کررہے ہیں اور پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنے کے بھارتی مقاصد پایہ تکمیل تک پہنچانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ان دوہری پالیسیوں کے باعث ہی پاکستان امریکہ تعلقات 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار کشیدگی کی انتہاء کو پہنچے ہیں، اور پاکستان کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو بالآخر باور کرانا پڑا ہے کہ وہ اسے اپنے لئے نرم چارہ ہرگز نہ سمجھے، پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ و دفاع کی مکمل استعداد و صلاحیت رکھتا ہے، کوئی ملک بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو نقصان پہچانے کی کوشش کرے گا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر امریکہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام میں مخلص ہے تو اسے عملی اقدامات کرتے ہوئے سب سے پہلے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرناچاہیے ۔ اس کے علاوہ افغانستان امن عمل سے قطعی غیرمتعلق بھارت کی سرپرستی کے بجائے پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کے تحت افغانستان میں فیصلہ کن آپریشن کی پالیسی وضع کرنا چاہیے ۔ تاکہ دوبرادر اسلامی ملکوں افغانستان اور پاکستان میں ہم آہنگی کی فضا پیدا ہو ، اور دہشت گردی کے خاتمے میں مشترکہ کاوشیں بروئے کارلائی جاسکیں، بلاشبہ مضبوط و مستحکم افغانستان خطے کے امن کیلئے ناگزیر ہے۔