تازہ ترین
Home >> مضامین >> صدا بصحرا ۔۔۔ ہم مفروضوں پر زندہ ہیں۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

صدا بصحرا ۔۔۔ ہم مفروضوں پر زندہ ہیں۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

دو دن کے اخبارات اور 24گھنٹے کے ٹیلی وژن پروگراموں کو سامنے رکھ کر کوئی بھی محب وطن پاکستانی سوچے تو اس نتیجے پر پہنچے گا کہ ہم مفروضوں پر زندہ ہیں اور مفروضوں پر ہی ہمارا گذر بسر ہورہا ہے مفروضہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ یہ لفظ اردو میں مستعمل ہے اور انگریزی کے Assumptionکا ہم معنی و مترادف ہے اپنی طرف سے کوئی بات طے کرکے اس پر یقین کرلینا مفروضہ کہلاتا ہے۔ مثلََا مسلمان دنیا کی بڑی طاقت ہیں پوری دنیا مسلمانوں سے ڈرتی ہے یہ ایک مفروضہ ہے۔ مثلََا امریکہ افغانستان میں شکست کھاگیایہ بھی مفروضہ ہے۔ مثلََا چین ہمارا دوست ہے یہ بھی مفروضہ ہے۔ مثلََا پاکستان کی بقا کا راز جمہوریت میں مضمر ہے۔ یہ بھی مفروضہ ہے۔ ایسے ہزاروں مفروضے ہیں جن کی کوئی بنیا د نہیں۔ ہم نے اپنی طرف سے ایک بات طے کی ہے اور اس پر تکیہ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ان مفروضوں سے جتنی جلدی جان چھڑائی جائے ہمارے حق میں اُتنا ہی بہتر ہوگا۔ پہلا مفروضہ لے لیں مسلمان دنیا کی طاقت کب سے ہوئے؟ مسلمانوں کی حالت گذشتہ ایک ہزار سالوں سے عرب کے زمانہ جاہلیت جیسی ہے ۔ سیرت کی کتابوں میں خاتم النبین محمد مصطفیﷺ کی بعشت سے پہلے عرب دنیا کا جو حال لکھا ہے وہ ایک ہزار سالوں سے مسلمانوں کا حال ہے۔ باہمی جنگ و جدل ، باہمی نفاق، باہمی دشمنی ، شراب خوری ، سود خوری ، جوا بازی، فحاشی اور زمانہ جاہلیت کی دیگر برائیاں مسلمانوں میں اس دور سے بھی زیادہ ہیں اگر امراء شراب و سود خوری میں مبتلا ہیں تو علماء دشمنی ، رقا بت اور انتشار میں مبتلا ہیں ۔ ایسی قوم دنیا میں کسی کو کیا چیلنج دے سکتی ہے؟ دوسرا مفروضہ لے لیں امریکہ افغانستان میں شکست کھا گیا۔ کس طرح شکست کھا گیا؟امریکہ کے اہداف حاصل ہوچکے ہیں اور افغانستان کے ساتھ پاکستان بھی امریکہ کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔ امریکہ نے 1978ء میں افغانستان میں قدم رکھا تو اس کے تین بڑے مقاصد تھے ۔ پہلا مقصد یہ تھا کہ جمہوری انقلاب کو ناکام کیا جائے، دوسرا مقصد یہ تھا کہ دہشت گردی کے لئے تربیتی مراکز قائم کئے جائیں اور افغانستان کے ساتھ پاکستان میں بھی دہشت گردی پھیلائی جائے ، تیسرا مقصد یہ تھا کہ افغانستان کو مرکز بناکر روس اور چین کا تعاقب کیا جائے ۔ یہ تینوں اہداف امریکہ نے حاصل کرلئے افغانستان میں اس کے قدم مضبوط ہوچکے ہیں۔ اگلے سو سالوں کے لئے اس نے فوجی اڈہ حاصل کرلیا ہے۔ جن لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ افغانستان کے بعض صوبوں میں صدر اشرف غنی کے مخالفین قابض ہیں اور یہ امریکہ کی شکست ہے تو ایسے احباب کو جان لینا چاہیے کہ القاعدہ، داعش اور امریکی فوج ایک دوسرے سے جدا یا الگ نہیں ۔ تینوں ایک ہیں۔ امریکہ کی ایک باوردی فوج ہے۔ باقی بغیر وردی کے امریکی فوج ہیں اور امریکی مقاصد کے لئے کام کرتی ہیں۔ داعش اور القاعدہ امریکیوں کی جگہ مسلمانوں پر حملے کرتی ہے اور امریکیوں کے لئے راہ ہموار کرتی ہے۔ فوجی اڈے حاصل کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ خانہ جنگی کے تصور کو زندہ رکھتی ہے۔ اس لئے افغانستان میں
ا مریکہ ناکام نہیں۔بلکہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ تیسرا مفروضہ لے لیں ، چین ہمارا دوست ہے۔ہماری دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے۔ اس مفروضے کی حقیقت یہ ہے کہ چین کے اپنے مفادات ہیں ۔ ہماری دوستی چین کے مفادات کے گِرد گھومتی ہے۔ بغیر چینی مفاد کے ہماری دوستی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اسی طرح اگلا مفروضہ بھی بے بنیاد ہے۔ بِلا وجہ مفروضہ گھڑ لیا گیا ہے کہ پاکستان کی بقا کا راز جمہوریت میں مضمر ہے ۔ ہماری 70سالہ تاریخ میں بہترین دور ایوب خان کا دور تھا۔اس کے بعد جنرل ضیاء الحق کا دور معاشی ترقی کے لئے شہرت رکھتا ہے۔ ملک کے اندر پریس کی آزادی، میڈیا میں وسعت اور جمہوری و انسانی حقوق کے حوالے سے جنرل مشرف کے دور کو سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ ان کے دور میں سوشل میڈیا آیا ۔ الیکٹرانک میڈیا آیااور پریس آزاد ہوا۔ کسی جمہوری حکومت نے پریس کو آزادی نہیں ۔ ملک میں معاشی ترقی کے وسائل فراہم نہیں کئے۔جمہوریت کا دور انارکی ، انتشار اور ہڑتالوں ، دھرنوں ، جلوسوں کی نذر ہوکر گذر جاتا ہے یہ مفروضہ بھی حقیقت سے بہت دور ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم مفروضوں کو چھوڑ کر حقائق کی دنیا میں قدم رکھیں اور چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق پرکھ کر رائے قائم کریں۔ ہم اپنے طرز عمل کی اصلاح جتنی جلدی کریں گے اُتنا ہی بہتر ہوگا۔
لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
مگر یہ کہ رفت گیا اور بود تھا


error: Content is protected !!