تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> چترال بونی اورمستوج شندورروڈ کےلیے 19 ارب روپے منظور،سابق اور موجودہ وزیراعظم کا شکریہ ۔ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین

چترال بونی اورمستوج شندورروڈ کےلیے 19 ارب روپے منظور،سابق اور موجودہ وزیراعظم کا شکریہ ۔ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین

چترال ( نمائندہ )سنٹرل ڈیوالپمنٹ ورکنگ پارٹی(سی ڈی ڈبلیو پی)نے پیر کے دن اپنے اجلاس میں چترال بونی اور مستوج شندور روڈ کےلیے 19.10ارب روپے کی منظوری کے ساتھ چترال کے مختلف مقامات پر آر سی سی پلوں کی تعمیر کےلیے64کروڑ روپے کی بھی منظوری  دے کر منصوبوں کو آخری منظوری کے لیے سفارشات کے ساتھ ایکزیکٹیو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل((ECNECکو بھیج دیا ہے جو ایکنیک کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔مرکزی حکومت کی جانب سے چترال میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز کی منطوری کے حوالے چترال سے قومی اسمبلی کے ممبر شہزادہ افتخارالدین نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ذاتی دلچسپی پر چترال کے لیے میگاپراجیکٹس کی منظوری ہوئی ہے جن میں بعض پر کام جاری ہے اور بعض ٹینڈر کے آخری مراحل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 12فروری کے (سی ڈی ڈبلیو پی )کے اجلاس میں چترال بونی اورمستوج شندور روڈ کے لیے  19.10بلین روپے کی منظوری کے ساتھ پراجیکٹ کو آخری منظوری کے لیے سفارشات کے ساتھ ایکنیک کو بھیج دیا گیا جوایکنیک کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائیگا۔ ایم این اے نے مزید بتایا کہ ہرایک میگاپراجیکٹ کو 19مراحل سے گزارکر منظوری دی جاتی ہے اورچترال بونی اورمستوج شندورروڈ کے 17مراحل مکمل ہوچکے ہیں اورآخری مرحلہ ایکنیک میں منظوری کے بعد ٹینڈر کے مرحلہ سے گزرنا ہے۔

ایم این اے نے اپر چترال کے عوام کو خوش خبری دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کی طرف سے چترال بونی اور مستوج شندور روڈ کی کشادگی کے لیے مختص فنڈزعلاقے کی ترقی میں کلیدی کردارادا کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں چار اہم آرسی سی پلوں کی بھی منظوری ہوچکی ہے جن پر 64کروڑ روپے خرچ ہونگے۔ان پلوں میں اوسیاک دروش،شوغور پل، گا لشٹ پل کوراغ اور نیشکوورکھوپ پل شامل ہیں۔ ان چار پلوں کی سی ڈی ڈبلیو پی نے حتمی منظوری دی ہے۔ان کی ٹینڈر بھی این ایچ اے بہت جلد طلب کریگا۔ تاہم پلاننگ کمیشن قوانین کے مطابق تین ارب روپے سے زیادہ کی پراجیکٹ کو ایکینک سے منظوری لینا ضروری ہوتا ہے ۔ لہذا چترال بونی مستوج شندور روڈ کی اگلے ایکنک کے اجلاس میں حتمی منظوری دی جائے گی ۔حتمی منظوری کے بعد دفاعی اہمیت کےاہم منصوبوں کو ٹینڈر کے مراحل سے گزاراجائے گا۔ایم این اے نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اپریل کے وسط میں دوبارہ چترال کا دورہ کریں گےاور ان منصوبوں کے ساتھ ساتھ چترال گرم چشمہ روڈ، چترال کالاش ویلیز روڈزاور گیس پلانٹس کا بھی افتتاح کریں گے۔

ایم این اے چترال شہزادہ افتخارالدین نے مزید بتایا کہ مستقبل قریب میں دو اضافی( پی ایس ڈی پی) نیشنل ہائے وے اتھارٹی منصوبے ( ساوتھ کورین ایگزیم بینک فنڈیڈ 10.2بلین) جن میں کلکٹک چترال تا پورشن چکدرہ چترال ایکسپریس وے پر بھی سروے کا کام شروع ہوگا۔جس پر ٹوٹل 17.42بلین روپے خرچ ہونگے۔اسی طرح دوسرے(پی ایس ڈی پی) پراجیکٹ جس پر 12بلین روپے خرچ ہونگے۔ایم این اے نے مزید بتایا کہ تریچ تا لوٹ اویر روڈ کی کشادگی اور ترکول پر بہت جلد کام شروع کیا جائے گا۔ شہزادہ افتخارالدین نے چترال کے عوام کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور خصوصی طور پر سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا شکریہ ادا کیا جن کی خصوصی دلچسپی سے چترال کےلیے ان میگا پراجیکٹس کی منظوری ممکن ہوئی ۔