127

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے چترال کے علاقے جغور میں جو ڈیشل کمپلکس بلدنگ کی تعمیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح کیا

چترال ( بیورورپورٹ) چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے بدھ کے روز چترال کے علاقے جغور میں جو ڈیشل کمپلکس بلدنگ کی تعمیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح کیا یہ بلڈنگ محکمہ ورکس اینڈ سروسز چترال کے زیر نگرانی عرصہ تین سال میں مکمل ہوگاجس پر 930 ملین روپے لاگت ائے گی اس موقع پر محکمہ ورکس اینڈ سروسز چترال کے ایکسن اینجینئر مقبول اعظم نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو تفصیلی بریفینگ دی چیف جسٹس کو بتایا گیاکہ جوڈشل کمپلیکس تین منزلہ بلڈنگ ہوگی جوکہ چترال کے مخصوص جغرافیائی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے تعمیر کی جائے گی ۔ کمپلیکس کے اندر سایلین ججز اور وکلاء کیلئے تمام تر جدید سہولیات میسر ہوں گے اس مقصد کیلئے 40 کنال زمین پہلے سے خریدی گئی ہے جبکہ مزید 4 کنال زمین عنقریب خریدی جائے گی۔جوڈیشل کمپلیکس کے اند ہائی کورٹ سرکٹ بنج چترال کی بلڈنگ بار رومز ججز کیلئے رہائشی مکانات سائیلین کیلئے جدید سہولیات سے میسر انتطار گاہ ،لائیبری ، یوٹیلٹی سٹور بھی تعمیر کیا جائے گا۔جبکہ بلڈنگ کے اندر بنک کیلئے بھی ایک جگہ مختص کی گی ہے ۔جوڈشل کمپلکس کا ٹھیکہ ACE کنسلٹنٹ لاہور کو دیا گیاہے ۔جبکہ اس کی نگرانی محکمہ ورکس اینڈ سروسز چترال کرے گی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس چترال کے عوام کی سہولیات کیلئے تعمیر کی جاری ہے جو کہ تعمیر کے لحاظ سے اعلی معیار کا ضامن ہوگاانہوں نے کنسٹرکشن کمپنی کو تنبیہ کی کہ تعمیراتی کام میں کوئی کمی برداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے تحصیل ایڈمنسٹریشن چترال کو ہدایات جاری کی ہے کہ جوڈشل کمپلیکس کی تعمیر کے بعد ویسٹیجز کو دریائے چترال میں پھینکنے کے بجائے انہیں ضائع کرنے کا معقول بندوبست کیا جائے ۔تاکہ دریا چترال کا پانی آلودہ نہ ہواس سے پہلے چیف جسٹس نے باقاعدہ فیتہ کاٹ کر تعمیراتی کام کا افتتاح کیا۔اس مو قع پر ڈپٹی کمشنر چترال آمین الحق DPO چترال عباس مجید مروت ،تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاسڈسٹر کٹ اینڈ سیشن جج چترال احمد سلطان ترین سول ججز ، ڈسٹرٹ بار چترال کے صدر صاحب نادر خان ایڈوکیٹ اور وکلاء کی بڑی تعداد مو جود تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں