تازہ ترین
Home >> مضامین >> دادبیداد۔۔۔تعمیرات کا نیا فارمولا۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

دادبیداد۔۔۔تعمیرات کا نیا فارمولا۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

انگریزی کے بعض الفاظ اردو میں اتنے زیادہ استعمال ہورہے ہیں کہ اب وہ اجنبی نہیں لگتے فارمولا ایسا ہی لفظ ہے سوشل میڈیا میں آج کل ایک فارمولا گردش کررہا ہے یہ تعمیرات کا نیا فارمولا ہے سوال یہ تھا کہ سرکاری تعمیرات سڑک،پل،سکول،دفتر اور ہسپتال کی بلڈنگ کا معیار کس طرح بہتر ہو انگریزوں کے زمانے میں بنائی گئی عمارت یا سڑک کے معیار پر آجائے یا کم از کم سوات میں والی صاحب کے دور کی سڑکوں اور عمارتوں کی طرح مضبوط،پائیدار اور خوب صورت ہو تعمیرات کے ماہرین اور سرکاری دفاتر کے طریقہ واردات سے واقفیت رکھنے والے’’عرفان اور سلوک‘‘کے ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ تعمیرات پر سنگ بنیاد رکھنے والے اور افتتاح کرنے والے کانام نہ لکھا جائے اس کی جگہ ٹینڈر کرنے والے افیسر اور کام کرنے والے ٹھیکہ دار کا نام یا فرم اور کمپنی کا نام لکھا جائے سرکاری منصوبہ اپنی تکمیل کے چھ ماہ یا ایک سال بعد بربادی سے دوچار ہوجائے عمارت میں دراڑیں پڑ جائیں چھت ٹپکنے لگے یا سڑک اور پل گرجائے تو ہر دیکھنے والا ٹینڈر کھولنے والے افیسر اور ٹھیکدار پر لعنت بھیجے اگر کسی اچھے حکمران کی حکومت ہو تو حکومت بھی ٹینڈر کرنے والے افسر اور ٹھیکہ دار کو پکڑے اس کا گھر نیلام کرکے منصوبے کو دوبارہ تعمیر کرائے جس طرح دستور ہے کہ فیس بک پر کوئی تجویز آجائے تو اس پر تبصرے بھی آجاتے ہیں اس تجویز پر بھی 800کے قریب تبصرے اب تک آچکے ہیں تجویز کو سب نے سراہا ہے ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق اس میں ایک آدھ جملے کا اضافہ کیا ہے چند انتہا پسند احباب نے رائے دی ہے کہ سڑک،پل یا عمارت برباد ہونے کی صورت میں ٹینڈر کھولنے والے افیسر اور ٹھیکہ دار کو اس مقام پر پھانسی گھاٹ بنا کر سرعام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کیلئے عبرت ہوایک صاحب نے رائے دی ہے کہ صرف ٹینڈر کھولنے والا کیوں؟تمام متعلقہ حکام کا نام لکھا جائے اور سب کو تختہ دار پر لٹکایا جائے کیونکہ ہمارا منتخب نمائندہ افیسروں کو ہر تیسرے مہینے تبدیل کرتا ہے اس کے مقابلے میں تجویز یہ ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے سے پہلے افیسروں کی تبدیلی پر پابندی ہونی چاہئیے غرض جتنے منہ اتنی باتیں ہمارے دوست سیدشمس النظر شاہ فاطمی کو ان میں سے جو تجویز پسند آئی وہ مشکل اور قدرے طوالت کا متقاضی ہے تجویز یہ ہے کہ منصوبے کی تختی بڑی ہونی چاہئے کم از کم دو گز لمبی اور سو گز چوڑی ہو تختی پر تعمیراتی محکمے کے ذمہ دار افیسر کے ساتھ ٹھیکہ دار کا نام مع ولدیت اور قبیلہ کے لکھا جائے اس کا مذہب بھی لکھا جائے پاکستانی مسلمان کے نام کے ساتھ جملہ لوازمات دیوبندی،بریلوی،شیعہ،سلفی وغیرہ بھی لکھے جائیں اس کے علاوہ منصوبے کی کل لاگت میں سے افیسروں کے کمیشن،ٹھیکہ دار کے منافع کے ساتھ دیگر چوریوں کا پورا حساب کتاب درج کیا جائے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے مثلا ایک کلومیٹر سڑک کی تختی پر درج ہوگا کہ کل مالیت ایک دو کروڑ روپے ، دفتری اخراجات کمیشن وغیرہ 80لاکھ روپے، ٹھیکہ دار کا منافع 60لاکھ روپے، افیسروں کے دورے، وزراء کے افتتاح ،سنگِ بنیاد وغیرہ کے اخراجات 20لاکھ روپے، اللہ کے نام پر صدقہ کے طور پر منصوبے پر دو کروڑ روپے میں سے جو رقم خرچ ہوئی وہ ہے مبلغ 40لاکھ روپے یہ ساری تفصیل منصوبے کی تختی پر آجائے اور اگر ممکن ہو تو آڈٹ فرم کی تصدیق بھی ساتھ ہو تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گاسسٹم ایسا
ہے کہ کل لاگت کا 20فیصد منصوبے پر خرچ ہوتا ہے باقی 80فیصد رقم ہوا میں اڑ جاتی ہے پراجیکٹ سائیکل منیجمنٹ کے آخری 5مراحل میں سے ہر مرحلے پر پیسہ خرچ ہوتا ہے مثلََا انتظامی منظوری کے لئے کمیشن دو، فنڈ ریلیز کرانے کے لئے کمیشن دے دو، ورک آرڈر لینے کے لئے کمیشن دیدو اور بل کی ادائیگی پر کمیشن دو تعمیرات کا نیا فارمولا کارگر ہے متعلقہ افیسر اور ٹھیکہ دار اپنی جان اور عزت بچانے کے لئے کم از کم کل لاگت کا 50فیصد منصوبے پر لگائے گا ورنہ کمیشن کا حجم بڑھتا جائے گا اور منصوبے پر خرچ ہونے والی رقم مزید کم ہوکر 10فیصد تک آجائیگی


error: Content is protected !!