تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ساجد اللہ ایڈوکیٹ کی طرف سے چترال کے تین منصوبوں کی تعمیر میں سست روی کی درخواست کو کورٹ پٹیشن میں تبدیل کرکے ریکارڈ اوررپورٹ طلب کئے

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ساجد اللہ ایڈوکیٹ کی طرف سے چترال کے تین منصوبوں کی تعمیر میں سست روی کی درخواست کو کورٹ پٹیشن میں تبدیل کرکے ریکارڈ اوررپورٹ طلب کئے

چترال ( نمائندہ چ) پشاور ہائی کورٹ نے صدر ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن چترال ساجداللہ کی طرف سے چترال کے تین منصوبوں بونی شندور اور یارخون روڈ ،بونی تور کہو روڈ میں مبینہ کرپشن ،بے ضابطگیوں اور لواری ٹنل اپروچ روڈ کی تعمیر میں سست روی سے متعلق درخواست کو کورٹ پٹیشن میں تبدیل کرکے 20فروری کو سماعت کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل کو 14دنوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ پٹیشن کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحی آفریدی اور جسٹس محمد ایوب پر مشتمل دو رُکنی بنچ نے کی ۔ بینچ نے صوبائی حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل قیصر علی کو متعلقہ متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد رپورٹ اور ریکارڈ آیندہ تاریخ پیشی میں پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ پیٹیشنرساجدا للہ ایڈوکیٹ اس کیس میں خود پیش ہوئے ۔ واضح رہے ۔ کہ ایڈوکیٹ ساجد اللہ صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو لکھے گئے اپنے ایک درخواست میں یہ استدعا کی تھی ۔ کہ بونی مستوج روڈ کی تعمیر میں کئی ٹھیکہ داروں کو قبل آزتعمیر آدائیگی کی گئی تھیں ۔ جن سے بعد آزان 49 کروڑ 91لاکھ ریکور کئے گئے ۔ اور وفاقی حکومت کی طرف سے دوبارہ فنڈ کے اجرا ء پر ٹینڈر ہونے سے تخمینہ لاگت 49کروڑ سے بڑھ کر 2ارب 32لاکھ تک پہنچ گئی ۔ جبکہ بونی تورکہو روڈ کی 27 کروڑ 29لاکھ سے بڑھ کر ایک ارب 10لاکھ تک پہنچ گئی ۔ یوں محکمانہ غفلت اور کرپشن کی وجہ سے ایک طرف تحصیل مستوج کے عوام سڑکوں کی سہولت سے محروم رہے ، دوسری طرف قومی خزانے کو بہت بڑا نقصان پہنچا اور نہ اس حوالے سے کسی کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں لائی گئی ۔ جس پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے اس درخواست کو کورٹ پٹیشن میں تبدیل کرکے سماعت کرتے ہوئے ریکارڈ اور رپورٹ طلب کئے ہیں ۔