تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> جی بی پروفیسر ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری، وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے کابینہ سے حلف لیا۔خصوصی رپورٹ

جی بی پروفیسر ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری، وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے کابینہ سے حلف لیا۔خصوصی رپورٹ

امیرجان حقانی دوسری بار ایسوسی ایشن کا پریس اینڈ انفارمیشن سیکرٹری منتخب۔جبکہ شریف اللہ کنٹریکٹ لیکچراروں کا نمائندہ مقرر۔
گلگت(خصوصی رپورٹ: امیرجان حقانیؔ سے) گلگت بلتستان پروفیسراینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ ۱۴ رکنی کابینہ سے وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے حلف لیا۔وزیرتعلیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسروں اور لیکچراروں کی تمام مطالبات جائز اور برحق ہیں۔ میں بھرپور کوشش کرونگا کہ ان کے مطالبات ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی حوالے سے بننے والوں پالیسوں اور اصول و ضوابط کی تیاری میں پروفیسروں کو شامل کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا ہمیں عالمی طور پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ مسائل زیادہ ہیں وسائل کم ہیں۔ گلگت بلتستان ریسرچ کے لیے ایک بہتر سنٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ریسرچ کی جاسکتی ہے تو پروفیسر صاحبان نوکری سے ہٹ کر بھی تحقیق اور ریسرچ کو اپنا شعار بنائے اور بھرپور پرفامنس دکھائے تاکہ ہم پروفیسروں کی بنائی ہوئی پالیسیوں اور تحقیق کو بنیاد بنا کر قانون سازی بھی کرسکیں اور مزید بہتری کی اقدامات بھی کرسکیں۔ تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب صدر پروفیسر ارشاد شاہ نے اپنے مطالبات دہرائے۔ انہوں نے کہا کہہمیں اپنی ذمہ داریوں کا خوب احساس ہے۔ ہم بخوبی ان کو نبھابھی رہے ہیں۔ ہمارے کچھ مطالبات ہیں کچھ مسائل ہیں ان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔کالجز میں بہترین نظام تعلیم پروان چڑھانے کے لیے ہمہ جہت کوششیں ضروری ہیں۔جس کے لیے داخلہ پالیسی کو از سرنو وضع کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے باقاعدہ مستقل کمیٹی تشکیل دی جائے۔تمام کالجز میں فیکلٹی ممبران کی کمی ہے جس کو پورا کرنا بہر صورت ضروری ہے۔ اور یہ ڈائریکٹریٹ اور ایجوکیشن سیکریٹریٹ کی اہم ذمہ داری ہے۔حالیہ دنوں میں محکمہ تعلیم گلگت بلتستان میں کریٹ ہونے والی اسامیوں میں پچاس فیصد کاکوٹہ کالجز کو دینا ہوگا۔۔کالجز کے پی سی فور کے مسائل فوری حل کے متقاضی ہیں۔ فیکلٹی ممبران کی پرموشن بھی ایک سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے اس کو بھی اصول و ضوابط کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔ کالجز کے لیے الگ سیکریٹریٹ، ریوائز فورٹائر، ہائی ٹائم ، ٹائم سکیل وغیرہ پر زور دیا۔سابق صدر پروفیسر راحت شاہ نے کہا کہ۔ جی بی کالجز میں BSپروگرامات شروع کیے جانے والے ہیں اس کے لیے بھی بہترین پالیسی میکنگ کی ضرورت ہے۔ اس پر کمیٹی تشکیل دے کر کالجز کے ممبران اور ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی لیے جائیں اور فیکلٹی ممبران کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو۔ حکومت کی طرف سے ایک پالیسی بنا کر جی بی کالجز کے فیکلیٹی ممبران کو ایم فل پی ایچ ڈی کرنے کی سہولت دی جانی چاہیے ۔نگران کابینہ کے صدر پروفیسر محمد رفیع نے کہا کہ وید ر پالیسی پر ہم حکومت وقت کے ممنون و مشکور ہیں۔ اس کو فوری نافذ العمل بنایا جانا ضروری ہے۔اور پروفیسروں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔پروفیسر ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر ارشاد احمد شاہ نے چودہ رکنی کابینہ کے انتخاب کا نوٹیفیکشن بھی جاری کیا۔ پہلی دفعہ گلگت اور بلتستان ریجن کے لیے الگ الگ سینئر نائب صدور کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ امیرجان حقانی کو دوسری دفعہ کے لیے ایسوسی ایشن کا پریس اینڈ انفارمیشن سیکرٹری تعینات کیا گیا جبکہ لیکچرار شریف اللہ کو کنٹریکٹ لیکچرار وں کا نمائندہ کے طور پر کابینہ میں شامل کیا گیا۔خواتین کے لیے بھی الگ نائب صدر اور جوائنٹ سیکرٹری کا تقرر کیا گیا۔نگران کابینہ کے جنرل سیکرٹری پروفیسر اشتیاق احمد یاد نے تمام مہمانوں کے اعزاز میں اختتامی کلمات تشکرکہے۔ تقریب میں گلگت بلتستان کے مختلف کالجز کے میل اور فی میل پروفیسروں کے علاوہ ڈایریکٹر کالجز پروفیسر منظور کریم اور دیگر اہم عہدہ داروں نے بھی شرکت کی۔


error: Content is protected !!