90

سب ڈویژن مستوج روڑ بند،حکومت ، مقامی نمایندگان اور ضلعی انتظامیہ چترال کے خلاف زبر دست نعرے بازی

چترال ( محکم الدین محکم) ریشن، شوگرام ،زیئت وغیرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی ڈگری کالج بونی کی طالبات نے اپنے ڈیڈ لائن کے مطابق جمعرات کی علی الصبح سے چترال مستوج روڈ بند کر دی ہے ۔ اُن کا مطالبہ ہے ۔ کہ فوری طور پر انہیں کالج آنے جانے کیلئے بس فراہم کیا جائے ۔ طالبات نے ریشن پُل کے پاس رامداس چوک میں اپنے احتجاج کا آغازچترال مستوج روڈ بند کرکے کیا ۔ اور حکومت ، مقامی نمایندگان اور ضلعی انتظامیہ چترال کے خلاف زبر دست نعرے بازی کی ۔ روڈ کی بندش سے بالائی چترال اور گلگت سے آنے والی اور چترال سے بالائی چترال جانے والی تمام گاڑیاں ریشن میں پھنس کر رہ گئے ہیں ۔ اور ہزاروں مسافر جن میں مرد خواتین ، بچے ، بیمار اور سرکاری ملازمین و کاروباری افراد شامل ہیں ۔ شدید مشکلات سے دوچار ہیں ۔ طالبات کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے ۔ کہ حکومت اُن کے مسئلے گذشتہ کئی سالوں سے توجہ نہیں دیتی ۔ اس لئے بس کی فراہمی کے بغیر وہ اُن کے کسی بھی بات پر اعتماد نہیں کرتے ۔ احتجاج میں درجنوں طالبات شامل ہیں ۔ جبکہ طالبات کے والدین کے علاوہ پھنسے ہوئے ہزاروں مسافر وں کا ایک جم غفیر یہاں موجود ہے ۔ طالبات نے تقریر کرتی ہوئی کہا ۔ کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ کہ اس جدید دور میں بھی کالج کی بچیوں کو روزانہ پچیس سے بتیس کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ اور مطالبہ کرنے پر ایم این اے ، ایم پی ایز ، صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وہ بس کی فراہمی سے کم کسی بھی بات پر اپنا احتجاج واپس نہیں لیں گی ۔ اور اپنی جان دے دیں گی ۔انہوں نے کہا ۔ گذشتہ دنوں ہم نے احتجاج کرکے حکومت کو تین دن کی ڈیڈ لائن دی تھی ۔ اور مقامی انتظامیہ نے تین دنوں کے اندر مسئلے کے حل کیلئے اقدامات کرنے کی یقین دھانی کے باوجود کچھ نہیں کیا ۔ جس پر انہیں مجبوراً روڈ پر نکلنے کی ضرورت پڑی ہے ۔ درین اثنا اسسٹنٹ کمشنر مستوج نے احتجاجی طالبات سے مذاکرات کئے ۔ جو کہ کامیاب نہ ہوسکی ہے ۔ چترال انتظامیہ اور اسمبلی ممبران کی طرف سے کوئی پیش رفت تا حال دیکھنے میں نہیں آئی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں