تازہ ترین
Home >> مضامین >> دادبیداد۔۔۔۔مینار پاکستان کا ایجنڈا۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

دادبیداد۔۔۔۔مینار پاکستان کا ایجنڈا۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مینار پاکستان پر لاہور کی تاریخ کا دوسرا بڑا جلسہ کرکے آنے والے الیکشن کیلئے اپنے گیارہ نکاتی منشورکا اعلان کیا ہے جس کو مینارپاکستان کا ایجنڈا کہا جاتا ہے کپتان نے 2013 ؁ء کے الیکشن سے پہلے بھی مینار پاکستان پر تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرکے اپنی پارٹی کو سونامی(Tsunami)کا نام دیا تھا جس طرح زرداری کا’’پاکستان کھپے‘‘مشہور ہوابالکل اسی طرح کپتان کا سونامی بھی مشہور ہوا تھا خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی واحد اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی تو غلام احمد بلور نے اس پر فقرہ چُست کیا تھا کہ ’’ سونامی خیبر کے پہاڑوں سے ٹکرا گئی‘‘ پہاڑوں سے ٹکرانے کے بعد سونامی کا جو حال ہوا سو ہوا نئی انتخابی مہم کی ابتدا سونامی کی جگہ 11نکاتی منشور سے ہوئی ہے عمران خان کی تقریر کو سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایجنڈا طویل مطالعے کا نتیجہ ہے اس میں گیارہ شعبوں کے کتابی علم کا نچوڑ دیا گیا ہے 2013ء کے الیکشن سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے مختلف شعبوں کے لئے ٹاسک فورس قائم کیا تھا ہر ٹاسک فورس نے اُس شعبے کے بارے میں تفصیلی سفارشات مرتب کر کے دیدیے تھے خیبر پختونخوا کا بلدیاتی نظام دیگر صوبوں سے الگ ہے تو اس کی بنیادی وجہ ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل کرنے کی کوشش تھی اگر ایک جملے میں گیارہ نکاتی ایجنڈے کا تعارف کرایا جائے تو اس کو ’’ کتابی ایجنڈا ‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے اس گیارہ نکاتی پروگرام میں حسب سابق تعلیم کوپہلی تعلیم کا درجہ دیا گیا ہے اس کے بعد صحت کے شعبے کا ذکر ہے پھر بلدیات کا نمبر آتا ہے پھر ماحولیات ، سرمایہ کاری،بیروزگاری کا خاتمہ، سیاحت ، قرضوں سے نجات، کرپشن کا خاتمہ ، نئے صوبوں کا قیام اور فاٹا کا انضمام اس ایجنڈے کے اہم نکات ہیں تعجب کی بات یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کا ذکر اس میں نہیںآیا پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک یعنی بد امنی اور دہشت گردی کا اس میں کوئی ذکر نہیں مسئلہ نمبر دو یعنی توانائی کے ذرائع پر کام کرنے کے حوالے سے کوئی پالیسی اس میں نظر نہیں آتی یہ بات سچ ہے کہ ملکی سیاست نے عمران خان کو گذشتہ 5سالوں کے اندر خیبر پختونخوا میں حکومتی اصلاحات پرتوجہ دینے کی مہلت نہیں دی بہترین بلدیاتی نظام کا خاکہ دیا گیا تھا جو صوبے میں کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکا ایک ستم ظریف نے دلچسپ مکالمہ سوشل میڈیا پر دیا ہے ایک شخص پوچھتا ہے ہمارے صوبے کا مثالی بلدیاتی نظام کدھر ہے ؟ دوسرا جواب دیتا ہے بلین ٹری سونامی کے جنگل میں ہے پہلا شخص پوچھتا ہے یہ جنگل کہاں ہے ؟ دوسرا شخص کہتا ہے 350ڈیموں کے آس پاس موجود ہے ، پہلا شخص کہتا ہے 350ڈیم کدھر ہیں ؟ دوسرا شخص کہتا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے مینار پاکستان پر عمران خان نے جس 11نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے جب عمران خان نے مینار پاکستان پر جلسے کی تاریخ دی اور جلسے میں اہم اعلان کرنے کا عندیہ دیا تو خان صاحب کے مداحوں نے اپنی توقعات کا شیش محل تیا ر کیا تھا اس شیش محل کے چار ستون تھے خارجہ محاذ پر امریکہ کے ساتھ دوستی کی جگہ روس اور چین کے ساتھ تعلقات کی نئی پالیسی دی جائے گی کیونکہ پاکستان کی 98فیصد آبادی امریکہ کو پسند نہیں کرتی داخلی محاذ پر بدامنی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے سرسری سماعت کی عدالتیں ، روزانہ سینکڑوں دہشت گردوں کو پھانسی دینے کے ساتھ پر امن شہری بننے کے خواہشمند دہشت گردوں کے لئے انڈونیشیا کے طرز پر معاشی مراعات کی فراہمی پر زوردینے کی پالیسی چاہیئے توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لئے پن بجلی کے چار بڑے منصوبے لانے اور کالا باغ ڈیم بنانے کا دو ٹوک اعلان ہونا چاہیئے تھا صرف کالا باغ ڈیم کی شہ سرخی اخبارات میں آجاتی تو پورے ملک میں ہلچل مچ جاتی بڑے سرکاری اداروں مثلاََ پی آئی اے، واپڈا ، ریلوے ، سٹیل ملز، اوجی ڈی سی وغیرہ کی فوری نجکاری کا نکتہ اس نوعیت کے شیش محل کا چوتھا ستون تھا اگر عمران خان نجکاری کی پالیسی کا اعلان کرتے تو اس کا خوشگوار تاثر ابھرتا اوراس کو انقلابی منشور کا درجہ مل جاتا اگرچہ ہمارے توقعات کا شیش محل مسمار ہوا تاہم گیارہ نکاتی ایجنڈا پاکستان کی تاریخ کے اہم نکات میں جگہ پاچکا ہے شیخ مجیب نے 6نکات دیئے تھے محمد خان جونیجو نے قوم کو 7نکاتی ایجنڈا دیا تھا عمران خان نے گیارہ نکات پیش کر کے ’’ نکات ‘‘ کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا ہے ایک دوست کا کہنا ہے عمران خان کا گیارہ نکاتی فارمولا احسن اقبال کے وژن 2025ء کا موثر جواب ہے وہ بھی کتابی منصوبہ تھا یہ بھی کتابوں کے مطالعے کا نچوڑ ہے زمینی حقائق اور قومی تقاضوں سے نہ اُس کا تعلق تھا نہ اِس کا تعلق ہے کتابوں میں ہمیشہ اچھی باتیں لکھی جاتی ہیں مگر ضروری نہیں کہ ہر ’’ اچھی بات ‘‘ زمین پر بھی موجو د ہو مجھے رہ رہ کر ناصر کاظمی کا شعر یاد آرہا ہے ؂
وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
میرا علاج میرے چارہ گر کے پاس نہیں


error: Content is protected !!