تازہ ترین
Home >> مضامین >> دادبیداد۔۔۔۔ڈرگ رولز میں ترمیم۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

دادبیداد۔۔۔۔ڈرگ رولز میں ترمیم۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

ڈرگ رولز میں ترمیم نے پورے صوبے میں ہلچل مچائی ہے ملاکنڈ ڈویژن میں ادویات کے تھوک اور پرچون کاروبار سے وابستہ برادری نے 3دنوں کی ہڑتال سے 9اضلاع کو ہلاکر رکھ دیا ہسپتالوں میں دوائیں ختم ہوگئیں فارما سیوٹیکل کمپنیوں کو 3دنوں میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ، مریضوں کو تکلیف ، اذیت اور پریشانی ہوئی بعض حلقوں نے کیمسٹ اینڈڈرگسٹ ایسو سی ایشن کو ملامت کا ہدف بنایا بعض لوگوں نے عطائیت اور دو نمبر دواؤں کے کاروبار کا ذکر کیا لیکن حقیقت میں نہ عطائیت کا دخل تھانہ دو نمبر دواؤں کے کاروبار کا دخل تھا یہ صوبائی حکومت کو انتخابات کے نازک موقع پر گھمبیر مسئلے کے اندر پھنسانے کی شازش تھی جو ایک سال پہلے تیار کی گئی اور انتخابات کے اعلان سے ایک ماہ پہلے اس کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت منظرعام پر لایا گیا۔دواؤں کے کاروبار کو جدید خطوط پر منظم کرنے کے لئے حکومت کو دو اہم کام کرنے تھے دونوں کی بروقت نشان دہی کی گئی تھی خیبر پختونخوا میڈیکل فیکلٹی کے ٹریننگ اور امتحانات کا منظم طریقہ وضع کر کے فیکلٹی کو فعال ادارہ بنانا ضروری تھا خیبر پختونخوا فارمیسی کونسل کی تنظیم نو کر کے اس کو امتحانات اور سرٹیفیکیٹ کا فعال ادارہ بنانا چاہیئے تھا مگر ایسا کرنے میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کے مخصوص مفادات کو نقصان پہنچتا تھا اس میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور سیاست دانوں کی دلچسپی نہیں تھی اس لئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو اندھیرے میں رکھ کر 9 مئی 2017ء کو ڈرگ رولز 1976ء میں نا جائز اور ناروا ترمیم کروائی گئی 1976ء میں میٹرک سائنس پاس کرنے والے اُمیدوار نے ٹریننگ کی اس کا امتحان ہوا 1978ء میں ا س کو کٹیگری ’’سی‘‘ کا لائسنس ملا 40سالوں سے وہ پرچون دواؤں کا محتاط کاروبار کر رہا ہے ڈرگ رولز میں ترمیم کے ذریعے اس کا 40سالہ کاروبار بند کیا جارہا ہے اس کو کہا جارہا ہے کہ 58سال کی عمر میں تم نیا امتحان دیدو اور کٹیگری ’’ بی ‘‘ کا لائسنس لے لو اس طرح 1955ء میں ڈسپنسر کا امتحان پاس کر کے سرکاری ملازمت لینے والوں نے 1986ء میں ریٹائرمنٹ لے کر کٹیگری ’’سی‘‘ کا لائسنس حاصل کیا اب ان کی عمریں 80سال سے اوپر ہیں اُن کا لائسنس منسوخ کر کے اُن سے کہا جارہا ہے کہ جاؤ کٹیگری ’’ بی‘‘ کا امتحان دیدو ان میں سے اکثریت نے گریڈ 16میں چیف ڈسپنسر کے عہدے پر کام کیا ہے وہ امتحان دینے کیلئے اس عمر میں بھی تیار ہیں مگر محکمہ صحت اورفارمیسی کونسل کے پاس امتحان کا سسٹم نہیں ہے گذشتہ 5سالوں میں ایک بھی امتحان نہیں ہوا آخری امتحان 2013ء میں ہوا تھا وہ بھی 10سال بعد ہوا 1976ء سے 1986ء تک امتحانات باقاعدگی سے ہوتے تھے 1986ء کے 17سال بعد 2003ء میں فارمیسی کے امتحانات ہوئے، پھر 2013ء ہوئے اگر موجودہ حکومت حکم دیتی تو گذشتہ 5 سالوں میں 5بار امتحانات منعقد ہوسکتے تھے مگر اعلیٰ حکام کی دلچسپی نہیں تھی حکام ایک لاکھ 26ہزار شہریوں کو براہ راست متاثر کر کے روزگار اور کاروبار سے محروم کرنا چاہتے تھے 4لاکھ افرادی قوت کو بالواسطہ روزگار سے محروم کرکے حکومت کیلئے مسئلہ پیدا کرنا چاہتے تھے اس میں وہ کامیاب ہوئے اس وقت کے پی فارمیسی کونسل کے پاس دو رجسٹرڈ کالج ہیں ان میں کل سیٹوں کی تعداد 180ہے امتحان کا کوئی شیڈول نہیں ہے جن لوگوں سے دوبارہ امتحان دینے کا تقاضا کیاجاتا ہے ان کی تعداد 18ہزار سے اوپر ہے اوریہ ظالمانہ قانون ہے جس کا زمینی حقائق اور وقت کے تقاضوں کیساتھ کوئی تعلق نہیں قانون کا یہ بنیادی اصول ہے کہ قانون کے نفاذ سے پہلے جو لوگ سابقہ قانون کے تحت کام کرتے تھے ان کو تحفظ دیا جاتا ہے قانون کا اطلاق 40سال پہلے کے لائسنس پر نہیں ہوتا قانون کے نفاذ کے بعد نیا لائسنس اس قانون کے تحت جاری ہوتاہے مگریہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے ڈرگ رولز میں ترمیم کر کے 9مئی 2017ء سے جو دیگر قوانین لائے گئے ہیں ان پر کسی کو اعتراض نہیں مثلاََ رجسٹریشن فیس کو 750روپے سے بڑھا کر 6000/-روپے کردیا گیا ہے رینیول فیس کو 500/-روپے سے بڑھا کر 2000/-روپے کر دیا گیا ہے سائن بورڈز کے رنگ مقرر کئے گئے ہیں پرچون فروش کیلئے سبز رنگ ، تھوک کاروبار کیلئے نیلا رنگ اور فارماسسٹ کیلئے سفید رنگ رکھاگیا ہے سرِ دست وزیر اعلیٰ کے مشیر شکیل خان کے ساتھ طویل مذاکرات اور یقین دہانیوں کے بعد ہڑتال ختم کی گئی ہے میڈیکل سٹور عارضی طورپر مشروط طریقے سے کھول دیئے گئے ہیں تاہم مسئلے کا مستقل حل یہ ہے کہ 9مئی 2017ء سے پہلے جو لوگ کٹیگری ’’ سی‘‘ کے لائسنس بذریعہ فارم 9پرچون فروش اور فارم 10تھوک فروش کے تحت کاروبار کرتے تھے ان کو تحفظ دیا جائے 2018ء کے بعد فارمیسی امتحانات ہر سال منعقد کئے جائیں فارمیسی کالجوں کی تعداد بڑھاکر سیٹوں میں اضافہ کیاجائے فارمیسی کونسل اور میڈیکل فیکلٹی کو منظم فعال ادارہ بنایا جائے عطائیت اور دو نمبر دواؤں کے کاروبار میں ملوث بڑے مگر مچھوں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے ورنہ ڈرگ رولز میں ترمیم کو بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کا بہانہ قرار دیا جائے گا جو حکومت کے مفاد میں ہر گز نہ ہوگا


error: Content is protected !!