تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> ضلع کونسل چترال کے اجلاس میں جشن شندور کے تمام انتظام و انصرام کو ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے حوالے کرنے کا مطالبہ،اپرچترال میں غیر اغلانیہ لوڈ شیڈنگ پر تشویش

ضلع کونسل چترال کے اجلاس میں جشن شندور کے تمام انتظام و انصرام کو ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے حوالے کرنے کا مطالبہ،اپرچترال میں غیر اغلانیہ لوڈ شیڈنگ پر تشویش

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال نیوز) ضلع کونسل چترال کے اجلاس میں جشن شندور کے تمام انتظام و انصرام کو ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاگیاکہ مقامی انتظامیہ کو انتظامات تفویض نہ ہونے کی صورت میں سیاحوں اور مقامی شائقین پولو کا اس میں دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔منگل کے روز کنوینر مولانا عبدالشکور کے زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں اراکین نے اس بات پر زور دیاکہ گزشتہ کئی سالوں سے شائقین کے ساتھ ناجائز سلوک روا رکھا جارہا ہے جس کی وجہ سے فیسٹول اپنی کشش کھور ہی ہے جبکہ 1980ء کے عشرے سے جشن شندور کا انتظام ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نہایت کامیابی سے کرتی آرہی تھی ۔ اجلاس میں اے ڈی پی فنڈ کی اجراء میں غیرمعمولی تاخیر ، گولین گول ہائیڈرو پاؤر اسٹیشن سے بجلی کی فراہمی میں بے قاعدگی سے صارفین کودرپیش مشکلات، لواری ٹنل کی غیر ضروری بندش، ریور بیڈ اور نیشنل پارک پر تجاوزات کی بھر مار، ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام ملکی کپ پولو ٹورنامنٹ پر تحفظات، ڈیزاسٹرفنڈز جاری نہ کرنے سے پیدا شدہ مشکلات اور دوسر ے امور زیر غور آئے۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ صوبائی حکومت نے جس کمزور اور بے مغنی بلدیاتی نظام صوبے میں رائج کردی ہے، اس کا خمیازہ اسے آنے والے الیکشن میں بھگتنا پڑے گاکیونکہ منتخب بلدیاتی نمائندے ضلع ناظم سے لے کر ویلج کونسلر تک سب اس نظام کے ہاتھوں بے دست وپا ہیں اور ہر ضلع میں ان کا سرکاری افسران کے ساتھ اختیارات کے تنازعے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈیزاسٹر 2015ء سے متاثرہ انفراسٹرکچروں کی بحالی کے لئے فنڈز کو غیر ضروری طور پر روکے رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اور اس میں خود وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ملوث ہیں جبکہ ضلع کونسل کے ممبران نے اپنے اپنے علاقوں میں سہولیات کی بحالی کی ادائیگی کرانے کے لئے در بدر کی ٹھوکر کھاتے پھر رہے ہیں۔ ضلع ناظم نے کہاکہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے زیر اہتمام انرجی ڈیپارٹمنٹ کی قیام پر کام جاری ہے تاکہ یہاں پن بجلی کی پیدوار کے تمام ممکنہ صورتوں سے استفادہ کیا جاسکے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ضلعی گورنمنٹ ترقیاتی فنڈز میں خود کفیل ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ بلچ میں ریور بیڈ اور چیو ڈوک میں نیشنل پارک کی زمین پر تجاوزات کے خلاف ایکشن لینے کے سلسلے میں تمام پہلوؤں پر کام کیا جارہا ہے تاکہ ایسی ٹھوس قدم اٹھایاجاسکے کہ مبنی برحقیقت ہو اور اسے چیلنج نہ کیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ ضلعی حکومت کوئی کام اس ایوان کی منظوری اور ارکان کی مرضی کے بغیر نہیں کیا اور ملکی کپ پولو ٹورنامنٹ کے لئے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے فنڈز کی فراہمی پر اگر اراکین کو اعتراض ہوتو اسے روک دیا جائے گا۔ اس سے قبل مولانا عبدالرحمن (برنس )نے کوہ کے علاقے میں بجلی کی روزانہ 16گھنٹے غیر اغلانیہ لوڈ شیڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا اورکہاکہ گولین گول بجلی گھر چوبیس گھنٹہ چالو ہے لیکن کوہ میں صارفین کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کاسامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال بونی روڈ نہایت خستہ حالت میں ہے لیکن سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کو بار بار توجہ دلانے کے باوجود کوئی بہتری نہیں آئی۔ ریاض احمد دیوان بیگی نے چترال پولو گراونڈ میں جاری ملکی کپ پولو ٹورنامنٹ کے موقع پر ممبران ضلع کونسل کے ساتھ اے سی چترال کی ایما پر چترال لیویز کے اہلکاروں کی طرف سے بدسلوکی پر شدید احتجاج کیا جبکہ انہوں نے تجاوزات کے خلاف سخت قدم اٹھانے کے لئے متعلقہ حکام کو توجہ دلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے ڈسٹرکٹ سپورٹس افسر کی طرف سے تین لاکھ روپے اپنی مرضی سے خرچ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ الحاج رحمت عازی نے ملکی کپ ٹورنامنٹ اور سپورٹس فنڈز کی تقسیم سمیت فارسٹ رائلٹی کی تقسیم کے طریقہ کار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ غلام مصطفٰی ایڈوکیٹ (کوشٹ ) نے ڈیزاسٹر فنڈز کی اجراء میں تاخیر کی مذمت کی اور محمد یعقوب (کریم آباد) نے بھی ضلع کونسل کے ارکان کو ان کے جائز مقام دینے کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کی اور پولو گراونڈ میں ممبران ضلع کونسل کے غیر شائستہ سکوک کی مذمت کی۔ مولانا جمشید احمد (چترال ون) نے بھی چترال میں ریسکیو 1122 اور لاوی ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ میں غیرمقامی افراد کی بھرتی اور معمولی اسامیوں پر بھی مقامی افراد کو نظر انداز کرنے کی شدید مذمت کی۔ شیر محمد (شیشی کوہ) نے ایک قرارداد کے ذریعے جنگلات کی رائلٹی کو مروجہ طریقے سے تقسیم کرنے اور جے ایف ایم سی کو ان بورڈ لینے پر زور دیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔مفتی محمود الحسن (دروش ون)نے ایک قرارد اد کے ذریعے میں تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش میں لیڈی ڈاکٹر کو ہسپتال کے قریب کلینک چلانے پر پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ڈی ایچ او کی طرف سے کلینک کی بندش سے شدید مشکلات پیش آرہی ہے۔


error: Content is protected !!