تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> چترال یونیورسٹی کے زیر اہتمام پولیٹکل پارٹی منشور برائے الیکشن 2018اور چترال کی ترقی کے موضوع پر چترال یونیورسٹی میں ایک روزہ سمینار

چترال یونیورسٹی کے زیر اہتمام پولیٹکل پارٹی منشور برائے الیکشن 2018اور چترال کی ترقی کے موضوع پر چترال یونیورسٹی میں ایک روزہ سمینار

چترال(رپورٹ شہریار بیگ) چترال یونیورسٹی کے زیر اہتمام پولیٹکل پارٹی منشور برائے الیکشن 2018اور چترال کی ترقی کے موضوع پر چترال یونیورسٹی میں ایک روزہ سمینار منعقد ہوا۔جس کے مہمان خصوصی چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائیریکٹر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری تھے۔سمینار میں PTI,PPP,APML,JUIاورجماعت اسلامی کے ضلعی سربراہان نے شرکت کی۔اس موقع پر PPPکے عالمذیب ایڈوکیٹ نے اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُنہوں نے اس ملک کو 1973کا متفقہ اسلامی آئین دیا۔ خوشحال پاکستان کا منشور لے کر وجود میں آیا تھا۔PPPنے ہمیشہ اپنے منشور پر چلنے کی کوشش کی تو اس کے راہ میں روڑے اٹکائے گئے اور امریت مسلط کی گئی۔PPPچترال میں سب سے پہلے جوجوانوں کو ڈگری کالج اور شہید بے نظیر بٹھو یونیورسٹی جبکہ صحت کے شعبے میں DHQہسپتال اور گاؤن گاؤن ہسپتالیں قائم کی۔لواری ٹنل کا سوچ بھی ہماری پارٹی کا تھا۔تعلیم،صحت،کمیونیکیشن،ٹورزم کی ترقی اور خواتین کو با اختیار بنانا ہمارے منشور میں میں شامل ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر عبد اللطیف نے خطاب میں کہا کہ معیاری تعلیم ہماری پہلی ترجیح ہے۔جس کا ثبوت چترال یونیورسٹی کا قیام ہے۔صوبائی حکومت نے تعلیمی بجٹ میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ہم ایک پاکستان چاہتے ہیں جس میں غریب اور آمیر کے لئے یکسان قانون لاگو ہو انصاف کے بغیر کوئی ملک نہیں چل سکتا لوگوں کو سستا انصاف دین گے اور کرپشن کا خاتمہ کریں گے۔تباہ حال اداروں کو بحال کریں گے۔JIکے امیر مولانا جمشید نے کہا کہ ہمارا منشور وہی ہے جو آقائے نامدار حضرت محمد مصطفٰی ﷺنے چودہ سو سال پہلے پیش کیا تھا۔اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام بر سر اقتدار آکر ملک میں عادلانہ نظام نافذ کریں گے جس میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو گی۔ JUIکے مولانا حسین احمد نے کہا کہ روئے زمین پر بسنے والا انسان اللہ کا خلیفہ ہے۔اللہ کا دیا ہوا نظام ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔میثاق مدینہ کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔قرآن و سنت پر عمل ہی کامیابی کی دلیل ہے۔ال پاکستان مسلم لیگ کے ضلعی صدر سلطان وزیر نے کہا کہ جب تک عسکریت پسندی کو ختم نہیں کیا جا سکتا امن نہیں آسکتا جب امن نہیں ہو گا تو ترقی کی راہیں بند ہوتی ہیں۔مذہبی منافرت پھیلانے والے گروہوں ،رسائل اور عبادت گاہوں کے منفی استعمال پر پابندی ہو۔تعلیم ،صحت،زراعت،غربت کا خاتمہ،کھیلوں کا فروع ،قدرتی وسائل کی تحفظ اور بہتر استعمال ہمارے منشور کا حصہ ہیں۔یونیورسٹی کے شغبہ پولیٹکل سائنس کے پروفیسر بشارت نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ چترال اب تک ترقی کی مناسب منزلیں طے نہ کر سکا۔چترال اپنے جعرافیائی لحاظ سے اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے کہ پاکستان گزشہ 70سالوں سے مٹی پاؤ پالیسی پر گامزن ہے۔سوشل اکنامک ڈولپمنٹ پروگرام کے زریعے ہم چترال کی ترقی بہت جلد ترقیاتی انقلاب لائیں گے۔تقریب کے مہمان خصوصی پراجیکٹ ڈائیریکٹر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تقریب کے انعقاد کا مقصد چترال کے سیاسی قائیدین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر آپس کے چپقلش کو دور کرنا اور قومی مسائل کا حل تلاش کرنا اور یونیورسٹی طلبہ طالبات میں جھجک کو دور کرنا ہے۔ بعد ازان شرکاء جن میں یونیورسٹی فیکلٹی ممبران،پروفیسرز اور پولیٹکل سائینس کے طلبہ طالبات شامل تھے سیاسی قائدین سے سوالات کئے جنہوں نے جوابات دئیے اس موقع پر سٹیج سکریٹری کے فرائض پروفیسر ساجد نے انجام دی


error: Content is protected !!