57

باغی اور بغاوت۔۔۔ایم سرورصدیقی

OOO آخرکار مخدوم جاویدہاشمی ایک بار پھر مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے شمولیت شاید اتنا مناسب لفظ نہیں دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتاہے وہ واپس اپنے گھر چلے گئے بلاشبہ مخدوم جاوید ہاشمی ایک شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک تاریخ کا نام ہے ۔بنگلہ دیش نامنظور تحریک سے اب تلک بہت سے اعزازات ان کامقدر بنے وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے اور شاید آخری قومی رہنما ہیں جو 2بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف کے صدر کے عہدے پر فائز رہے انہوں نے جب مسلم لیگ ن کو چھوڑکرتحریکِ انصاف میں جانے کافیصلہ کیا کارکنوں کی آہ وبکا اور بیگم کلثوم نواز کے آنسو بھی نہ روک سکے یہ میاں نوازشریف کیلئے ایسا دھچکا تھا جس کی کسک کارکن کافی عرصہ تک محسوس کرتے رہے۔ میاں نواز شریف کے برے وقت کے ساتھی مخدوم جاویدہاشمی نے جس انداز مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف کو چھوڑا کارکنوں کی اکثریت نے اسے پسند نہیں کیا ۔ایک بڑا لیڈرہونے کے باوجود باغی کی شخصیت میں واضح تضادنظر آتا رہا وہ مسلم لیگ ن میں تھے تو انتہائی مضطرب۔روٹھنا منانا لگارہا ۔پھرتحریکِ انصاف میں شامل ہوگئے لیکن ایک دن انہوں نے یہ کہہ کر سب کو حیران پریشان کرڈالا کہ میرا لیڈر میاں نوازشریف ہے جس نے بھی سنا ششدر رہ گیا شاید یہ ان کے اندرکا پچھتاوا تھا جو مسلم لیگ ن چھوڑنے کے باعث آہستہ آہستہ ان کے دل و دماغ پر گھر کرگیاتھاپھر انہوں نے یہ بھی کہا مجھے سب سے زیادہ عزت عمران خان نے دی پھر اسی پر الزامات کی بوچھاڑ کرڈالی۔پاکستان میں جمہوریت کیلئے سب سے بڑی قربانی مخدوم جاوید ہاشمی نے دی جس کا اعتراف سب کرتے ہیں ۔کوئی نہ بھی کرے تب بھی یہ ایک ایسی سچائی ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ڈکٹیٹرکے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر استقامت سے ڈٹ جانے والی شخصیت مخدوم جا وید ہاشمی کو کون نہیں جانتا۔ پرویز مشرف کی چھتری تلے قائم ہونے والی ق لیگ کے دو رِ حکومت میں مخدوم جا وید ہاشمی کو غداری کے مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا اور ’’بغاوت ‘‘ کے الزام میں 5 سال قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں لیکن انہوں نے آمریت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کیا جیل کے دوران مخدوم جاوید ہاشمی کی لکھی کتاب ’’میں باغی ہوں‘‘ نے بہت شہرت حاصل کی ۔مفاہمتی سیاست کے دوران مسلم لیگ ن نے جب زرداری گورنمنٹ میں وزارتیں لینے کا فیصلہ کیا تو مخدوم جا وید ہاشمی واحد سیاستدان تھے جنہوں نے کسی بھی اندازمیں جنرل پرویز مشرف سے حلف لینے سے انکار کردیا اور اصولوں کی خاطروفاقی وزیر بننا قبول نہ کیاآج کی حکمران جماعت کے کئی رہنماؤں نے بازوؤں پر سیاہ پٹی باندھ کرپرویزمشرف سے حلف لے لیا وہ اپنے غیرت مندہیں کہ پھر بھی آئے روز مشرف کے خلاف بیان داغ رہے ہیں ۔خیربات ہورہی تھی مخدوم جا وید ہاشمی کی جنہوں نے بھرپور سیاسی جدوجہدکی لیکن ان کے انجام پر کئی لوگ ازردہ،افسردہ ہیں۔ عام لوگوں کا خیال ہے ان سے کئی سیاسی غلطیاں بھی سرزدہوئیں پہلی بات تو انہیں مسلم لیگ ن کوہی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔تحریکِ انصاف میں شامل ہوئے تھے تو قیادت سے اختلافات کے باوجود انہیں ڈٹ جانا چاہیے تھا پارٹی میں رہ کر اصلاحِ احوال کی کوشش کرتے رہنا ضروری تھا۔باغی کوڈی چوک سے آگے پا رلیمنٹ کے سامنے جانے پر اعتراض تھا جب دھرنا وہاں سے واپس آگیا تو اصولی طورپر ان کا اعتراض دور ہوگیا ۔ شوکاز نوٹس ملنے پر بھی انہیں پارٹی نہیں چھوڑنی چاہیے تھی اپنی ناراضی کااظہارکرکے موجودہ معاملات سے لاتعلق ہو جاتے تو ان کا سیاسی وزن قائم رہتا اوران کی ذات کا ایک بھرم بنارہتا لگتاہے مخدوم جاویدہاشمی نے اپنی زندگی کے تمام اہم فیصلے کرنے میں جلدبازی سے کام لیا عقل کے فیصلے جذبات سے کرنے کا یہی نتیجہ نکلتاہے انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک تاریخی خطاب کیا جس کی بازگشت ہمیشہ گونجتی رہے گی انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ تو دے دیا تھا اپنی زندگی کے عروج کے دوران بھریا میلہ چھوڑکر دوبارہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ نہ کرتے تو تاریخ میں امر ہو سکتے تھے علالت، مخالفت نامناسب انتخابی مہم اور ناموافق حالات کے پیشِ نظرمخدوم جا وید ہاشمی کا دوبارہ عوام کی عدالت میں جانے کا فیصلہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی بن کر سامنے آیا جس کے اثرات یہ نکلے کہ وہ عام سے کارکن سے الیکشن ہار گئے۔بعض لوگوں کا خیال ہے مخدوم جا وید ہاشمی ٹریپ ہوگئے دھرنے ناکام بنانے کیلئے ان کو استعمال کیا گیا اور اس کوشش میں حکومت تو بچ گئی لیکن’’ عزتِ سادات ‘‘نہ بچ سکی یہ تو خدا ہی بہتر جانتاہے کہ اندرکی کیا کہانی ہے؟ منظر ،پیش منظر،پس منظر کیا تھا؟محرکات اور سیاق و سباق کیا تھے؟ کبھی نہ کبھی یہ حقیقت منظرِ عام پر ضرور آئے گی تو یقیناًتہلکہ مچ جائے گابہرحال حالات جو بھی ہوں۔سیاستدانوں کی رائے جو بھی سامنے آئے کئی لوگوں کو یقین ہے ایک نہ ایک دن یقیناًجمہوریت کی سربلندی کیلئے مخدوم جاوید ہاشمی کی قربانیوں کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا سچی بات یہ ہے کہ وقت گذرجاتاہے لیکن کردار زندہ ہمیشہ رہتاہے یہ کردار ہی ہے جو مستقبل میں لوگوں کی رہنمائی کرتاہے اسی سے مؤرخ فیصلہ کرتے ہیں کس نے کیا فائدہ لیا۔ اور۔قربانیاں دینے والے کون ہیں؟ ۔ اپنی گراں قدر خدمات سے نئی تاریخ لکھنے اور تاریخ پر احسان رقم کرنے والوں کی چرچا کرنا ہم سب پر فرض ہے آمریت کی چوکھٹ پر سجدہ ریزہونے سے انکار جرأت کا بہت بڑا اظہارہے پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ ہم ان تمام رہنماؤں کی قربانیاں یادرکھیں جنہوں نے اپنی زندگی اس قوم کے نام کردی یہ لوگ فرشتے نہیں ہیں ان سے بھی غلطیاں، کوتاہیاں سرزد ہوئی ہوں گی ان کو درگذرکردینا چاہیے مجموعی طورپر ان تمام سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں ، ججز یا دیگر شخصیات جنہوں نے ماضی میں آمریت کے خلاف مزاحمت کی،قربانیاں دیں قیدو بند کی مشکلات سے دو چارہوئے ان سب کو ہر قسم کے تعصبات اور امتیازسے بالاترہوکر ان کی خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کیا جائے اوران کو مراعات،اعزازات اور تمغ�ۂ جمہوریت سے نوازا جائے حکومتی سطح پر ایسا کرنے سے لوگوں کو جمہوریت سے دلی لگاؤ محسوس ہوگا اس اقدام سے جمہوریت مزید مضبوط ہوگی سیاسی پسند نہ پسند سے قطع نظر ڈکٹیٹروں کے سامنے ڈٹ جانے والوں اور جمہوریت کیلئیقربانیاں دینے والوں کو قومی ہیروقراردیا جائے۔ان کی خدمات کو عام آدمی تک اجاگرکیا جائے اس کیلئے ایک قومی ادارے کے قیام ناگزیرہے ۔۔آمریت کے سامنے ڈٹ جانے والوں کی تصاویر پاکستان کی پانچوں صوبائی اسمبلیوں،پارلیمنٹ اور سینٹ بھی آویزاں کی جائیں۔نوابزادہ نصراللہ خان کو کئی الیکشن ہارنے کے باوجود بابائے جمہوریت کہا جاتاہے کچھ لوگ مخدوم جاویدہاشمی کو بھی بابائے جمہوریت قرار دے رہے ہیں اس ملک میں باغی ایک ہے۔جاوید ہاشمی ایک ہے اور تاریخ بتاتی ہے باغیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتاہے جیسے ملتان والوں نے گذشتہ دنوں کیا بہرکیف باغی کو مشورہ ہے اب لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ،عمران خان پر تنقید یا دھرنوں کی کہی ان کہی کہانیاں دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں مزید اپنی جگ ہنسائی کرنے اور کروانے کی بجائے وہ میاں نوازشریف کے قریب ہیں تو انہیں سمجھائیں،حالات کی نزاکت کااحساس دلائیں بہرحال’’ باغی ‘‘ ایک بار پھر سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے لئے آگے آناچاہیے ان کیلئے ان جیسے رہنماؤں کو مسلسل برسرِپیکار رہنا چاہیے ایک تو جھپٹا ،پلٹنا۔ جھپٹ کر پلٹنا لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہے ویسے بھی سیاست میں اب مخدوم جا وید ہاشمی جیسے لوگ خال خال ہی رہ گئے ہیں صدیوں پہلے عظیم فلاسفر افلاطون نے کہا تھا اچھے لوگوں کا سیاست سے کنارہ کش ہونے کا مطلب ہے کمتر لوگ ان پر حکومت کریں غورکریں ۔۔سوچیں اور سوچ کرجواب دیں کیا افلاطون کا کہا سچ ثابت نہیں ہورہا؟

Print Friendly, PDF & Email