115

الیکشن کمیشن کی اس اعلان نے چترال کے طول وعرض میں عوام میں صف مایوسی بچھادی ؍ایم پی اے سیدسردارحسین شاہ

چترال (ڈیلی چترال نیوز) ممبر صوبائی اسمبلی کے سید سردار حسین شاہ چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کو کسی دوسرے ضلعے کو منتقل کرنے کے فیصلے چترال عوام کے ساتھ سراسرزیاتی قراردیتے ہوئے بھرپورتحریک چلانے کااعلان کیا۔انہوں نے ضلع چترال کے دوسری سیاسی ومذہبی جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ 8 مارچ 2018 کو پشاور میں ہونے والے ایک آل پارٹی اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیاگیا تھا کہ اگر چترال کی سیٹ بحال نہیں کی گئی تو الیکشن 2108 کا بائیکاٹ کریں گے۔مگربعض سیاسی رہنماؤں نے سیٹ بحالی کے سنگین مسئلے کوچھوڑکرپارٹی ٹکٹوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ چترال کی جغرافیائی حیثیت، پسماندگی اورعلاقے کی وسعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہاں نہ صرف صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کو بحال رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ اس سیٹ میں اضافہ بھی ناگزیر ہے جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے اس اعلان نے چترال کے طول وعرض میں عوام میں صف مایوسی بچھادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ظالمانہ فیصلے سے چترال مزید پسماندگی کی طرف جائے گی اور چترال کے غیور عوام اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے حالیہ مردم شماری کومستردکرتے ہوئے کہاکہ چترال کی آبادی سات لاکھ سے بھی ذیادہ ہے کیونکہ تین لاکھ سے ذیادہ چترال سے تعلق رکھنے والے لوگ پشاور، کراچی،لاہور، راولپنڈی اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں کام اور کاروبار کے سلسلے میں مقیم ہیں مگر مردم شماری کے وقت ان کو چترال میں شامل نہیں کئے گئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ چترال میں لٹریسی عام ہونے اور یہاں کے عوام ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے آبادی میں اضافے سے احتراز کرتے ہیں جس کا انہیں یہ صلہ دیا جارہاہے۔سردارحسین نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ چترال کی سیٹ کوبحال کرکے فاٹاکے ساتھ چھ مہینے بعدالیکشن کرایاجائے ۔صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں ایک اضافے کی بجائے ایک کی کمی کرنا ا ن کی احساس محرومی میں مزید اضافہ کردے گا۔

Print Friendly, PDF & Email