63

چترا ل کی سیاسی قیادت اور الیکشن بائیکاٹ کا فریب/تحریر: ابو ارخان


سیاست نام ہی عوام الناس کو دھوکہ دیکر ان پر حکومت کرنے گر کاہے، گوکہ بحیثیت مسلمان یہ ہمارے دینی تعلیمات کے بالکل بر عکس ہے مگر در حقیقت اگر دیکھا جائے تو یہی موجودہ جمہوری سیاست کا منبع ہے۔ اسلا م کے نام پرجھوٹ، جمہوریت کے نام پر جھوٹ، انصاف کے نام پر جھوٹ، آئین و دستور کے نام پر جھوٹ، ملکی سلامتی کے نام پر جھوٹ۔۔۔غرض قومی اہمیت کے ہر ایک شعبے کے حوالے سے جھوٹ ، فریب اور دوغلا پنی کے مجموعے کو سیاست کہا جاتا ہے۔ بہت سوں کو میرے اس بیانئے سے اختلاف ہوگا مگر موجودہ وقت میں اگر اپنے ملکی سیاست کو دیکھیں تو پھر میرے بیانئے سے متفق ہوئے بغیر رہا نہیں جا سکتا۔ مکرر عرض ہے کہ بحیثیت مسلمان مذکورہ بالا ’’حقیقت‘‘ ہمارے دینی تعلیمات اور مذہبی عقائد کے بالکل خلاف ہے مگر ستم ظریفی یہ کہ ہمارا کونسا کام دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے ؟ خیر طوالت مضمون سے چھٹکارا پانے کیلئے ذکر کرتے ہیں چترال کے سیاسی منظر نامے کا۔ پچھلے سال پورے پاکستان میں مردم شماری و خانہ شماری کا آغاز ہوا ۔ مردم شماری و خانہ شماری کا عمل کئی ہفتوں تک دو مرحلوں میں جاری رہا۔ چترال میں کم و بیش 10چھوٹی اور بڑی سیاسی جماعتیں موجود اور متحرک ہیں ، انکے علاوہ سول سوسائٹی کے تنظیمات بھی ہیں۔ مجھ سمیت کوئی بھی شخص یہ اقرار نہیں کرسکتا کہ چترال کے جملہ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے تننظیمات میں سے کسی ایک ، صرف ایک نے بھی مردم شماری کی اہمیت ، اس کی ضرورت اور مستقبل پر اسکے اثرات کے حوالے سے عوام الناس میں آگاہی پھیلانے کی جسارت نہیں کی۔ مردم شماری کے حوالے سے کسی ایک سیاسی جماعت نے ، کسی ایک سول سوسائٹی تنظیم نے اگر کوئی ایک لفظ بھی کہی ہو تو وہ سامنے لائے ہم مان لیتے ہیں۔ اس اہم ترین ذمہ داری سے خود کو مبرا سمجھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں، منتخب عوامی نمائندگان یعنی کے سب نے چپ سادھ لی۔ اس میں دو باتیں ہیں۔ نمبر ایک یہ کہ چترال کی جملہ سیاسی قیادت کو مردم شماری کی اہمیت اور مستقبل پر اسکے اثرات کا کوئی ادراک تھا ہی نہیں ۔ نمبر دو یہ کہ یا پھر ان لیڈروں کو سب کچھ معلوم تھا مگر اس اہم موقع پر ان لوگوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ۔
پھر جب مردم شماری کی بنیاد پر ضلع چترال کی آبادی پانچ لاکھ سے بھی کم ظاہر ہوئی تب بھی یہ صاحبان خاموش رہے اور ان کی دلچسپی صرف اور صرف قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لئے صف بندیوں تک رہی مگر ان کے تمام خیالی محلات اسوقت دھڑام سے گر گئے جب الیکشن کمیشن نے آبادی کو بنیاد بناتے ہوئے چترال کی ایک صوبائی نشست ختم کردی ۔ ایک نشست ختم ہونے سے انکی سیاست، سیٹ ایڈجسٹمنٹ وغیرہ کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے تب انہیں چترال کی جغرافیائی اہمیت، چترال کی پسماندگی وغیرہ وغیرہ باتیں یاد آنے لگیں اور ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ چترال کی آبادی تو سات لاکھ ہے لہذا سات لاکھ شمار کیا جائے اور سیٹ بحال کی جائے۔ اس دعویٰ کے لئے دلیل یہ دی جاتی رہی کہ چترال کے لاکھوں باشندے ضلع سے باہر رہتے ہیں اور انکا شمار چترال میں نہیں ہوا ہے ۔ درست بالکل درست مگر ہمارے یہ سیاسی و سول سوسائٹی کے لیڈر قوم کو یہ حقیقت بتانے سے گریزاں رہے کہ جو چترالی باشندے اپنے ضلع سے باہر کسی اور ضلع میں مقیم ہیں تو انہوں نے اپنا اندراج بخوشی اپنے قیام والے اضلاع میں کیا ہوا ہے جسکی بنیاد پر ان اضلاع کی آبادی تو بڑھ گئی ہے۔ ایسا تو ہر گز نہیں کہ ضلع سے باہرمقیم چترالی باشندوں کو بالکل مردم شماری میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ میں تو دعویٰ کے ساتھ یہ کہہ سکتاہوں کہ پشاور میں جو لوگ احتجاج میں پیش پیش تھے ان کے خاندانوں کا اپنا اندراج چترال کے بجائے پشاور میں ہو چکا ہے ۔ اور اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے میرے پاس کم از کم چار یا پانچ ایسے فعال ’’لیڈروں‘‘ کی مثال موجود ہے مگر ان سطور میں انکا نام لینا قطعاً مناسب نہیں تاہم سمجھنے والے سمجھ گئے ہونگے۔ اگر ہماری سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کے ذمہ داران مردم شماری کے وقت چترال کے باشندوں کے لئے ایک منظم انداز میں آگاہی مہم چلاتے، مردم شماری کی اہمیت اور ضلع چترال پر اس کے اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں اپنا اندراج بہر صورت چترال میں کرانے پر راغب کرتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ چترال کی آبادی سات لاکھ سے کم ہوتی۔ کراچی سے نہ سہی کم از کم پشاور، مردان، راولپنڈی اور اسلام آباد میں مقیم چترالی باشندوں کو چترال آکر اپنا اندراج کرانے پر قائل کیا جاتا تو نتائج آج یکسر مختلف ہوتے۔
اب اس سب کچھ میں ناکامی کے بعد ہماری سیاسی قیادت احتجاجی سیاست کے لئے میدان میں اتری جوکہ غلط منصوبہ بندی اور اخلاص کی کمی کی وجہ سے ناکام ہوئی۔ چترال کی سطح پر آل پارٹیز اجلاس منعقد ہوئے، اخباری بیانات اور پریس کانفرنسز منعقد کئے گئے، احتجاج ریکارڈ کرایا گیا جوکہ بہت ہی اچھی بات ہے، اپنے حق کیلئے جمہوری آواز اٹھانا سب سے اچھی بات ہے جسے دیر آید درست آید کے حساب سے اچھا تسلیم بھی کرتے ہیں۔ مگر ۔۔۔ پشاور میں منعقد ہونے والے آل پارٹیز جس میں ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ، ایم این اے شہزادہ افتخار الدین، ایم پی ایز سلیم خان، سردار حسین، بی بی فوزیہ، سیاسی راہنماؤں میں مولانا عبدالاکبر چترالی، رحمت غازی، قاری عبدالرحمن قریشی ، عبدالطیف، سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد و دیگر موجود تھے ، انہوں نے یک زبان ہوکر ایک اعلامیہ جاری کیا کہ اگر چترال کی ایک نشست بحال نہ ہوئی تو چترال کے تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کا بائیکاٹ کرینگے۔ مگر اپنے اعلامیہ جو کہ ایک وعدہ تھا، کو بھول کر یہ تمام سیاسی لیڈر چترال کے واحد قومی اسمبلی کی نشست اور اکلوتے صوبائی نشست کے لئے جوڑ توڑ میں اسی روز سے مصرو ف ہوئے اور ’’ بائیکاٹ ‘‘ کے قصے کو بھول گئے۔ اب تو یہ لیڈران تمام کشتیاں جلا کر میدان میں آچکے ہیں ، نہ صرف میدان میں آچکے ہیں بلکہ ایک ہی پارٹی کے اندر ایک دوسرے کی ٹانگین کھینچنے میں مصروف ہیں۔ کوئی انسے یہ تو پوچھ لے کہ بھائی آپ لوگوں کے اس اعلان کا کیا ہوا؟؟ اس وعدے کا کیا ہوا؟ یقیناًاس حوالے سے انکے پاس کئی دلیلیں ہونگی ۔ میں بھی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ انتخابات کا بائیکاٹ کوئی مناسب آپشن نہیں کیونکہ خدانخواستہ ایسے کسی عمل سے قومی اور صوبائی اسمبلی میں چترال کی نمائندگی ہی نہ رہتی جس کے بد ترین نتائج کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔ تاہم مجھ سمیت بہت سوں کا سنگین اعتراض اس امر پر ہے کہ ہمارے سیاسی لیڈران ہر وقت عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں حالانکہ ’’وہ‘‘ یہ خووبنتے ہیں۔ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان ان لوگوں کا ایک اشتعال انگیز اور بچگانہ فعل تھا جسکا مقصد عوامی سطح پر پوائنٹ سکورننگ تھاجبکہ حقیقت میں یہ لوگ خود اقتدار کے بھوکے ہیں جوکہ ایک ساعت بھی بغیر مفاد کے جی نہیں سکتے۔ مگر افسوس اس بات پر ہے کہ ان لوگوں کے اس بچگانہ فعل سے چترال کے عوام کی بھی سبکی ہوئی کیونکہ آئندہ کے لئے لوگ یہ سمجھیں چترال کے لوگ صرف بات کرتے ہیں عملاً کچھ کر نہیں سکتے۔ اور یوں کوئی بھی ہمارے سیاسی اعلانات وغیرہ کو سنجیدہ نہیں لینگے۔
آخر میں ان تمام سیاسی لیڈران اور سول سوسائٹی کے راہنماؤں ، جنہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، ان سے گذارش ہے کہ مہربانی کرکے ایک اور آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرکے کوئی ایسا اعلان کریں کہ ہم نے بوجوہ انتخابات کے بائیکاٹ کے اپنے اعلان کو واپس لے لیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email