76

بہت جلد اسلام مشرق ومغرب کاسرکاری مذہب بن جائے گا۔عنایت اللہ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال )خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ میں جماعت اسلامی کی اکثریت نہیں ہو گی اس وقت تک مدارس کے ساتھ ساتھ ہماری تہذیب و ثقافت اور پاکستان کا اسلامی تشخص بھی خطرے میں رہے گا۔علماء کا فرض ہے کہ عوام میں فرقہ پرستی سے پاک اسلام کی اصل روح بیدار کریں۔ وہ اتوار کے روز جامعہ مفتاح العلوم شیر گڑھ مردان میں تحفظ دینی مدارس و سالمیت پاکستان کنونشن سے خطاب کر رہے تھے جس میں بڑی تعداد میں علماء اور دینی طلباء کے علاوہ سابق صوبائی امیر جماعت پروفیسر محمد ابراہیم ، نائب امراء مولانا اسد اللہ ، مولانا اسماعیل اور ڈاکٹر اقبال خلیل نے بھی شرکت کی۔ عنایت اللہ نے کہا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے مگر مغرب سازش کے تحت پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس مقصد کیلئے امت مسلمہ میں فساد، فرقہ پرستی اور جنگ و جدل کی لعنت کو فروغ دینے اور ہمارے عصری علوم اور تعلیمی نصاب کو بھی سیکولر بنا کر اس قلعے میں دراڑیں ڈال رہا ہے حتیٰ کہ ہماری تہذیب و ثقافت بھی اس کے نشانے پر ہے اس لئے علماء ان سازشوں کو ناکام بنانے اور قوم کو فرقہ پرستی سے بچانے کی جدوجہد کریں۔انہوں نے کہا کہ اپنی شبانہ روزکوششوں کی بدولت جماعت اسلامی کے مدارس بھی امت مسلمہ کو فرقہ پرستی کی لعنت سے نجات دلا سکتے ہیں اور اس طرح مغربی تہذیب کی سازش ناکام بنائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ مغرب سمیت پوری دنیا میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور بہت جلد اسلام پورے جمہوری انداز میں مشرق و مغرب کے تمام ممالک کا سرکاری مذہب بن جائے گا۔سینئر وزیر نے علماء اور دینی طلباء کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی مدارس کی پشت پر ہے تاہم علماء بھی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے ہمارا بھر پور ساتھ دیں تاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر بنایا جا سکے۔اس موقع پر پروفیسر محمد ابراہیم ، مولانا اسماعیل ، مولانا اسد اللہ ، ڈاکٹر اقبال خلیل اور مولانا عبد المستعان نے بھی خطاب کیا اور دارالعلوم کی دینی و علمی خدمات پر روشنی ڈالی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں