تازہ ترین
Home >> مضامین >> داد بیداد۔۔۔۔ایک اور ویٹو۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضیؔ

داد بیداد۔۔۔۔ایک اور ویٹو۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضیؔ

امریکہ نے سلامتی کونسل میں فسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو بند کرنے اور غزہ میں سرحدی پٹی کو فلسطینیوں کے لئے آزاد کر کے سرحد پر مبصر فوج تعینات کر نے کی قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے گذشتہ اختتامِ ہفتہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں جو رائے شماری ہوئی اس میں سلامتی کونسل کے 10ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا 4ارکان غیر حاضر رہے جبکہ امریکہ نے قرارداد کی مخالفت کی امریکہ کی مخالفت کو ویٹو ( veto) کا درجہ حاصل ہے 24اکتوبر 1945ء کو اقوام متحدہ کا جو چارٹر منظور ہوا تھا اس میں سلامتی کونسل کے 5مستقل ممبروں کو ویٹو کا حق دیا گیاتھا سلامتی کونسل کی تنظیم کا چارٹر اس طرح بنایا گیا کہ مسلمان ، غریب اور چھوٹے یا کمزور اقوام کی کوئی بات نہیں مانی جائے گی جمہوری طریقے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا ہر کام 5بڑی طاقتوں کی مرضی سے ہوگا اس مقصد کے لئے سیکیورٹی کونسل کو جنرل اسمبلی سے زیادہ اختیارات دیدیے گئے اورسلامتی کونسل کے 15ارکان میں سے 10غیر مستقل ارکان کو بے دست و پا کر کے 5مستقل ارکان کو انفرادی ویٹو پاور دے دیا گیا طریقہ کار یہ طے پایاہے کہ جنرل اسمبلی میں موجودہ وقت پر 193ارکان ہیں ان کی نمائندگی سلامتی کونسل کے 15اراکین کر رہے ہیں 193ارکان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ اقوام متحدہ میں جمہوریت کا داخلہ ممنوع ہے سلامتی کونسل کے 14ارکان کے ووٹ کی کوئی وقعت نہیں ایک طاقتور ملک ویٹو کے ذریعے 14ممالک کو شکست دے سکتا ہے اس کے باوجود کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ جمہوری تنظیم ہے امریکہ جمہوریت کا علم بردار ہے گذشتہ 73سالوں میں امریکہ نے مسلمانوں کے حق میں آنے والے 345قراردادوں کو ویٹو کیا ہے ان میں سے 88قراردادیں فلسطینی مسلمانوں کے حق میں تھیں امریکہ کے مقابلے میں روس، چین ، فرانس اور برطانیہ نے ویٹو پاور کا استعمال دنیا کے مختلف خطوں کے بارے میں آنے والی قراردادوں کو مسترد کر نے کے لئے کیا ہے صرف مسلمانوں کو انہوں نے ہدف نہیں بنایا روس اور چین نے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف آنے والی قراردادوں کے ویٹو کیا یکم جون کو جمعہ کے دن جس قرارداد پر رائے شماری ہوئی یہ قرارداد کویت نے پیش کی تھی اس کا پس منظر ہنگامی نوعیت کا تھا 31مارچ سے 14مئی تک فلسطینی علاقہ غزہ میں اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے بیت المقدس کو دارالخلافہ بنانے اور امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے تھے 14مئی کو اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر گولی چلائی 60 فلسطینی شہید ہوئے 1470زخمی اور معذور ہوئے فلسطینیوں کا یہ بھی مطالبہ تھا
کہ 70سالوں سے دربدر پھرنے والے فلسطینیوں کو اپنے گھروں کی طرف لوٹنے کاحق دیا جائے غزہ کو تقسیم کرنے والی سرحد کھول دی جائے اور بیت المقدس سے اسرائیلی دفاتر ، امریکی سفارت خانے کی تنصیبات ہٹائی جائیں بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ جائز مطالبات ہیں 2018ء میں اقوام متحدہ انسانی حقوق کے چارٹر کا 70سالہ جشن منارہی ہے یہ چارٹر 1948 ء میں منظور ہوا تھا چارٹر کے 32دفعات میں سے 22دفعات کا تعلق انسان کے بنیادی حقوق سے ہے ان حقوق میں گھر ، جائیداد ، جان و مال کے تحفظ ، اظہار رائے کی آزادی ، خود ارادیت کے حقوق شامل ہیں گذشتہ 70سالوں سے کوئی ایک حق بھی نہیں ملا اقوام متحدہ نے 70سالوں میں ایک بار بھی اس کا نوٹس نہیں لیا عالمی سطح کے بے لاگ تجزیہ نگاروں نے اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل مین تین بڑے نقائص کی نشان دہی کی ہے پہلی بات یہ ہے کہ یہ تنظیم اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں پتھر کے زمانے کی طرح قوانین اور طور طریقے رکھتی ہے چنگیز خان اور ہلاکو خان کے دستور پر چلتی ہے اس میں جمہوری اقدار کا فقدان ہے آمریت کا دور دورہ ہے 192ممبر ملکوں کے مقابلے میں ایک ممبر کا حکم چلتا ہے ساری خرابیوں کی جڑ یہ آمریت ہے دوسری بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ نسل پرستی اور مذہبی تعصبات کو پروان چڑھاتی ہے سفید اقوام اور عیسائی یا یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی پُشت پناہی کرتی ہے کالے اقوام اور مسلمانوں کے خلا ف بغض ، کینہ اور حسدیاپکی پکی دشمنی کے جذبات رکھتی ہے 70سالوں میں اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل نے ایک بار بھی کالے اقوام اور مسلمانوں کے حق میں کوئی کام نہیں ہونے دیا اس وجہ سے یہ صرف عیسائیوں، یہودیوں اور گورے اقوام کی تنظیم بن کر رہ گئی ہے تیسری بات یہ ہے اقوام متحدہ کے قیام کے وقت تیسری جنگ عظیم کا راستہ روکنے کی جو ذمہ داری اس تنظیم کو دی گئی تھی اس ذمہ داری کو نبھانے میں سلامتی کونسل نا کام ہوچکی ہے یہ عالمی تنظیم کی با اختیار کونسل سے زیادہ ایک طاقتور ملک کے مہرے کی حیثیت اختیار کرچکی ہے اس لئے کالے اقوام اور مسلمان ملکوں کو ’’ ایک اور ویٹو‘‘ آنے سے پہلے اقوام متحدہ کی رکنیت پر نظر ثانی کرنی چاہیئے 57مسلمان ملکوں کے ساتھ دیگر کالے اقوام کو ملا کر اگر 110ممالک نے اقوام متحدہ کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تو یہ تنظیم اپنی موت آپ مرجائے گی اور اس کی راکھ سے ایسی عالمی تنظیم وجود میںآئے گی جو منصفانہ عالمی نظام کے لئے مظلوم اقوام کا دست وبازو بنے گی علامہ اقبال نے سچ کہا تھا ’’ مجلس اقوام کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ کفن چوروں نے قبروں کی تقسیم کے لئے انجمن بنائی ہے ‘‘ فلسطینیوں کے خلا ف آنے والے ’’ ایک اور ویٹو‘‘ نے اس کو سچ ثابت کیا