تازہ ترین
Home >> مضامین >> محتاج سیاسی بہروپئے اورووٹرز۔۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

محتاج سیاسی بہروپئے اورووٹرز۔۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

موقع کی مناسبت سے مختلف روپ دھارنے والے بہروپیئے کہلاتے ہیں جومعاشرتی زندگی کے ہر شعبے میں پائے جاتے ہیں لیکن آج میں جن بہروپیوں کو زیر بحث لانے کی کوشش کررہاہوں وہ ہیں سیاسی بہروپیئے اور سیاسی شعبدہ باز۔جوں جوں عام انتخابات قریب آتے ہیں عوام کو جھوٹے وعدوں اورسبزباغ دکھاکرورغلانے کی غرض سے سیاسی بہروپیئے سرگرم ہوجاتے ہیں جبکہ انتخابی امیدواروں کے حتمی اعلان کے بعد توان کی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزآجاتی ہے جنازوں،تعزیتوں،شادی بیاہ کی تقریبات وغیرہ میں ان کی موجودگی یقینی ہوتی ہے بلکہ بن بلائے پہنچ کر وہاں ایسے براجماں ہوجاتے ہیں کہ میزباں اورمہماں کافرق کرناہی مشکل ہوجاتاہے ، تعزیتوں میں ایسی شکلیں بنائے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے ان کاکوئی سگاپیارا دنیاسے رحلت کرگیاہو،عام زندگی میں نمازپڑھنے سے بے خبر یہ بہروپیئے پانچوں وقت کے نمازی کاروپ دھارلیتے ہیں ، کیا ہسپتال اورکیا تھانہ کچہری، کھیل کا میدان ہویامسجد یاپھرکسی طوائف کامحلہ،بازار میں لوگوں کا ہجوم ہویادرختوں کے سائے تلے بیٹھے دیہاتیوں کی بیٹھک یہ سیاسی بہروپیئے ہر وقت ہر جگہ موجودپائے جاتے ہیں، باقاعدہ انتخابی مہم شروع ہونے پریہ بہروپئے مداری بن کرکہیں پر بھی اپنی دکان لگادیتے ہیں جھوٹے وعدے توکوئی ان سے سیکھیں،ان کے دعوے اتنے بھاری کہ کوئی گدھابھی اٹھانے سے عاجز،مکروفریب میں ان کاکوئی جواب نہیں ،کبھی گاڑی سے نیچے پاؤں نہ اتارنے والے چابڑی فروشوں ،دکانداروں اورمحنت کشوں کے ساتھ بیٹھ کربظاہرانہیں ایک ہی طبقہ سے تعلق رکھنے کاحساس دلاتے ہیں غرض یہ کہ ووٹرجوکہ ان کااصل شکارہوتاہے کوقابوکرنے میں یہ کچھ بھی کرگزرتے ہیں،مساجد کے لئے چندہ دیتے ہیں کھیل کے میدانوں میں نوجوان کھلاڑیوں کے بیچ کھڑے ہوکران کے لئے نقد انعامات کااعلان کرتے ہیں جسے دیکھ کران پر کسی ریاست کے بے تاج بادشاہ کی اولادکاگماں ہوتاہے،ووٹ کی بھیک مانگنے کی خاطریہ ان غریب اورپسے ہوئے طبقہ کے لوگوں کی منتیں کرتے اوران کے ساتھ بغلگیرہوتے دکھائی دیتے ہیں جن سے عام زندگی میں ہاتھ ملاناتک گوارانہیں کرتے،یہ لوگوں کی بہت ساری نازیبااورنامناسب باتیں بھی دل پر پتھررکھ کرہنسی خوشی برداشت کرلیتے ہیں کہ اس کے سواء کوئی دوسراچارہ ہوتانہیں،یہ سیاسی مداری الیکشن جیتنے کی فکرمیں اس قدر پاگل ہوجاتے ہیں کہ اگران سے زمین سے آسماں تک سڑک بنانے کامطالبہ کیاجائے توبھی کرگزر نے کی حامی بھرلیتے ہیں وعدے کرتے ہوئے یہ اس سوچ سے عاری ہوتے ہیں کہ یہ ان کے دائرہ میں ہے بھی کہ نہیںیاپھریہ سمجھتے ہوئے کہ یہ توسیاسی وعدے ہیں جوہمیشہ وعدے ہی رہتے ہیں کبھی ایفانہیں ہوتے اس لئے جان بوجھ کرسب کچھ مان لینے میں ہی عافیت ہے بہرحال دودنوں کی چاندنی اورپھر اندھیری رات کے مصداق الیکشن میں کامیاب قرارپانے والے بیشتر امیدواراپنی کامیابی کے دن سے رفوچکرہوجاتے ہیں انہیں عوام سے کئے گئے وعدے یاد رہتے ہیں نہ ہی اپناانتخابی منشور، انہیں عوام کوروزگاردلانے کی کوئی پرواہ ہوتی ہے نہ علاقائی مسائل اورنہ ہی شہریوں کودرپیش مشکلات کے حل کی کوئی فکر ،سائلین انہیں درخواستیں دے دے کرتھک جاتے ہیں مگر منتخب نمائندوں کے جھوٹے وعدے،دعوے اوردلاسے ختم ہونے کانام نہیں لیتے ،کبھی کبھار فوتگیوں ،شادی بیاہ اوردیگر مواقعوں پر نظرآنے والے یہ نمائندے عوامی مسائل سے روگردانی کابہانہ یہ بناکر اپنادفاع کرلیتے ہیں کہ ان کی مصروفیات بہت زیادہ ہیں اوروقت کی کمی کے باعث وہ عوامی مشکلات پر توجہ دینے سے قاصر ہیں وہ کہاں،کیوں اور کس چیز میں مصروف ہوتے ہیں یہ وہ خود بتاتے ہیں نہ ہی کوئی ان سے پوچھنے کی جسارت کرسکتاہے۔لگژری گاڑیوں میں گھومتے اورشان وشوکت کی زندگی گزارتے یہ عوامی نمائندے اکثراپنے حلقہ نیابت میں اخبار کے پیچھے منہ چھپائے پھرتے ہیں کیونکہ انہیں شہریوں کے سلام کاجوب تک دینابھی بھاری بوجھ نظرآتاہے ،یہ کسی شہری(ووٹر)کی کال اٹینڈکرنابھی گوار نہیں کرتے نہ ہی گھراوردفترمیں کسی سے ملناپسند کرتے ہیں،ان کے گھراوردفتر جانے والے سائلین کو یہ کہہ کرٹرخایاجاتاہے کرصاحب ابھی سورہے ہیں اٹھے نہیں ہیں،صاحب ناشتہ کررہے ہیں،آج صاحب کی طبیعیت ناسازہے وہ کسی سے مل نہیں سکتے، صاحب بہت اہم میٹنگ میں مصروف ہیں وغیرہ وغیرہ کے روائتی بہانے بناکر سائلین کودن میں تارے دکھادیئے جاتے ہیں حالانکہ ان بہروپیوں سے میٹنگ کرنے والے یاتوٹھیکیدارہوتے ہیں،یاسرکاری محکموں کے آفسر یا پھرعلاقے کاکوئی بااثربندہ جن کاان کی انتخابی کامیابی میں دورکابھی کوئی کردار نہیں ہوتامگر کمیشن اور مراعات کی خاطر ٹھیکیدار،سرکاری افسران اوربااثرشخصیات ہی ان کے لئے اہم ہوتے ہیں غریب ووٹران کوکیامل سکتاہے سوائے ایک ووٹ کے جسے حاصل کرنے کاگروہ بخوبی جانتے ہیں ،ترقیاتی منصوبوں کی باری آتی ہے توعوامی نمائندوں کی ترجیحات بدل جاتی ہیں وہ غریب ووٹرزاورمستحق شہریوں کو سہولیات دینے کے برعکس علاقہ کے بااثرلوگوں کو ہی سہولیات بہم پہنچانا اولین ترجیح سمجھتے ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے اپنے بھائیوں،قریبی رشتہ داروں یاان افرادکودلاتے ہیں جن سے بھاری کمیشن لینامقصودہو اور دلچسپ بات تویہ ہے کہ جس طرح کسی میڈیکل ڈاکٹرکابھائی ،بیٹایاکوئی اور رشتہ دار میڈیکل سٹورچلاررہاہوتاہے اسی طرح کسی بھی سیاستدان اورمنتخب ممبر کابھائی ، بیٹایاکوئی اورقریبی رشتہ دارگورنمنٹ کنٹریکٹرضرورہوتاہے، عوام کے ووٹ کی طاقت کے بل بوتے پر اقتدارکے ایوانوں میں جانے والے یہ عوامی نمائندے نہ صرف سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچ دیتے ہیں بلکہ نوکریاں بیچنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اورجہاں نوکریاں فروخت کرنے کاموقع ہاتھ نہیں لگتا وہاں میرٹ کی دھجیاں بکھیرکر رشتہ داروں اورمنظورنظرافرادمیں ہی بانٹ لیتے ہیں مطلب گھی گرتاہے توتالی میں ،زکواۃ کی تقسیم سمیت عوامی ریلیف کے سرکاری منصوبوں میں بھی مستحق افرادکویکسر نظر انداز کرکے غیر مستحق لوگوں کونوازاجاتاہے اس حوالے سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اس کی واضح مثال ہے جس میں بڑے پیمانے پر غیرمستحق افراد کوشامل کرکے مستحق غریب اورنادارافرادکی حق تلفی کی گئی ہے۔الیکشن2018کے لئے بھی یہ بہروپیئے سیاسی مداریوں کاروپ دھارکر ملک کے طول وعرض میں امڈآئے ہیں جوسبزباغ دکھادکھاکرغریب عوام کو بہلاپھسلاکر اپناہمنوابنانے میں لگ چکے ہیں لیکن انہیں ادراک ہوچاہئے اب عوام بھی اتنے بولے بھالے نہیں ۔