تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> چین کے ساتھ سی پیک اور گوادر جیسے منصوبوں سے دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں ترقی اور خوشحالی کو فروغ حاصل

چین کے ساتھ سی پیک اور گوادر جیسے منصوبوں سے دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں ترقی اور خوشحالی کو فروغ حاصل

صدر مملکت ممنون حسین نے پاک چین دوستی فورم سے خطاب کے دوران ایس سی او ٹریڈ کوریڈور کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس راہداری سے علاقائی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی، چین کا خارجہ پالیسی میں دوسرے ممالک کو بھی ترقی کے سفر میں شامل کرنا خوش آئند بات ہے۔ صدر جو ان دنوں شنگھائی تنظیم کے 18 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے چین کے 4 روزہ دورے پر ہیں، انہوں نے سوموار کو اپنے خطاب میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے کامیاب اجلاس کے انعقاد پر پوری چینی قوم اور حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ سی پیک اور گوادر جیسے منصوبوں سے دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں ترقی اور خوشحالی کو فروغ حاصل ہو گا‘ پاک چین دوستی اس منصوبے کے باعث مثال بن کر ابھری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافت اور تجارت سمیت دیگر شعبوں میں وفود کا تبادلہ کیا جانا چاہئے۔

اس سے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور تعلقات کو مزید استحکام حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان۔ایس سی او ٹریڈ ٹرانزٹ اینڈ انرجی کوریڈور سے خطے میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ نئی تجارتی شاہراہیں کھلیں گی۔ انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے وژن ون بیلٹ ون روڈ پر عملدرآمد کے نتیجہ میں یہ منصوبہ چین پاکستان دونوں ممالک کیلئے مساوی فائدے کا حامل ہے۔ صدر نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کے خطے میں پرائیویٹ انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کیلئے ایک نمایاں ملک بن چکا ہے اور پوری دنیا کی نگاہیں اس پر مرکوز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین کی جی ڈی پی ترقی کی شرح گزشتہ دہائی کے مقابلے میں گزشتہ سال دنیا بھر میں 5 فیصد کے ساتھ بلند ترین سطح پر تھی جو کہ عالمی سطح پر نمایاں حیثیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کامیابی توانائی کی فراہمی پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری میں سرمایہ داری اور زرعی شعبہ میں شاندار کارکردگی کے باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان کا شاہراتی اور ریلوے نظام دنیا کو گوادر اور کراچی بندرگاہوں سے مربوط کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے چینی بھائیوں کا ٹیکسٹائل، انفراسٹرکچر، پیٹروکیمیکل، سٹیل زراعت پر مشتمل شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے خیر مقدم کرے گا۔ چین کان کنی اور آٹو موبائل کی صنعت میں بھی سرمایہ کاری کر کے استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری سے دونوں ملکوں کے درمیان اس حوالے سے زیادہ گرمجوشی پیدا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ چند سال کے دوران سازگار ماحول کی فراہمی کیلئے امن و امان، سیکورٹی اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا گیا ہے۔

ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان نے وژن 2025ء وضع کر کے ترقی کو شعار بنا دیا ہے۔ عالمی اداروں کی طرف پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا گیا ہے۔ پاکستان عالمی سرمایہ کاری کیلئے ایک پرکشش مرکز بنتا جا رہا ہے۔ میں پرعزم ہوں کہ یہ روایات برقرار رہیں گی، یہ آئندہ جولائی میں انتخابات کے بعد بھی جاری رہیں گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایس سی او اور اس کے رکن ممالک مشن کی تکمیل کیلئے ہمارا ساتھ دیں گے کیونکہ پاک چین منصوبوں کے ذریعے نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں امن و امان سیکورٹی کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے پاک چین دوستی کو اجاگر کرتے ہوئے اسے دنیا کیلئے ایک مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی مثال کی تقلید کرتے ہوئے خطے میں چین کے مثبت کردار سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ترقی کے سفر پر گامزن رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فرداً فرداً رابطوں سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ اس وقت پاکستان کے 20 ہزار کے قریب طلبہ چین میں تعلیم اور مہارتوں کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ صدر ممنون حسین نے مستقبل کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے سی پیک یونیورسٹیوں کے قیام کی تجویزبھی پیش کی جہاں دونوں ممالک کی زبانوں کی تعلیم فراہم کی جائے۔ مشترکہ تحقیقات کے منصوبوں کا تبادلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ ڈگری پروگراموں کا آغاز بھی کیا جانا چاہئے۔