44

چترال کی سیاسی ڈایری ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:فخرعالم

سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے سابق فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو دی گئی مہلت کے خاتمے اور الیکشن لڑنے کے لئے ان کا چترال نہ آنے کے بارے میں پائی جانے والی تذبذب کے خاتمے کے بعد چترال کی سیاسی مطلع کسی حد تک صاف ہوگئی ہے کیونکہ ا ن کے آنے کی وجہ سے تمام سیاسی جماعتوں سے بڑی تعداد میں ووٹرز ان کو ووٹ دے کے احسان کا بدلہ دینے کی باتیں کررہے تھے جس طرح گزشتہ الیکشن میں ان کے نامزد امیدواروں کو کامیاب بناکر کیا تھا لیکن اب کی بار ان کے نام پر کسی اور کوووٹ پڑنے کے امکان خال خال ہی دیکھائی دے رہی ہے۔ 11جون کو الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد این اے ون چترال اور پی کے ون چترال کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے اُمیدوار سامنے آگئے ہیں جن میں کئی پرانے چہرے ہیں جوکہ پہلے بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں چترال کی نمائندگی کرچکے ہیں جن میں ایم ایم اے کے امیدوار برائے قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی ( 2002ء میں ایم این اے) ، پی پی پی کے امیدوار برائے قومی اسمبلی سلیم خان اور حاجی غلام محمد پچھلے دوادوار میں مسلسل صوبائی اسمبلی کا رکن رہ چکے ہیں ، پاکستان مسلم لیگ ۔ن کے شہزادہ افتخارالدین گزشتہ بار قومی اسمبلی کا رکن رہا۔ شہزادہ افتخارالدین گزشتہ الیکشن میں آل پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کامیا ب ہوا تھا لیکن انہوں نے علاقے کی خاطر اسمبلی کے فلور پر میاں نواز شریف کا مکمل ساتھ دیا اور عملاً پاکستان مسلم لیگ ۔ن کے رکن کی حیثیت اختیار کی اور وفاقی وزراء کی خصوصی قربت حاصل کرلی جس کے نتیجے میں گزشتہ دور حکومت میں وفاقی حکومت سے سب سے ذیادہ ترقیاتی فنڈ حاصل کرنے کا اعزاز چترال کو حاصل ہوا جس کا مجموعی حجم 80ارب روپے کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور لواری ٹنل اور گولین گول ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کی 80فیصد فنڈز بھی اس میں شامل ہیں جن کی تکمیل بھی اس دورحکومت میں ممکن ہوئی جس کا کریڈٹ براہ راست مسلم لیگ ۔ن کے کھاتے میں جاتا ہے۔۔ دوسری طرف مسلم لیگ ۔ ن کا صوبائی اسمبلی کا امیدوار عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ بھی اس پارٹی میں نو وارد ہیں جوکہ اس سے قبل پی ٹی آئی میں رہے ہیں اور تین دفعہ کوہ یونین کونسل سے ضلع کونسل کا رکن رہ چکاہے اور گزشتہ الیکشن میں چترال ون کے صوبائی اسمبلی کے حلقے سے الیکشن لڑ کر گیارہ ہزار ووٹ حاصل کرچکے تھے جبکہ جیتنے والے امیدوار سلیم خان نے 12ہزار ووٹ حاصل کی تھی۔ چترال کاسینئر ترین وکلاء میں شمار عبدالولی خان کا اس پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے سے پارٹی کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگئی ہے اور کوہ کے علاقے میں پارٹی کے لئے ذیادہ سے ذیادہ ووٹ لینے کی پوزیشن میں ہیں۔ دوسری طرف ایم ایم اے میں شامل جماعتوں جماعت اسلامی اور جے یو آئی میں صوبائی اسمبلی کی نشست کے حصول کے لئے تنازعہ اور دونوں جماعتوں کے اندر ونی صفوں میں پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لئے سینئر رہنماؤں میں کشمکش کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا جوکہ اس کے لئے منفی نتائج پیدا کرسکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے اندر مولانا عبدالاکبرچترالی اور ضلع ناظم مغفرت شاہ کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے تھے جس میں ضلعی قیادت ضلع ناظم کے ساتھ کھڑی تھی اور پارٹی کے اندرونی ذرائع مطابق تو ضلعی شوریٰ اور اجتماع ارکان نے بھی ناظم کے حق میں فیصلہ کیا تھا ۔ تا ہم عوامی رائے اس کے بالکل بر عکس تھا چترال کے عوامی حلقے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ ضلع ناظم مغفرت شاہ ضلعی حکومت میں ہی رہ کر بہتر خدمت کر سکتا ہے اور ایم ایم اے کے دونوں امیدوارون کو کامیاب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے ان کا کہنا تھا اس دفعہ جماعت اسلامی کی طرف سے مولانا عبدالا کبر چترالی اپنے بے داغ ماضی اور عوامی مسائل کے حوالے سے متحرک ہونے کی وجہ سے ایک بہترین انتخاب ہو گا جو کہ جے یو ائی کے لیے بھی قابل قبول ہے جماعت اسلا می میں ڈسپلن کی سختی کی وجہ سے امیر صوبہ مشتاق احمد خان نے خود چترال آکر معاملے کو رفع دفع تو کردیا جس کے نتیجے میں ضلع ناظم مغفرت شاہ مولانا چترالی کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں اور ان کے حق میں با قا عدہ پریس ریلیز بھی جاری کر دیا ۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ اور ان کے حمایت یافتہ یو سی ناظمین نے 2008ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی کی بائیکاٹ کی وجہ سے ایک آزاد اُمیدوار کو شہزادہ محی الدین کے مقابلے میں کھڑ اکرکے 32ہزار ووٹ دلوائے تھے لیکن وہ معمولی فرق سے ہارگئے۔ اگر اس بار وہ مولانا چترالی اور ایم ایم اے کے لئے صدق دل سے کام کرے تو ان کی کامیابی یقینی ہوگا ۔ ایم ایم اے کی پلیٹ فارم سے جے یو آئی کا نامزد امیدوار مولانا ہدایت الرحمن نوجوان شخصیت ہیں 2008ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے لیے سولہ ہزار ووٹ حاصل کیا تھا تاہم ان کو ٹکٹ ملنے پر جے یو ائی کے بعض کارکنان میں ناراضگی پائی جاتی ہے تاہم سیاسی اکابرین یہ کہہ رہے ہیں کہ متحدہ مجلس عمل ضلع چترال کے قایدین جماعت اسلامی اور جے یو ائی کے ناراض پرانے کارکنان کو منانے میں کامیاب ہو جایں گے ۔ ان سب کے باوجود ایم ایم اے سے تمام دوسری پارٹیاں خائف ہیں جنہوں نے 2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں انتخابی اتحاد میں جڑ کر نمایان کامیابی حاصل کرکے ضلعی حکومت بنائی اور دونوں اضلاع میں تحصیل ناظم بھی بن گئے تھے۔ متحدہ مجلس عمل چترال کے قایدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے دونوں اُمیدواران اس بار 45 ۔45ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے .۔ چترال کو پی پی پی کا گڑھ سمجھاجاتا ہے لیکن انتخابی نتائج کے اعتبار سے ریکارڈ قابل رشک نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی پی پی پی کو انتخابی شکست کا سامنا ہواتو اسکی سب سے بڑا وجہ پارٹی کی اندرونی خلفشار ہے اور پارٹی کے دوامیدوار آ منے سامنے آگئے تھے۔ اس بار پی پی پی کی صفوں میں پہلے کی نسبت ظاہری طور پر اتحاد ویگانگت ذیادہ دیکھنے میں آرہی ہے اور اس پارٹی کو سب سے بڑا فائدہ اس بات کا ہے کہ دونوں امیدوار اس سے قبل بھی دو دو دفعہ ایم پی اے رہ چکے ہیں اور مطلوبہ مقبولیت کے حامل ہیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق اگر پارٹی اعلیٰ قیادت آصف زرداری یا بلاول زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں چترال آکر کارکنوں سے خطاب کریں تو اس کا زبردست اثر ہوگا ۔ تاہم لوٹ کوہ وادی سے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والا شہزادہ تیمور خسرو قومی اور صوبائی اسمبلی کے لئے میدان میں ہیں جس نے پی پی پی کی ٹکٹ کے لئے انٹرویو دیا تھا اور کسی ایک ٹکٹ کا مضبوط اُمیدوار تھا ۔ اگر شہزادہ تیمور کو سمجھابجھاکر کاغذات نامزدگی واپس لینے پر قائل نہ کیا گیا تو لوٹ کوہ وادی چترال اور میں دروش پیپلز پارٹی کے 7000کے رینج میں ووٹوں کے خراب ہونے کا خطرہ موجود ہے جس سے آنکھیں بند نہیں کیا جاسکتا ۔ شہزادہ تیمور خیبر پختونخوا کے اکاونٹنٹ جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوچکے ہیں اور گرم چشمہ میں جاگیر رکھتے ہیں جس کا علاقے میں خاندانی اثرو رسوخ اور شاہی خاندان سے تعلق ہے۔
پی ٹی آئی کی طرف سے ضلع کونسل کے ممبر عبداللطیف قومی اسمبلی اور وادی کریم آباد سے تعلق رکھنے والے اسرا ر الدین صوبائی اسمبلی کے لئے میدان میں اترگئے ہیں لیکن چترال سے تعلق رکھنے والی پارٹی کی خاتون رکن صوبائی اسمبلی بی بی فوزیہ پر سینٹ کے الیکشن میں ووٹ بیچنے کے الزام میں ان کا پارٹی سے اخراج سے پارٹی کا شیرازہ بڑی حد تک بکھرگئی ہے ضلعے میں پی ٹی آئی کے تین واضح گروپ سامنے
آچکے ہیں اور ناراض گروپ کا سرغنہ رضیت باللہ نے تو احتجاج کرتے ہوئے آزاد امیدوار کے طورپر کاغذ نامزدگی بھی داخل کردی ہے اور الحاج رحمت غازی خان سمیت پارٹی کے کئی سرگرم ارکان نے الیکشن کے دنوں اپنے آپ کو منظر سے غائب کرکے پارٹی قائد عمران خان کو یہ خاموش پیغام دے رہے ہیں کہ چترال کے ہزاروں کار کنان بی بی فوزیہ کے بار ے میں فیصلے سے ناراض ہیں ۔ ضلعے میں پی ٹی آئی کا ایک اہم ستون کے طور پر معروف رحمت غازی خان نے پشاور پریس کلب میں بی بی فوزیہ کو لے کر پریس کانفرنس کیا جس میں فوزیہ نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ اپنی بے گناہی کی قسم کھائی تھی اور اس کے باوجود سزا کو برقرار رکھنے پر ان کے حامی کارکنوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ گزشتہ سال 8نومبر کو چترال کے پولو گراونڈمیں عمران خان اور پرویز خٹک کی طرف سے اپر چترال کو ضلع کا درجہ دینے کا اعلان اور 28دسمبر تک اس کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کرنا اور اس بنا پر چترال کا صوبائی اسمبلی کی ایک نشست سے محروم ہونا بھی پی ٹی آئی کے لئے الیکشن میں مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ اسی طرح شاہی خاندان کے ایک چشم چراغ شہزادہ امان الرحمن صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے امیدوار کے مقابلے میں میدان میں اُترچکے ہیں جوکہ لوٹ کوہ سائیڈ میں پارٹی کے امیدوار کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ دونوں کا تعلق ایک ہی علاقے سے ہے۔ شہزادہ امان الرحمن کے ساتھ صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ کا وعدہ گزشتہ سال ہی ہوئی تھی جب عمران خان اور پرویز خٹک گرم چشمہ میں ان کے گھر میں ان کی شمولیتی تقریب میں شرکت کی تھی اور ان کی پارٹی میں شمولیت پر نہایت مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے پارٹی کے لئے انمول موتی قرار دیا تھا۔ اسی طرح دوسری سیاسی جماعتوں میں اے این پی کے عید الحسین قومی اسمبلی اور سردار احمد خان صوبائی اسمبلی کے لئے میدان میں کود پڑے ہیں اور اے این پی کے دور حکومت میں چترال میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کو کیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اے پی ایم ایل کے خاتون امیدوار تقدیرہ جمال قومی اسمبلی اور سلطان وزیر صو بائی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ آزاد امیدواروں میں محمد یحیٰ المعروف شیر دل، سعید الرحمن ، شاہ ابوالمنصور قومی اسمبلی کے لئے جبکہ صوبائی اسمبلی کے لئے سعادت حسین مخفی، سراج الدین، سہراب خان، حزب اللہ، وزیر خان، عبدالصمد ، محسن حیات شاداب، رضیت با للہ، شفیق الرحمن اور شاہ ابوالمنصور شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email