60

با ادب باملاحضہ ہوشیار۔لندن اور کراچی۔۔۔۔صابر مغل

کراچی کے تقریباً وسط میں بانی پاکستان کا مزارقائد اعظم محمد علی جناح .ؒ کا مزار ہے وسیع رقبہ پر مشتمل یہ کراچی کی خوبصورت ترین جگہ ہے ملک کیا دنیا بھر سے کراچی آنے والے ہر فرد کی پہلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس مقام پر ضرور جائے،تقریباً دس سال قبل الراقم چند دن کراچی رہا اتفاق سے مزار قائد وہاں سے محض 15 سے20منٹ کی پیدل مسافت پر تھا اس ٹور میں بانی پاکستان کی آخری آرام گاہ پر دعا کے لئے گیا تو وہاں کا منظر اس قدر شاندار،خوبصور ت اور دل موہ لینے والا تھا حیرت کی چادر تن گئی،کچھ مصروفیت کے باوجود سب کچھ ترک کر کے اس پر اسرار اور دیدہ زیب منظر کا نظارا کرنے وہیں رک گیا پھر میرا معمول بن گیا جب بھی وقت ملتا وہاں جا پہنچتا،وہاں پہنچ کر بہت سکون محسوس کرتا،اسی طرح جب بھی وہاں پہنچا غیر ملکیوں سے ہٹ کر پاکستان کے کونہ کونہ سے آئے ہوئے بچے جوان بوڑھے،خواتین وہاں جوق در جوق پہنچتے،بانی پاکستان کے مزار کے علاوہ دیگر حسین مناظر کی منظر کشی کرتے ان کی خوشی اور جوش و خروش دیدنی تھا،ان دنوں بھی یہی موسم تھا جو آج ہے شدید گرمی کے باوجود وہاں پہنچنے والوں کی تعداد میں کچھ کمی نظر نہ آئی،یہ سب کچھ اس لئے یاد آیا کہ الیکشن مہم کے آغاز کے سلسلہ میں سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف دو روزہ دورہ کے لئے کراچی گئے تو وہاں دو پہر کے وقت 37گاڑیوں کے شاہانہ پروٹوکول میں مزار قائد پر جلوہ گر ہوئے ان کی آمد سے قبل انہیں شاہانہ پروٹوکول فراہم کرنے والے مالشیوں نے با ادب با ملاحضہ کا نعرہ چاپلوسی بلند کرتے ہوئے سیکیورٹی کے نام پر احاطہ مزار بانی پاکستان میں موجود تمام فیملیز کو نکال باہر کیا،چاروں اطراف کے گیٹ بند،مزید آنے والی فیملیز کو مزار سے دور ہی سڑکوں پر روک لیا گیا،سخت دھوپ،تپتی دوپہر میں وہ لوگ بچوں کو لئے گھنٹوں باہر کھڑے اور کوستے رہے ،کیونکہ شہنشاہ معظم وہاں تشریف فرما تھے،یہ شہنشاہ معظم عالی جاہ وہی شخصیت ہے جسے لندن کی سڑکوں پر بھاگتے ہوئے ساری دنیا نے دیکھا،حساب کتاب میں ماہر شہنشاہ نے ٹیکسی ڈرائیور سے کرایہ کی بقایا رقم ریز گاری میں وصول کرنے میں بھی عزت سمجھی،لندن اس ملک اوراس قوم کا شہر ہے جوطویل عرصہ تک دھرتی بر صغیر (جہاں اب پاکستان ،بھارت اور بنگلہ دیش کی صورت میں ممالک قائم ہیں جن میں دو ایٹمی قوتیں بھی ہیں)پر قابض رہی،انگریز نے یہاں حکمرانی کی،بڑوں بڑوں کو غلام بنایا ،ان غلاموں خاص طور پر مسلمانوں کے ارد گرد غلامی کا شکنجہ مزید کس دیا گیا اعلیٰ نوکریوں میں یہ نہ ہونے کے برابر،ہر جگہ ان کی تذلیل،معمولی سی باتوں پر ان پر ظلم و جبر کا پہاڑ توڑ دیا جاتا،گوانگریز نے پاؤں پڑنے والے مسلمانوں،آقا آقا کی گردان کرنے والوں ،میر جعفر میر صادق جیسا کردار ادا کرنے والوں کو جاگیریں اور دیگر مراعات دینے کے باوجودایک منظم طریقہ کے تحت بلا تفریق سب کے گلے میں غلامی کا طوق ڈالے رکھا،انگریزوں آزادی حاصل ہونے کے بعد ان کے چمچوں کی مجموعی تعداد نے آزادی کے لئے لاکھوں افراد کی قربانی دینے والی قوم پراپنی حکمرانی اور ان پرپھر سے غلامی کا فارمولا ایجاد کرتے ہوئے انہیں گھیر کر ان کی زندگی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے شکنجے میں کس لیاانگریز سے تو پھر بھی آزادی مل گئی تھی مگر ان سے آزادی کا حصول ناممکن ہے ، پرانے حکمرانوں کے دیس میں ہمارے یہ شہنشاہ تن تنہا سڑکوں پر مٹر گشت کرتے کیا دوڑتے نظر آئیں گے وہاں پہنچ کریہاں حکمرانی کرنے والے،عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھنے والے ،ان سے تمام بنیادی سہولیات تک چھین لینے والے ،قانون کے نام پر اس بے چاری مخلوق کو پابند سلاسل کرنے والے،گندے پانی کے جوہڑوں پر ان محکوموں اور جانوروں کو ایک ساتھ پانی پینے پر مجبور کرنے والے ،انہیں ٹیکسوں کے جال میں جکڑنے والے واپس پہنچتے ہی یکسر بدل جاتے ہیں،یورپ میں یہ خود دوڑتے ہیں یہاں عوام کو صرف دوڑاتے ہیں یہی نہیں بلکہ ہانکتے بھی ہیں،الیکشن کے دن ہیں انتخابی مہم کا آغاز ہو چکا ہے شہباز شریف بھی اسی وجہ سے کراچی پہنچے تھے،سیکیورٹی ایسے افراد کے لئے ضروری ہے مگر یہ کون سا قانون ہے کہ ان کی انتخابی مہم کے دوران عوام کو مزار قائد سے نکال باہر کیا گیا جو آنا چاہ رہے تھے انہیں گھنٹوں شدید گرمی میں انتظار کرایا گیاانتخابی مہم کے دوران ایسا پروٹوکول دینے کے احکامات کس مالشئیے نے دیئے؟اس کی باقاعدہ تحقیقات کرنا الیکشن کمیشن کا نوٹس لینا انصاف کا تقاضا ہے ،کراچی میں شہباز شریف نے فرمایاکالا باغ ڈیم ضروری ہے مگر قومی وحدت کی قیمت پر نہیں بننا چاہئے کراچی کے تمام مسائل حل کر دیں گے حیرت ہے کہ پاکستان پروٹوکول اور شاہانہ انداز پر تو آج تک کسی عوامی عہدوں پر براجمان یا کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کو بولنے یا اختلافات کی توفیق نہیں ہوتی مگر وہ منصوبے جن کا تعلق براہ راست قومی مفاد سے وابستہ ہے وہاں قومی وحدت آڑے آ جاتی ہے تمام تر ذاتی مفادات سے وابستہ کاموں پر پارلیمان میں سبھی یک زبان ہو جاتے ہیں،شہباز شریف کو چونکہ علم ہے کہ سندھ میں کالا باغ ڈیم کے حوالے سے اختلاف پیدا کیا جا چکا ہے یہی وجہ بنی کہ انہوں نے ووٹ حاصل کرنے کی خاطر کالا باغ ڈیم کو ہی موضوع بنا کر اس تنازعہ کی مزید آبیاری کر دی،دوسری جانب اسی روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ادارے تباہ ہو گئے جبکہ شہباز شریف خود ہر ادارے کے انچارج بنے ہوئے تھے،پنجاب درست نہ ہوا،اسلام آباد کو چھوڑیں پنجاب کے بڑے شہروں راولپنڈی،لاہور،فیصل آباد ،گوجرانوالا سمیت متعدد اضلاع میں آج تک پینے کا صاف پانی میسر نہیں،ہسپتالوں کی حالت زار بد ترین ،عوام کے گھٹیا ترین ٹرانسپورٹ،ہر چھوٹے بڑے شہر بلکہ عام سٹاپس پر پبلک ٹرانسپورٹ سے سر عام بھتہ خوری،سرکاری تعلیمی اداروں کو تباہ برباد کر دیا گیا،صاف پانی کمپنی سمیت 56کمپنیوں سے نکلنے والی کرپشن کی آبشاراپنے جوبن پر ہے،کاش شہنشاہ معظم طویل دور اقتدار میں یہ سب ٹھئک کر لیتے جہاں تک کراچی اور پورے سندھ کا تعلق ہے وہاں بھی شہنشاہوں کی کمی نہیں بلکہ وہ تو اس شہنشاہ سے بھی بڑھ کر شہنشاہ ہیں،روشنیوں کے شہر کو صاف پانی کی فراہمی تو کیا مضر صحت پانی سے بھی محروم کر دیا گیا ہے اندرون سندھ رہنے والے ہاری پیدا ہی ہاتھ جوڑنے،گالیاں سننے،خدمت کرنے،کھیتوں کھلیانوں میں پھٹے پرانے کپڑوں کے ساتھ کام کرنے،غذائی قلت کے بغیر مرنے کے لئے پیدا ہوئے مگر شہنشاہوں کے نزدیک سب درست ہے وہی اس نیم مردہ قوم کے مسیحا ہیں،یہ وہ مسیحا ہیں جن کی جائدادیں بیرون ممالک ہیں شریف فیملی کی تو برطانیہ میں اورجائدادیں نکل آئیں ہیں جن کی مالیت 3کروڑ 12 لاکھ پاؤنڈز سے زیادہ ہے،ہماری معیشت کو سنوارنے والے اور شہزادوں کی وطن واپسی اور گرفتاری کے لئے ریڈ ورانٹ جاری کر کے انہیں انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں یہ پھر بھی ہمارے مسیحا ؟پھر بھی با ادب با ملاحظہ ہوشیار ؟ دنیا بھر میں ایسا نہیں ہوتاکہ ایسے شہنشاہوں کے بانی وطن جانے پر عوام کو نکال باہر کیا جائے ایسی شرمناک صورتحال صرف پاکستان میں ہی دیکھنے کو ملے گی ،انتخابی مہم کے دوران کسی بھی شخصیت کو ایسا پروٹوکول دینا کس قانون کے زمرے میں آتا ہے ؟جو خودبیرونی دنیا کے غلام ہوں ان میں وطن واپس آ کر فرعونیت کا عنصر مزیدتروتازہ ہو جاتا ہے یہ صورتحال صرف مسلم لیگ (ن) میں ہی نہیں ہمارے تمام حکمرانوں اور یورپ کے غلاموں کی نس نس میں رچی بسی ہے ، میاں شہباز شریف کو چاہئے تھا کہ وہ دورہ سندھ میں تھرپارکر کے باسیوں کو بھی کچھ آس امید کا لارا دے آتے ۔

Print Friendly, PDF & Email