67

ذوق نظر۔ تحریر ۔۔۔۔فیس بکی دانشوروں کے نام۔۔۔۔ فخرالدین فخر

کسی بھی چیز کے منفی اور مثبت پہلو ہمیشہ سے رہے ہیں۔تاہم صورت حال کوئی بھی ہو نظر مثبت پہلو پر ہی ہونی چاہئے۔ اب دیکھیے سائنس نے پوری دنیا کو واقعی ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کردیا ہے ۔ اور اس کے ایجادات جہاں انسانی زندگی کو اسان بنارہے ہیں وہاں کچھ مسائل بھی جنم لے رہے ہیں ۔ نیٹ کے استعمال کو ہی لیجئے کہ صورت حال کوئی بھی ہو واقعہ کو ئی بھی ہو آ پ سیکنڈوں میں با خبر ہو سکتے ہیں ۔ جو بھی چیز آ پ کو پسند ہو آ پ کے ذوق کے مطابق ہمہ وقت موجود ہوتاہے ۔ بس ایک کلک کریں اور دنیا میں کہیں بھی پہنچ جائے ۔
کسی بھی معاشرے میں کردار سازی اور ذہین سازی میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہوتاہے۔ پوری معاشرے کو جو بھی سوچ دینا ہو تاہے ۔اس کے لئے میڈیا کا استعمال عام سی بات ہے۔
وطن عزیز میں بھی میڈیا نہایت فعال ہے ۔ سیاسی صورت حال ہو یا معاشرتی یا پھر معاشی میڈیا فوراًسب سے پہلے کا نعرہ لگاتے ہوئے آپ تک خبر پہنچائیگا۔خبر اکثر سچی بھی ہوتی ہے مگر مبالعہ کے ساتھ ۔ اس لئے آئے روز پیمراسے ان کا پنگا جاری رہتا ہے۔ اور خبر دینے کا سلسلہ بھی۔ لیکن ایک عالمی نعرہ یعنی آزادی اظہار کا بڑی شدومد سے لگایا جاتاہے۔ اور اس کی آڑ میں ہر اچھی بری خبر قارئین اور ناظرین تک پہنچانے میں سارا میڈیا پیش پیش رہتاہے۔ پھر تو کچھ بھی پردے میں نہیں رہنے دیا جاتا۔خواہ اس سے کسی کی دل ازاری ہو کسی دکھیارے کی زخموں پر نمک پاشی ہی کیوں نہ ہو۔ عریا نی اور فحاشی کی تبلیع معربی ایجنڈے کے زیر اثر تو آ پ سب کے سامنے ہیں ۔اس کار خیر میں سوشل میڈیا کیوں پیچھے رہے ۔ اس کے استعمال کرنے والے بقول جاوید چوہدری نئی نویلی امت ہی تو ہیں ۔اور جیسے شتر بے مہار ہی ہو تے ہیں ۔چونکہ سمارٹ فون تک رسائی اب کسی سے بھی بعیدنہیں رہی۔ لیکن بدقسمتی سے اس کے استعمال کرنے والے علم سے بے بہرہ اور مطالعے سے عاری ہوتے ہیں اس لئے بغیر سوچے سمجھے پوسٹ کردیتے ہیں یا لائک کرتے ہیں تو میڈیا کی زہن سازی اور کردار سازی کی کامیات کو ششوں کے زیر اثر یہ نئی امت اپنے دین اور مذہب کو بھی نہیں بخشتے ۔یہ ان پڑھ اور جاہل فیس بکی اتنا بھی نہیں جانتے بعض اوقات غلط لائک یا پوسٹ سے ایماں کے ہی لالے پڑ جاتے ہیں ۔ابھی تو ان کے پاس فیس بک گروپس بھی ہو تے ہیں اور گروپس کی شکل میں جاہلانہ بحث کرتے ہیں ۔ ابھی الیکشن جو قریب آتے جارہے ہیں انکی ہذیانی کیفیت میں بھی اضافہ ہی نظر آرہا ہیں )معذرت کے ساتھ ۔میرے محترم اساتذہ اور وہ لو گ جو واقعی تعلیم یافتہ ہیں اور اس کا استعمال جانتے ۔ ان میں داخل نہیں ہیں(۔ تو فیس بکی دانشوروں میں اس ہیجانی کیفیت اور خود ساختہ ذہنی دباؤ نے ان کے سوچنے سمجھنے کی تھوڑی سی صلاحیت کو بھی صلب کر لی ہیں ۔ان کی اس کیفیت کے نتیجے میں سب سے زیادہ زیر عتاب مذہب اور علماء کرام ہیں ۔ علماء کی ببانگ دہل تضحیک کی انمیں بدرجہ اتم جرات موجو د ہوتی ہیں ۔اور بعض تہمت لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ کوئی مولویوں کو ووٹ دینا گناہ گردانتا ہے تو ۔ کوئی طنزاً مولویوں کو ووٹ نہ دینے کو عذاب آخرت سے مترادف قررار دے ہیں ۔ تو بھائی ووٹ تو آپ کا حق ہے جس کو چاہے دیدو ۔ لیکن اپنے ایمان اور مذہب کا تو کچھ خیال کیا کرو اور گروپ ڈسکسشن کے نام پر اپنے ماہرانہ خیالات کو کچھ تو لگام دو۔ آپ کو پتہ ہونی چاہئے کہ اسلام میں بے لگام آزادی اظہار کی کو ئی گنجائش نہیں ہیں ۔رہی یہ بات کہ کس کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں ۔بحیثیت مسلمان آپ ہی کو سوچنا ہے۔ اور اس ملک کے قیام کی تاریخ کو ذرا پڑھ لیں ۔ چھ لاکھ انسانوں کی قربانی کس لئے تھی ۔ اور یہ بھی دیکھئے بعد کے آنے والوں نے ان سے وفاکی یا نہیں ۔اور یہ ملک بنا کس لیے تھا ۔ آپ کے خیال میں ملکی خزانے کے لوٹنے والے چور ڈاکو لٹیرے اور اسلام سے بے بہرہ جن کو کلمہ ہی یا د نہیں ۔ اور وہ جو اپنی جیل یاترا پر فخر کرے ۔اور اس ملک کے دولت یہودیوں کے بنکوں میں جمع کرے اور اپنے بچوں کو بھی ان جیسا بنانے وا لے اور خود بھی نیم پاکستانی آ پ کو یہی لوگ اہل وفا لگتے ہیں تو ووٹ کی پر چی آ پ کے ہاتھ میں ہے دیدے۔ اس میں کسی سے کوئی فتویٰ لینے کی چنداں ضرورت نہیں ۔نہ ہی اس چیز سے ڈرنے کی ضرورت ہے کہ آخرت میں کیا ہو گا ۔یہ تو آ پکی مرضی ہے اس وقت تک جب تک جسم میں جوان اور بے پرواہ خون دوڑ رہا ہے۔اور دوسری طرف آ پ سمجھ رہے ہیں کہ بہت ہو چکا ۔ دین بے زار طبقون سے اب قوم کو بے قوف نہیں بنانا۔ان کا دور اب ختم اور ہمیں ترکی کی طر ح کا انقلاب اور انتخاب چاہیے ۔ تو بھی آ پ کی مرضی ۔آ پ ووٹ کے ذریعے انقلاب لاسکتے ہیں ۔ فیصلہ آپ کا لیکن ذرا سوچ کے کر ناہے ۔ ۔آ پ کا تعلق جس پارٹی سے ہے ۔ ان کے اچھے کاموں کی خوب تشہیر کرو لیکن دوسروں کو تو بخش دو۔

Print Friendly, PDF & Email