تازہ ترین
Home >> مضامین >> داد بیداد۔۔۔۔معذوروں کا ووٹ ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

داد بیداد۔۔۔۔معذوروں کا ووٹ ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

داد بیداد۔۔۔۔معذوروں کا ووٹ ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ایک خبر نے سب کو چونکا دیا خیبر پختونخوا کے الیکشن کمشنر نے خواتین ، بوڑھوں اور معذوروں کو پولنگ بوتھ تک لانے اور ان کا ووٹ کاسٹ کرانے کی ضرورت پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ان کو ووٹ کے عمل میں باقاعدہ شریک کرنے کی ہدایت کی ہے اگر عام بات ہوتی تو اس حکم یا ہدایت کو معمول کی کاروائی قرار دے کر ب�آسانی نظر انداز کیا جاسکتا تھا لیکن معاملہ ووٹ کا ہے مقدس قومی امانت کی بات ہے اور اہم قومی ذمہ داری کا مسئلہ ہے اس لئے ہم صوبائی الیکشن کمشنر کی بات کو نظر انداز نہیں کرسکتے حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں ووٹ معذوروں کا شعبہ ہے اس شعبے کو ہم نے معذوروں کیلئے کب کا وقف کیا ہوا ہے یہ 1987ء کا واقعہ ے ہمارے مرحوم دوست ’’ شاٹی ‘‘ دونوں ٹانگوں سے معذور تھے ہتھ ریڑھی پر بیٹھ کر کبھی کبھار بازار آتے دوستوں کے پاس جاتے شطرنج کھیلتے اور گپ شپ لگاتے تھے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے کاغذات نامزدگی داخل کئے ریٹرننگ افیسر غضنفر علی ان کے شطرنج کے ساتھی اور گہرے دوست تھے سکرو ٹینی کے وقت اُ ن سے پوچھا شاٹی بھئی تم دونوں ٹانگوں سے معذور ہو ممبری کے لئے کاغذات نامزدگی کیوں داخل کئے ؟ شاٹی نے کہا’’ جناب عالی ! میں سب سے موزون اُمیدوار ہوں حکومت اندھی ہے ، افسر بہرے ہیں لنگڑا لولا ممبر ہی ٹھیک رہے ۔‘‘ خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے ۔۔۔۔۔خیر سے شاٹی کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے اور انہوں نے ’’ دباکر‘‘ 5سالوں تک عوام کی نمائندگی کا حق ادا کیا دراصل ہمارا انتخابی نظام معذور ہے اُمیدوار بھی معذور ہیں اس لئے ووٹر کو بھی معذور ہی ہونا چاہیئے اس اجمال کی تفصیل کوئی پوچھے تو یہ بات عرض کرنے میں کوئی باک نہیں کہ انتخابی نظام 10وجوہات کی بناء پر معذور ہے (1) یہ نظام اہل اور نا اہل میں تمیز نہیں کرسکتا (2)یہ نظام دولت مند وں کی طرف سے بے تحاشا انتخابی اخراجات کو کنٹرول کرنے میں نا کام ہوا ہے (3) یہ نظام فرقہ پرستوں کا راستہ روکنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے ( 4) یہ نظام علاقائی تعصب کا راستہ روکنے میں ناکام ہوا ہے (5) یہ نظام بیلٹ بکس کا تقدس بحال رکھنے میں ناکام ہوا ہے ( 6) یہ نظام اکثریت کے نمائندے کو نمائندگی کا حق دینے میں ناکام ہوا ہے کیونکہ 10اُمیدوار وں کو ملا کر ایک لاکھ ووٹ بنتے ہیں کامیاب ہونے والا 20ہزار ووٹ لے کر میدان مار لیتا ہے (7) یہ نظام ووٹ کی پرچی چرانے والوں کا راستہ روکنے میں ناکام ہوا ہے (8) یہ نظام انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ سنانے میں 5سال لگاتا ہے اتنی مدت میں اسمبلی کی میعاد ختم ہوجاتی ہے (9) یہ نظام اتنا فرسودہ اور بے کار ہے کہ اسلحہ اور منشیات کا سمگلر یا بردہ فرو ش آسانی سے اسمبلی کا ممبر بن جاتا ہے (10) یہ نظام اس قدر ناکارہ ہے کہ دشمن کے لئے کام کرنے والے ایجنٹ آسانی سے اسمبلی کے رکن بن جاتے ہیں لہٰذا اس نظام میں بالکل جان نہیں ہے اس نظام سے بہتری کی کوئی اُمید وابستہ نہیں کی جاسکتی اس کو مکمل طور پر مفلوج اور معذور کر دیا گیا ہے الیکشن میں حصہ لینے والے اُمیدوار 5وجوہات کی بناء پر معذور ہیں (1) دولت کی حرص اور ہوس نے ان کو اندھا کردیا ہے (2) ذاتی مفادات کے چکر نے ان کو گونگا کردیا ہے وہ حق بات زبان پر نہیں لاسکتے ( 3) غیر قانونی ذرائع آمدن اور حرام کی کمائی نے ان کو بہرا کردیا ہے وہ ملکی مفاد کی کوئی بات نہیں سنتے (4) کرپشن ، اقرباء پروری اور فتنہ انگیزی نے ان کے دماغ کو ماؤف کر دیا ہے وہ سوچنے اور غورو فکر کر نے سے معذور ہیں اس طرح معذور سسٹم کے تحت معذور اُمیدواروں میں سے سب سے زیادہ معذور کا انتخاب ہورہا ہے تو ظاہر ہے ووٹ دینے کیلئے بھی معذوروں کو بلانا ہوگا ہماری انتخابی تاریخ میں دو ریفرنڈم ایسے ہیں جن میں ووٹروں کا ٹرن آؤٹ 60فیصد سے زیادہ ظاہر کیا گیا دونوں ریفرنڈم ایسے تھے جن میں شناختی کارڈ کی پابندی نہیں تھی زندہ انسان مردہ کی جگہ ووٹ دے سکتا تھا جنرل صاحب کو ووٹ دینا تھا ایک ووٹ میں جنرل ضیاء الحق کو دوسرے ووٹ میں جنرل مشرف کو ہر حال میں صدر بناناتھا اس لئے لازماََ لا محالہ ٹرن آؤٹ 60%سے اوپر دکھاناتھا ورنہ عام انتخابات میں مراد بیگ اور صمد کو ووٹ دینے کے لئے آنے والوں کی شرح حاضری 40 فیصد سے اوپر کبھی نہیں گئی 40فیصد کی شرح بھی کھینچ تان کر بڑی مشکل سے پوری کی (5) اندھی تقلید ، مفادات کی سیاست اور انانیت کی لڑائی نے ان کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھی ہوئی ہے اس وجہ سے وہ دیکھنے سے معذور ہیں خیبر پختونخوا کے الیکشن کمشنر نے معذور امیدواروں کو ووٹ دینے لئے معذوروں کی بڑی تعداد کو پولنگ سٹیشن اور پولنگ بوتھ تک لانے کا حکم دے کر بروقت قدم اُٹھایا ورنہ ہم یہ بات سمجھنے سے معذور ہوتے کہ معذوروں کو ہر صورت میں ووٹ دینے کے لئے پولنگ سٹیشن لانے کی کیا ضرورت ہے ؟ قومی مفاد کا تقاضایہ ہے کہ پولنگ سٹیشن کو شتر بے مہار کی طرح کھلا ہر گز نہ چھوڑا جائے اگر کھلا چھوڑدیا گیا تو قیامت آجائے گی نیز یہ بھی قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ صحت مند ووٹروں کو لگام دینے کی ضرورت ہے اگر سوچنے، سمجھنے اور دیکھنے والے ووٹر آگئے تو وہ ’’دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں ‘‘ ہماری مرضی سے ہمارے ’’ لاڈلوں ‘‘ کو ووٹ نہیں دیں گے اس کا متبادل یہ ہے کہ معذوروں کو کھینچ کر لے آؤ معذور ووٹ نہیں دے سکتا اُس کے ووٹ کا حق تم استعمال کرو نتیجہ وہی آئے گا جو تم چاہتے ہو اس لحاظ سے معذوروں کا ووٹ ہم سب کے لئے باعث برکت ہوگا خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت والے بھی خوش ہوں گے تبدیلی کی منزل بھی قریب تر نظر آئے گی آج کے بعد ہمارا نعرہ یہ ہوگا ’’دنیا بھر کے معذورو! ایک ہوجاؤ تبدیلی کے علمبردا ر تم ہو ‘‘ ؂
زمانہ عہد میں اُس کے ہے محوِ آرائش
بنیں گے اور تارے اب آسمان کے لئے


error: Content is protected !!