35

متحدہ مجلس عمل نے اتوار کے روز ایون کے مقام پر ایک جلسہ عام منعقد کرنے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں موٹر سائیکلوں اور موٹر کاروں اور جیپوں کی ریلی نکالی

چترال ( ڈیلی چترا ل نیوز) متحدہ مجلس عمل نے اتوار کے روز ایون کے مقام پر ایک جلسہ عام منعقد کرنے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں موٹر سائیکلوں اور موٹر کاروں اور جیپوں کی ریلی نکالی جوکہ چترال میں چھاونی پل کراس کرنے کے بعد شیاقوٹک ، بنجو موڑ ، خورکشاندہ، مغلاندہ ، ژانگ بازار سے ہوکر اتالیق بازار میں پولو گراونڈ چوک پر پہنچ کر احتتام پذیر ہوئی جہاں ایک مختصر جلسہ بھی منعقد ہوا ۔ ایم ایم اے کے امیدواروں مولانا عبدالاکبر چترالی، مولانا ہدایت الرحمن ، ضلعی صدر ایم ایم اے قاری عبدالرحمن قریشی، جنرل سیکرٹری مولانا جمشید احمد ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں مولانا اسرار الدین الہلال، مولانا عبدالشکور، مولانا عبدالسمیع، قاری فدا محمد، حافظ انعام میمن، قاضی سلامت اللہ، وجیہ الدین، قاری وقار احمد بھی موجود تھے۔ دونوں مقامات پر اپنے خطاب میں ایم ایم اے کے رہنماؤں نے کہاکہ 25جولائی دراصل ملک میں سیکولرزم کے علمبرداروں، امریکہ اور انڈیا کے اشاروں پر ناچنے والوں، ملک کی اسلامی نظریاتی اساس کو تبدیل کرکے ملکی آئین سے اسلامی شقوں کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کن ریفرنڈم ہوگا جس میں فتح اسلام کی شیدائیوں کی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے اس ملک کو کرپشن، ظلم وناانصافی کے اندھیروں سے نکالنے کی ایک تحریک اور کوشش کا نام ہے اور پاکستان کے عوام اب جان چکی ہے کہ باری باری اقتدار کے مزے لینے والوں کو ملک کو تباہی وبربادی کے سواکچھ نہ دیا اور اب انہیں اپنی قسمت آپ بدلنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے جس سے وہ بھرپور فائدہ اٹھاکر دیندار اور دیانت دار قیادت کو آگے لارہی ہے ۔ انہوں نے اس ا مید کا اظہار کیاکہ چترال میں ایم ایم اے کی قومی او رصوبائی اسمبلی کے امیدوار دونوں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے جس کے بعد ترقی کا دور دورہ ہوگا اور کرپشن اور ظلم وناانصافی کا خاتمہ ہوکے رہے گا۔ا نہوں نے ایم ایم اے کے کارکنان پر زور دیا کہ وہ ہر گھر گھر پہنچ کر ایم ایم اے کی انقلاب کی باتیں ان بہن بھائیوں تک پہنچادیں جن تک رسائی نہ ہوئی ہو۔ ایم ایم اے کے رہنماؤں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیاکہ چترال کی سرزمین ایم ایم اے کے علماء کے لئے نہایت ہموار ہے کیونکہ یہاں بسنے والے اسلام کی شیدائی ہیں اور ایم ایم اے حکومت کی فیوض وبرکات پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email