70

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اعلیٰ سطح مذاکرات

اسلام آباد: انتخابات کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینے اورممکنہ تعاون کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے۔ پیپلزپارٹی کی مذاکراتی کمیٹی سردارایاز صادق کے گھر پہنچی جہاں باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا، مذاکرات کے ایجنڈے میں انتخابی نتائج،حکومت سازی، پارلیمنٹ کا بائیکاٹ اور حلف نہ اٹھانے کے نکات سمیت دیگر امور شامل تھے۔مسلم لیگ (ن) کی تین رکنی  کمیٹی میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،ایاز صادق اور سردار مہتاب  جب کہ پیپلز پارٹی کی مذاکراتی ٹیم میں  سید خورشید شاہ،  شیری رحمان اور فرحت اللہ بابر شامل تھے۔بعدازاں مذاکرات کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ  دونوں جماعتوں کا اتفاق ہے کہ الیکشن 2018 چوری ہوگئے اور انتخابی عمل کے حوالے سے الیکشن کمیشن ناکام رہا جب کہ دونوں جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن مستعفی ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے نمائندوں نے مشاورت کی کہ آگے کیسے چلنا چاہیے، دونوں جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں پارلیمان کا پلیٹ فارم نہیں چھوڑنا چاہیے۔فرحت اللہ بابر کا مزید کہنا تھا کہ ہماراوفد متحدہ مجلس عمل سے بھی ملے گا ان کے سامنے بھی ہم اپنا موقف پیش کریں گے اس کے بعد ایک اور ملاقات ہو گی جس میں متفقہ مؤقف پیش کیا جائے گا۔مذاکرات سے قبل خورشید شاہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے انتخابات کے نتائج مسترد کردیے مگر اس کے باوجود پارلیمنٹ جانا ہےاُمید ہے حلف نہ لینے کی بات کرنے والی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں جانے پر قائل کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان نے اکثریت لی ہے تو آئیں اور حکومت بنائیں مگر ایک بات کہہ دوں بڑی مہربانی کی مگر سادہ اکثریت نہ آئی،پنجاب میں حکومت بننے اور نہ بننے سے ہمارا لینا دینا نہیں، ہمیں اپوزیشن میں بیٹھ کر ملک کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email