تازہ ترین
Home >> مضامین >> مذہبی سیاست اور موجودہ حکومت سے توقعات ۔۔۔۔ تحریر : محکم الدین 

مذہبی سیاست اور موجودہ حکومت سے توقعات ۔۔۔۔ تحریر : محکم الدین 

الیکشن 2018 کے جو نتائج چترال میں سامنے آئے وہ کوئی غیر متوقع نہیں تھے ۔ 2002 میں جب پہلی مرتبہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد بنا ۔ تو ایم ایم اے کو ناقابل یقین کامیابی ملی ۔ بعد میں جب مذہبی جماعتوں نے انفرادی حیثیت سے الیکشن لڑنے کی کو شش کی ۔ تو اُنہیں بُری طرح ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ جن کی مثالیں 2013اور اُس سے پہلے کے الیکشن میں موجود ہیں ۔ حالیہ انتخابات کو اگر دیکھا جائے ۔ تو چترال میں سب سے زیادہ مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر ووٹ کا استعمال کیا گیا ۔ جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں ۔ اگرچہ اس کے مثبت اثرات سے انکار ممکن نہیں ۔ لیکن اس کے منفی اثرات سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی علاقے کی تعمیرو ترقی کیلئے امن بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔ جب تک مقامی لوگوں میں رواداری بھائی چارہ اور اخوت نہیں ہوگی ۔ جتنے بھی وسائل خرچ کئے جائیں اُس کے مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے ۔ خوش قسمتی سے چترال کے لوگ امن کو مقدم رکھتے ہیں ۔ اور مختلف مسالک اور مذاہب کے ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے غم و خوشی کو اپنا سمجھتے ہیں ۔ یہ مثال شایددوسرے شہروں میں بہت کم ملتی ہے ۔ انتخابات کے موقع پر مختلف پارٹیوں کی طرف سے اپنی کارکردگی اور پارٹی منشور پیش کرکے لوگوں سے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ لوگوں کو سبز باغ دیکھانا اور آسمان سے تارے توڑ لانے تک کے وعدے وعید کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا ۔ ایسے میں مذہبی پارٹی جو نسخہ استعمال کرتے ہیں وہ سب پر بھاری ہے ۔ اور لوگ کسی صورت اس سے انحراف کرنے کا نہیں سوچ سکتے ۔ یوں مذہب کے نام پر چترال میں ایم ایم اے کے امیدواروں کو الیکشن 2018میں جو ووٹ ڈالے گئے ۔ چترال کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ اگر ہم پاکستان کے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے آئین پاکستان کو پیش نظر رکھ کر سوچیں ۔ تو مذہبی اور مسلکی تفریق کی بنیاد پر ووٹ طلب کرنا کسی بھی طور درست نہیں ہے ۔ کیونکہ تمام شہریوں کے ووٹ کی حیثیت برابر ہے ۔ جس میں کالے گورے امیر غریب مذہبی اور غیر مذہبی کی کوئی تفریق موجود نہیں ہے ۔ چترال میں انتخابات کے دوران مذہبی پارٹیوں کے ذمہ دار سیاسی رہنما وں اور عام کارکنوں کی طرف سے کُھلے عام اسے اسلام اور کُفر کی جنگ تک ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔جس پرسادہ لوح لوگ عقیدے کی بنیاد پر ووٹ دینے پر مجبور ہوئے ۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے ۔ کہ یہ واقعی ایسی ہی جنگ تھی ۔ تو مذہبی جماعتوں کے مرکزی قائدین جو ان انتخابات میں قو می اور صوبائی سطح پر بُری طرح شکست سے دوچار ہوئے ۔ اُسے کیا اسلام کی شکست قرار دیا جائے ؟ اور جن لوگوں نے اُن کے خلاف اپنا ووٹ استعمال کیا ۔ اُن کو کُفر کا حامی قرار دیا جائے ؟ انتہائی ادب سے گذارش ہے کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہمارے مذہبی جماعتوں کے قائدین علماء اس ملک کے آئین کے مطابق الیکشن میں حصہ لیتے ہیں ۔ اس میں دوسری پارٹی قائدین کی طرح وہ کبھی جیت اور کبھی شکست سے دوچار ہو جاتے ہیں ۔ اسلئے انتخابی عمل کو مذہب کی بنیاد پر کُفر اور اسلام کی جنگ قرار دینا نہ صرف قابل مذمت ہے ۔ بلکہ آئین پاکستان کے تحت اظہار رائے کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے ۔ یہ بحث اس لئے چھیڑا گیا ہے ۔ کہ ضلع کے بعض مقامات سے اس قسم کی خبریں سننے کو ملتی ہیں ۔ جن سے امتیازات اور تفرقے کی بو آتی ہے ۔ اور ہنوز بعض افراد اسے مسئلہ بنا کر لوگوں کے درمیان لکیر کھینچنے کی کوشش کر تے ہیں ۔ جو کہ چترال جیسے علاقے کیلئے زہر قاتل ہے ۔ انتخابات سے پہلے ہی پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ سمیت دیگر پارٹیوں نے اس کی طرف نشاندہی کی تھی ۔ کہ مذہبی جماعتوں کی طرف سے مذہبی بنیادوں پر ووٹ طلب کئے جاتے ہیں ۔ جو کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف ہے ۔ لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر الیکشن کمیشن کی طرف سے اُس کا نوٹس نہیں لیا گیا ۔ یا امیدواروں کی طرف سے قواعدو ضوابط کے تحت الیکشن کمیشن سے رجوع نہیں کیا گیا ۔ اور بالاخر انتخابات کے نتیجے میں قومی اور صوبائی اسمبلی سیٹ ایم ایم اے کے حصے میں آئے۔ لیکن گذشتہ را صلواۃ اور آیندہ را احیتاط کے مصداق تمام پارٹیوں کو آیندہ صرف اور صرف کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں ووٹ طلب کرنے چاہیں ۔ مذہب اور مسلک کی تفریق کو ہوا دینا چترال کے مفاد میں ہر گز نہیں ہے ۔ ملک جس دوراہے پر کھڑا ہے ۔ چترال کو اُس سے کئی گنا زیادہ مشکلات درپیش ہیں ۔ غربت ، بے روز گاری ، ناقص انفراسٹرکچر ایک طرف جبکہ لواری ٹنل کے کُھلنے اور سی پیک منصوبے کی خبر سُن کر باہر کے کاروباری اور دیگر افراد کے جم غفیر نے چترال کا رُخ کر لیا ہے ۔ جس سے مقامی لوگوں کی مشکلات روز بروز بڑھ رہی ہیں ۔ ایسے میں چترال کے عوام اور سیاسی قائدین کی باہمی اتفاق و اتحاد کی جتنی آج ضرورت ہے ۔ پہلے شاید اتنی نہیں تھی ۔ ہم تحریک انصاف کی صوبائی قیادت اور آنے والی حکومت سے یہ امید رکھتے ہیں ۔ کہ چترالی عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے وہ نومنتخب ممبران اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی ، مولانا ہدایت الرحمن اور اقلیتی رکن اسمبلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ سے بھر پور تعاون کریں گے ۔ چترال کیلئے یہ بات یقینی طور پر خوش آیند ہے ۔ کہ کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والا تحریک انصاف کے نوجوان رہنما وزیر زادہ اقلیتی مخصوص نشست پر کامیاب ہوا ہے ۔ چترال کے مسائل کے حل کے سلسلے میں صوبائی حکومت سے روابط بڑھانے میں کردار ادا کر یں گے ۔ اور تحریک انصاف کی حکومت چترال کے عوام سے انتخابی فیصلے کا انتقام لینے کی بجائے چترال کی تعمیر و ترقی خصو صا سابق اعلانات پر عمل در آمد کو یقینی بنائیں گے ۔


error: Content is protected !!