59

دھاندلی کا شور اورہمارےسیاستدان تحریر : ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

تحریر : ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

جب بھی اس ملک میں الیکشن ہوئے بدقسمتی سے ہاری ہوئی جماعتوں کی طرف سے دھاندلی کا شور برپا ہو جاتا ہے جو بھی جماعت الیکشن ہارتی ہے نتائج تسلیم نہیں کرتی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو گئی اور دھاندلی دھاندلی کا شور شروع ہو گیا  ہے اگرچہ ہمارے جیسے ترقیاتی پزیر ممالک میں دھاندلی کو بھی خارج امکان قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم  یہ ایک المیہ ہے کہ دس سال گزرنے کے باوجود جمہوری حکومتیں اس ادارے کو ہی مظبوط نہ بنا سکی اس کو ہم ان حکومتوں کی ناکامی کہہ سکتے ہیں موجودہ الیکشن کمیشن بھی انہی سیاستدانوں کا لایا ہوا ہے جو آج دھاندلی دھاندلی کر رہے ہیں،لیکن ان سب کے باوجود اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ جو رزلٹ آیا ہے وہ توقع کے مطابق آیا ہے یہی نیشنل،انٹرنیشنل سروے اور تجزیہ کار بتا رہے تھے اور یہی اس ملک کی فضا بتا رہی تھی، اس الیکشن میں ناکامی کا زیادہ روگ مولانا فضل الرحمن صاحب کو لگ گیا ہے انہوں نے سوگ کے طور پر  چودہ اگست بھی نہ  منانے کا فیصلہ کیا ،سیاستدانوں کو دھاندلی کا شور مچانے سے پہلے اپنی کوتاہیوں کا تجزیہ ضرور کرنا چاہیے کہ عوام نے انہیں اسطرح ریجکٹ کیوں کیا جو دوسری پوزیشن  بھی نہیں لے سکے وہ بھی دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں توان کو یہ دیکھنا ہو گا کہ ان کی پارٹی کے وہ لوگ جو  سالوں سے ممبر ز رہے سینیٹرز رہے انہوں نے کتنا کام کیا کارکنوں کے ساتھ کتنا رابطہ رکھا عوام کے ساتھ کتنا رابطہ رہا  یہ کھوج لگانے کی ضرورت ہےکہ کیا اپ کی پارٹیز میں ایسے لوگوں کو عہدے تو نہیں ملے جن کے اپنے ووٹ پہ شک ہے اور جن کا پارٹی میں کام زیرو ہے  اور  جو ضلعوں میں تحصیلوں یو سیز میں میں پارٹی کو مظبوط کرنے کی بجاۓ خود کو لیڈر بنانے کے چکروں میں رہے اور آپ کے پرانے  اور مخلص کارکنوں کو سائیڈ  لائن کیے ہوئے ہیں۔  بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے کارکنوں کو بلائے اور ان کے تحفظات کو دور کرے میں پہلے بھی اپنے کالمز میں بتا چکی ہوں وقت بدل  چکا نیا جینریشن آگیا ہے لیڈر وہ ہوتا ہے کہ جس کا ہاتھ عوام کی نبض پہ ہو جو عوام کا رخ دیکھ کر اپنی پالیسی بنائے،بدقسمتی سے ہماری پرانی سیاسی پارٹیز اب بھی اپنی کوتاہیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے دھاندلی کا شور اور اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگا رہی ہے اور اس میں وہ جماعت بھی شامل ہے جس کے بارے میں کیا جاتا ہے تین دفعہ حکمرانی انہیں اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے ہی ملی اور خود جی ایچ کیو گیٹ نمبر چار کے پیداوار ہے اب اگر ایک دفعہ کسی  اور کو بھی ملی ہے تو صبر کرنے میں کوئی حرج نہیں اصل میں ان کو تکلیف اس بات کی ہوئی ہے کہ نوجوانوں نے اس دفعہ موروثیت کے بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے اگر یہ سلیکشن ہوتی تو چودھری نثار ایک سیٹ ضرور جیتتے مصطفے کمال اور تحریک لبیک والے کچھ نشستیں ضرور لیتے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ لے کہ آئے ہیں ن لیگ کو اتنی نشستیں نہ ملتی اور پی ٹی آئی کو اتنا سپلٹ مینڈیٹ نہ ملتا، اپنی غلطیوں کو جانچے بغیر  الزام لگانا مناسب نہیں اور اس دور میں کوئی ان باتوں پہ یقین کرنے کو تیار نہیں سب کو یہ پتہ ہے کہ الزامات لگانے والے اپنے ذاتی مفادات کے لیےکیسے بیک ڈور ڈیل کرتے ہیں اور کیسے گھٹنے ٹیکتے ہیں اب باتیں چھپ نہیں سکتی لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ وجہ کیا ہے کہ جناب شیخ کا قدم ادھر بھی اور أدھر بھی ،  پاکستان میں سیاست کا نقشہ بالکل بدل چکا ہے سیاست کی بھاگ دوڑ اب نوجوانوں کے ہاتھ میں آچکی ہے موروثی سیاست کو انہوں نے اس دفعہ پاؤں تلے روندھ دیا ہے کوٹ دادو کا نوجوان شبیر قریشی کو جب ان کی پارٹی پی ٹی آئی نے ٹکٹ نہیں دی ان کی جگہ غلام مصطفے کھر کو دیا تو پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے انہیں آزاد کھڑا کیا اس نے دو موروثی سیاستدانوں کو بری طرح شکست دی اس طرح جہلم کے تیمور بھٹی فیصل آباد،لیہ وغیرہ کے پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے ٹکٹ نہ ملنے پر اپنے ساتھیوں کو آزاد کھڑا کیا اور جیتوا دیئے شاہ محمود قریشی کو بھی صوبائی سیٹ میں شکست پی ٹی آئی کے ہی ایک نوجوان کے ہاتھوں ہوئی ہے پی ٹی آئی والوں نے قیادت کی ٹکٹوں کی غلط تقسیم پر احتجاج بھی کیا تھا اور عمران خان صاحب ان غلطیوں کو خود بھی مانا تھا یہ شعور ہے کہ نظریات اپنی جگہ لیکن لوگ بھیڑ بکریاں نہیں ہوتے کہ غلط بات پر بھی  جی حضوری کرے اور وہ سیاستدان جن کا کام صرف اپنی ذاتی زندگی بدلنا ہے اور ان کی زندگی سیاست کی وجہ سے ہی بدلی ہے ان کو ہی مسلط کیا جائے اب مہربانی کریں ان سے جان چھڑواءے لوگوں کی، اور دیکھے کہ یہ بغیر مراعات کہ کسی پارٹی کے لئے کتنا کام کر سکتے ہیں، اب یہ بدلاءو آچکا ہے  جو بھی اس بدلاءو کو قبول کرے گا اسی کو ہی عوام میں قبولیت ملے گی  ،پرانی پارٹیز کو سوچنا ہو گا کہ تیسری قوت پہلی قوت کیسے بن گئی اور کیسے مظبوط سے اپنا قدم جمائ کہ وفاقی جماعت بن گئی اور نوجوانوں میں اور خواتین میں اتنی پزیرائی کیسے حاصل کی، میرے لیے یہ حیرت کی بات تھی جب میں نے ایک کٹر مذہبی جماعت کے چند خواتین کی یہ گفتگو سنی کہ ہم نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے بعد میں پتہ چلا کہ اس الیکشن میں سب سے زیادہ نوجوانوں کے ساتھ خواتین کا ووٹ بھی پی ٹی آئی کےحق میں گیا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ ہمارے پرانے  سیاستدانوں کو اب اس ملک کو اپنی جاگیر اور یہاں کے رہنے والوں کو اپنا غلام سمجھنے کی بجاۓ حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا اسی میں ہی ان کی بہتری ہے اب اگر کوئی بھی اس ملک میں سیاست کرنا چاہتا ہے تو اس کو بھی بولڈ قدم اٹھانا ہو گا کرپشن کے خلاف آواز اٹھانی ہو گی اور پارٹی کے ان بے لوث کارکنوں کو اور نوجوانوں کو جگہ دینی ہو گی جو پارٹی سے کبھی فائدہ نہیں اٹھائے جنہوں نے پارٹی کا کھایا اب اں کو چاہیئے کہ وہ اپنی  پارٹی کے بہتر مفاد  میں ولنٹیر کام  کریں اور  دوسروں کو موقع  دے یہی  واحد سلوشن ہے اور ہر  پارٹی کے لیڈر کو  یہ سمجھنا  ہو گا کہ لیڈر کبھی بلیک میل نہیں ہوتا ،  پی ٹی آئی کی مثال اپنے سامنے رکھے کہ جب انہوں نے اپنے ممبرز کو نکالا تو انہوں نے مذہب کو بھیج میں لا کر بلیک میل کرنے کی اور لوگوں سے ہمدردیاں بٹورنے کی  کوشش کی تاہم قیادت بلیک میل نہیں ہو ئی اور ہر ایک باشعور بندہ یہ سمجھتا اور جانتا ہے کہ مذہب قسمیں کھانے کے لیے نہیں ہوتا  نہ ہی سستی شہرت کے لیے ہوتا ہے بعد میں  پتہ چلا کہ یہ صاحبان اپنی پارٹی کے ٹکٹ کے ساتھ جس کے ساتھ حلف نامہ بھی تھا اور یہ بھی قسم ہی ہوتا ہے  پارٹی سے وفاداری کرنے کا، دوسری پارٹیز کے ٹکٹ کے لیے بھی ہاتھ پاؤں مار رہے تھے  جیسے بلامقابلہ الیکشن جیت کر آئے ہو اور انہیں کسی پارٹی میں  کام کے بغیر ڈائریکٹ ٹکٹ چاہیے  تھےاور یہ ان کی دو نمبری سیاست تھی ویسے کافی مضحکہ خیز بات ہے،بہرحال  بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی نیت اور اصلیت بہت جلد ایکسپوز ہو جاتی ہے پیرا شوٹرز کی اب کسی بھی سیاسی کارکنوں میں جگہ بہت مشکل ہے  جو لوگ محنت کرتے ہیں شارٹ  کٹ پہ یقین نہیں رکھتے ہر سیاسی پارٹی کو اپنے اندر ان لوگوں کو آگے لانا ہو گا اور ان کو موقع دینا ہوگا اور دوسری بات جو پارٹی ڈھٹ کر  اپوزیشن کا کردارا کرے گی عوام کا رجحان طرف لائے گی اور اپنی ڈائریکشن ٹھیک کرے گی، یہی اگلے الیکشن میں کسی بھی پارٹی کا ریواءول ہو گا،ورنہ شکست کھانے کے بعد شرمندگی سے بچنے کے لیئے پھر دھاندلی کا رونا  رونا ہو گا،

Print Friendly, PDF & Email