131

زُبانِ اہلِ زَمیں۔۔۔خوشنما زہر۔۔۔ گدھے کے بعد "سور”۔۔سید شاہد عباس کاظمی

محترمہ عائشہ ممتاز صاحب عرف ” دبنگ لیڈی” شہہ سرخیوں میں رہنے کے بعد کچھ پس پردہ چلی گئی ہیں۔شہہ سرخیوں میں رہنے کی وجہ ان کا ذمہ دارانہ کام تھا۔ اور اب پس پردہ جانے کی وجوہات بھی شاید ان کا ذمہ دارانہ کام ہی ہے۔ وہ اپنے کام سے نہ صرف اپنے فرائض بہتر طور سر انجام دے رہی تھیں۔ بلکہ لوگوں کے دلوں میں گھر بھی کر چکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مفاد پرستہ ٹولہ جس طرح انسانی زندگیوں سے کھیل رہا ہے وہ انسانیت کے دائرے میں بھی نہیں آتا اور یہ خاتون انہی کے خلاف کمر بستہ ہیں۔ اور ایک خاتون کے لیے اس درجہ جرات کا مظاہرہ کرنا ہرگز بھی معمولی بات نہیں ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں دو نمبر دھندہ کرتا ہی وہی ہے جس کی پشت پر کچھ ایسے عناصر موجود ہوتے ہیں جن کی پہنچ ایوان اقتدار کی راہداریوں تک ہوتی ہے۔ سورپہنچانے۔۔۔ معاف کیجیے گاسور کا گوشت ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں پہنچانے والوں کے ہاتھ بھی یقیناًکچھ نہ کچھ لمبے تو ضرور ہوں گے۔
عائشہ ممتاز صاحبہ اس وقت تک ایک نہایت ہی مثبت شناخت قائم کر چکی ہیں۔ بطورڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی ان کے اقدامات کے معترف ان کے مخالفین بھی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے انتہائی بڑے ناموں کو بھی نہیں بخشا اور انتہائی خوشگوار حیرت اس بات پر ہوئی کہ حکومتی عہدیداروں سے جس حد تک بھی ان کا واسطہ پڑ رہا ہے وہ بھی ان سے ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں۔ اس کی زندہ مثال DCOراولپنڈی کے اقدامات ہیں۔ انہوں نے عائشہ ممتاز صاحبہ کے شروع کیے گئے کام کو تقویت دیتے ہوئے راولپنڈی میں چند بڑے ناموں کو ناقص صفائی کے انتظامات پر سیل کر دیا۔ ان اقدامات کے بعد چند بڑے نام رکھنے والے آؤٹ لیٹس نے نہ صر ف باقاعدہ لوگوں کے سامنے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کیا بلکہ مستقبل میں اپنا کچن لوگوں کے لیے کھولنے کا بھی اعلان کیا۔
DCOراولپنڈی ، ساجد ظفرجتنے جواں صورت سے نظر آتے ہیں ۔ ان کے حالیہ اقدامات سے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان کے حوصلے بھی جواں ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے حقائق عوام کے سامنے لانے کا جو بیڑا اٹھایا ہے اس سے عوام کی آنکھیں کھل گئی ہیں کہ کس خوبصورت پیکنگ میں زہر ان کو پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک مثبت تبدیلی یہ بھی محسوس کی گئی کہ ساجد ظفر صاحب نے تمام اقدامات سوشل میڈیا پر پبلک کر دیے ۔ یعنی عوام کے سامنے تصاویر کے ساتھ پیش کر دیے کہ کسی کو یہ گلہ نہ رہے کہ اقدامات میں کسی بھی قسم کی جانبداری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اپنے دفتر میں عوامی اجلاس کا اہتمام بھی کیا جس میں سب کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ یہ شاید ایک لمبے عرصے بعد پہلا موقع تھا کہ اتنے غیر جانبدارانہ طریقے سے نہ صرف مختلف بند کیے گئے برانڈز کا موقف سنا بلکہ عوام کے سامنے سنا۔ یہ ایک خوشگوار آغاز کہا جا سکتا ہے۔ اس اجلاس کے بعد 9 ایسے اقدامات تجویز کیے گئے جو یقیناًمستقبل میں اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے میں مفید ثابت ہوں گے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ڈائریکٹر اور DCOراولپنڈی کے مختلف مقامات پر چھاپے اور اعلیٰ برانڈ سیل کرنے سے ایک خوف ناک حقیقت کا بھی پتا چلا کہ زہر کو کس خوبصورت انداز میں ہمارے جسموں میں ڈالا جا رہا ہے۔ ہم اپنے ہاتھوں سے یہ زہر اپنے اندر اتار رہے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک بھی نہیں تھا۔ جب کسی بیماری کے علاج کے دوران ڈاکٹر باہر کے کھانے سے منع کرتا تو ہمیں مذاق لگتا لیکن اب اس حقیقت کا ادراک ہوا ہے کہ زہر کی فروخت تو ہر شاہراہ، ہر گلی، ہر محلے میں دھڑلے سے جاری ہے ۔ زہر بھی ایسا کہ جس کو اس خوبصورت انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی تھام لیتے ہیں۔ ایک عزیز دوست فہیم پٹیل صاحب نے مطلع کیا کہ لاہور میں ہی ایک جگہ سور کے گوشت کی فروخت جاری تھی۔ استغفر اللہ ۔مزید کچھ دوستوں سے رابطہ ہوا تو پتا چلا کہ سور کے گوشت کی ترسیل لاہور کے مختلف علاقوں میں کی جاتی تھی۔الاماں۔راولپنڈی سے لاہور۔ بطور قوم کس درجہ تنزلی کا شکار ہیں ہم ۔ گدھوں کا گوشت تو ہماری خوراک کا اس تواتر سے حصہ بن گیا کہ گدھوں کی سی صفات ہم میں آچکی ہیں۔ لیکن اب تو سوچ کے ابکائیاں آتی ہیں کہ نہ جانے کس کس حرام جانور کا گوشت ہمیں کھلایا جا رہاہے۔بزرگوں سے سنتے تھے کہ سور کا نام ایک دفعہ لیں تو چالیس دن زبان ناپاک رہتی ہے۔ اب تو شاید حرام گوشت ہمارے جسم میں شامل ہو چکا ہے یعنی اب صرف زبان کا قصہ تو ختم۔ چند ہزار جرمانہ یقیناًبڑے ناموں کے ایک دن کی کمائی ہے۔ اس مہم کا حقیقی فائدہ اسی صورت ہو گا کہ مستقل بنیادوں پر معیار بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں ورنہ صرف ایک دفعہ کی اس مہم سے کسی بھی قسم کا فائدہ نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ بڑے ناموں کے علاوہ گلی محلوں میں بکھرے زہر بیچتے ٹھیلوں، چھوٹے ریستورانوں، اور بے نام دوکانوں کے خلاف بھی ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مرکزی شاہراہوں سے تھوڑآگے بڑھ کر چھوٹے راستوں کی طرف بھی سفر کرنا ہو گا تب ہی حقیق معنوں میں اس مہم کا فاہدہ عوام تک پہنچ سکتا ہے۔ مزید براں صرف پنجاب فوڈ اتھارٹی ہی کافی نہیں ہے۔ پورے ملک میں اس طرح کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ ہر صوبے کو اپنی سطح پر اقدامات کرنا ہوں گے۔عائشہ ممتاز اور سجاد ظفر جیسے بہت سے لوگ اس مہم میں چاہیں۔ راولپنڈی کا جائزہ لیں تو ایک غیر ملکی برانڈ نے اپنا کچن اوپن کر دیا کہ عوام دیکھ سکیں۔ اسی طرح ایک اور غذائی ادارہ کیک کچن (Cake Kitchen)اوپن کچن پالیسی کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اس ادارے کو جرمانہ بھی ہوا لیکن بہت ہی معمولی وجہ سے ۔ اوپن کچن کی پالیسی یقیناًہر جگہ نافذ العمل ہو تو معیار بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
محترمہ عائشہ ممتاز اور جناب سجاد ظفر صاحب جیسی شخصیات اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب عوام ان کا ساتھ دیں۔ عوام کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سوشل میڈیا پر رابطہ نمبرز اور رابطہ کرنے کے دیگر ذرائع بھی دیے گئے ہیں۔ اب عوام کا کام ہے کہ وہ تمام کام اداروں پر چھوڑنے کے بجائے خود بھی ایسے عناصر کی نشاندہی کریں جو عوام میں زہر بانٹ رہی ہیں۔ کیوں کہ ایک صحت مند اور توانا پاکستان کی تعمیر کے لیے عوام کا کردار یقیناًسب سے اہم ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں