58

تذکرہ امیرالمومنین۔۔۔۔تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلہ ہل

اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے اس مہینے میں جہاں بہت سے واقعات رونماہوئے ان میں سے ایک یہ کہ یکم محرم الحرام کوجلیل القدر صحابی رسول، خلیفہ دوم، امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر بن خطاب h کی شہادت ہوئی ۔آپؓ کی کنیت ابو حفص اور نام عمر بن خطاب ہے ۔آپ قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے، آپؓ کا مرتبہ ومقام دور جاہلیت میں بھی بہت زیادہ تھا،قبیلہ قریش آپؓ کو بہت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھتے۔ آپس کے لڑائی جھگڑے یا کسی دوسرے قبیلے سے اگر لڑائی ہوجاتی تو آپؓ کے قبیلے والے انہیں بطور منصف سفیر بنا کر بھیجتے اورپھرآپؓ اس کے بارے جو فیصلہ کرتے سب اسے تسلیم کرتے ۔رعب ،بہادری اور شجاعت کا چرچااس قدر کہ پورے عرب میں مشہور و معروف تھا۔پیارے پیغمبر نبی ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام(ابو جہل) دونوں میں سے ایک کے ذریعے اسلام کو تقویت پہنچا ‘‘اور انہیں ہدایت نصیب فرما۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کریم ؐ کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے انہیں دین اسلام کی دولت سے نواز دیا۔ آپؓ کے اسلام لانے سے پہلے صحابہ کرامؓ اپنی عبادات چھپ کر کیا کرتے، لیکن جب آپؓ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دولت سے مالامال کر دیا، توآپؓ کے ذریعے دین اسلام کو بہت زیادہ تقویت ملی ،آپؓ کے اسلام لانے کی بدولت صحابہ کرامؓ کھلے عام دعوت توحید کا پرچار ،اسلام اوراپنی عبادات کا اظہارکرنے لگے ۔
حضرت صہیب بن سنانؓ بیان کرتے ہیں :کہ جب سیدنا حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کرلیا تو اسلام ظاہر ہوگیا، صحابہ کرام نے اعلانیہ طور پر اسلام کی دعوت دینا شروع کر دی ، صحابہ کرامؓ بیت اللہ شریف کے گرد حلقے بنا کر بیٹھ گئے ،بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ،صحابہ کرامؓ پراگر کوئی سختی کرتا تو اس کاانتقام لیتے ،مکہ کے مشرکین کی جانب سے پیش آنے والی ہر بات کاجواب بے خوف و خطر دیتے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں خلیفۃ المسلمین حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے ہم صحابہ طاقت ور اور مضبوط ہو گئے ۔محمد بن عبیدؓ کہتے ہیں : کہ آپؓ کے اسلام لانے سے پہلے ایسے حالات تھے کہ ہم بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھ سکتے تھے، لیکن جب آپؓ اسلام لائے ہمیں نماز پڑھنے کی اجازت مل گئی۔
آپؓ کی فضیلت کے بارے پیارے پیغمبر ؐ فرماتے ہیں : اے عمر تو جس راستے سے گزرتا ہے شیطان وہ راستہ ہی تبدیل کر لیتا ہے۔آپؓ نے اپنے دور خلافت میں بہت ہی فتوحات حاصل کی ہیں ،آپؓ کے دور خلافت کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی اور حکمرانوں کے لیے آپ کی زندگی مشعل راہ ہے۔
آپؓ نبی کریم ﷺ سے بہت محبت و الفت کرتے تھے ،ایک مرتبہ آپؓ کے ہاتھ کو نبی پاکؐ نے پکڑاہو تھا ،اس موقعہ پر آپؓ فرماتے ہیں اے اللہ کے رسولؐ آپ مجھے میری جان کے علاوہ دنیا کی ہرچیز سے زیادہ محبوب ہیں ۔نبی کریم ؐ نے اس بات پر فرمایا : اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!جب تک تم مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیزنہ سمجھوتم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے ۔پھر حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا: اے اللہ کے رسولؐ آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا اب تیرا ایمان مکمل ہوگیا ہے۔آپؓ کا شمار ان صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارتیں ملی ہیں ۔
سیدنا عمرؓ شہادت کے بڑے حریص تھے ۔ آپؓ کے آزاد کردہ غلام اسلم فرماتے ہیں کہ امیر المومنین اللہ تعالیٰ سے اکثر یہ دعا مانگاکرتے تھے ۔اے اللہ مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا فرمااور نبی کریم ؐ کے شہر میں موت نصیب فرما۔آپؓ کی شہادت کچھ اس طرح ہوئی کہ ایک دن آپؓ فجر کی نماز پڑھا رہے ہیں حضرت مغیرہؓ کے غلام (ابو لولوفروز)نے دو دھاری خنجر پکڑے آپؓ کو نماز کی حالت میں زخمی کردیا، وہ زخمی کر کے دوڑنے لگا اور اس دوران اس نے تیرہ آدمیوں کو زخمی کردیا جن میں سے سات صحابہ شہید بھی ہو گئے۔صحابہ کرامؓ میں سے ایک صحابی نے اس بدبخت پر اپنی چادر ڈال دی جس کی وجہ سے وہ پکڑا گیا،جب اسے یقین ہو گیا کہ اب میں پکڑا گیا ہوں تو اس نے اپنے گلے کو بھی خنجر سے کاٹ لیا۔
سیدنا عمرؓ اس بدبخت کے زخمی کرنے کی وجہ شہادت نوش فرما گئے اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی اجازت سے حجرہ عائشہؓ جہاں نبی ؐ اور ابوبکرؓ دفن ہیں وہی دفن کیا گیا ۔ان پراللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں آمین۔

Print Friendly, PDF & Email