93

آخری قسط ۔۔۔۔۔۔ وادی وادی گھوم ۔۔۔۔۔محکم الدین اویونی 

ناران میں ہمارے انتظامی امور کے ذمہ داروں نے جب اخراجات کی جانچ پڑتال کی۔ تو بجٹ میں ہمارے پاس ایک اور سیاحتی مقام کی وزٹ کی گنجائش موجود تھی ۔ اس پر صدر پریس کلب ظہیر الدین نے تجویز دی ، کہ ٹور میں مظفر آباد کو بھی شامل کیا جائے ۔ سب نے متفقہ طور پر اس کی تائید کی ۔ یوں ناران سے صبح سویرے مظفر آباد جانے کا سفر شروع ہوا ۔ ہم واپس کاغان ناران کے راستے بالا کوٹ پہنچے ۔ اور بالاکوٹ سے گھڑی حبیب اللہ کے راستے مظفر آباد کی طرف روانہ ہو گئے ۔ یہ پکی سڑک انتہائی طور پر تنگ اور خستہ حال تھی ۔ اور اسے دیکھ کر ایک مایوسی اور محرومی سی دل میں پیدا ہو رہی تھی ۔ کہ ہم کشمیر کو اپنی شاہ رگ قرار دیتے ہیں ۔ لیکن کشمیر تک پہنچنے کے راستے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ۔ سامنے سے اگر کوئی گاڑی آجاتی تو بہت مشکل سے کراس کر جاتی ۔ لیکن جب ہم کشمیر کی حدود میں داخل ہوئے ۔ تو خوشی ہوئی کہ وہاں کی سڑکیں کُشادہ پختہ اور صاف ستھری تھیں ۔ ہم آزاد جموں کشمیر کی آغوش میں آچکے تھے۔ ہر طرف نظاروں کے حسن کی تابانی تھی ۔ اور دل و دماغ فرحت محسوس کر رہے تھے ۔ تمام ساتھی کشمیر کے حسن پر تبصرہ کر رہے تھے ۔           جمال و حسن کی ان رعنائیوں پر تبصرے کے دوران ہی ہماری نظریں دور نیچے مظفر آباد کے شہر پر پڑ یں۔ یہ ایک روح پرور منظر تھا ۔ سانپ کی چال چلتی دریا ء نیلم اور اُس کی آغوش میں مظفر آباد شہر ایک عجیب نظارہ پیش کر رہا تھا ۔ ساتھیوں سے رہا نہ گیا ۔ گاڑی روکی ، نیچے اُترے اور سیلفیوں میں خود کومظفر آباد شہر کے مناظر کے ساتھ محفوظ کر لیا ۔ ہم تقریبا بیس منٹ مزید ڈرائیو کے بعد آزاد جموں کشمیر نیشنل پریس کلب مظفر آباد پہنچ گئے ۔ اُس وقت دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے ۔ اور شہر میں گرمی بھی کافی تھی ۔ نیشنل پریس کلب آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ کے بالکل سامنے واقع ہے ۔ جہاں سے پارلیمنٹ ہاؤس اور پریذیڈنسی کوئی زیادہ فاصلے پر نہیں ہیں ۔ ہم اپنے صحافی بھائیوں سے ملنے کا اشتیاق رکھتے تھے ۔ گاڑی پریس کلب کے احاطے میں کھڑی کی ۔ اپنی آمد سے متعلق بتایا تو ایک صاحب نے ہماری رہنمائی کی اور صدر پریس کلب کے آفس میں ہمیں لے گئے ۔ صدر پریس کلب موجود نہیں تھے اور ہماری ملاقات سجاد میر صاحب وائس پریذیڈنٹ سے ہو گئی ۔ یہ ایک ملنسار ، مہمان نواز اور خوش طبع شخصیت کا مالک تھا ۔ ہم نے جب تعارف کیا ۔ تو ایک مرتبہ پھر گلے ملے ۔ اور انتہائی خلوص اور محبت کا اظہار کیا ۔ یہاں سما ٹی وی کے رپورٹر امیر الدین مغل سے بھی ملاقات ہوئی ۔ جو دو مرتبہ چترال کا دورہ کر چکے تھے ۔ ہمارے لئے فوری طور پر چائے کا انتظام کیا گیا ۔ اس دوران چترال اور کشمیر کے بارے میں معلومات کا تبادلہ ہوا ۔ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی تیاری ہو رہی تھی ۔ اور کافی گہما گہمی اور زیادہ مصروفیت دیکھائی دے رہی تھی ۔ اس لئے چائے کے بعد ہم نے اجازت چاہی ۔ لیکن سجاد میر صاحب نے ایک مرتبہ پھر محبت کا اظہار کرکے لنچ پر مجبور کیا ۔ ہم نے بہتیرے کوشش کی کہ رخصت حاصل کریں ۔ لیکن ہماری ایک نہ چلی ۔ اور انہوں نے لنچ کی تیاری تک قریبی پارک کی وزٹ کا مشورہ دیا ۔ جو مظفر آباد کا مشہور پارک ہے ۔ ہم آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ کے بیچوں بیچ شارٹ راستے سے ہوتے ہوئے پریذیڈنسی کے قریب پارک پہنچ گئے ۔ جو کہ جلالہ پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ واقعی ایک خوبصورت پارک تھا ۔ جس میں مالیوں نے اپنے فن کے جو ہر دیکھائے تھے ۔ تو باغ کے ڈیزائنر بھی داد و تحسین کے مستحق تھے ۔ ہماری طرح کئی سیاح مردو خواتین پارک کے مختلف حصوں میں اس کے نظاروں کا لطف اُٹھارہے تھے ۔ اور تصاویر بنا رہے تھے ۔ باغ کے حسین نظاروں نے ہمیں اتنا متاثر کیا تھا ۔ کہ یہاں سے واپس مڑنے کو جی ہی نہیں چاہ رہا تھا ۔ لیکن ہم وقت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ اس لئے مقررہ وقت پر پریس کلب واپس لوٹ آئے ۔ ہماری غیر حاضری کے دوران صدر پریس کلب ابرار حیدر بھی تشریف لا چکے تھے ۔ اور اُن کو ہماری آمد کے بارے میں بتا دیا گیا تھا ۔ اُنہوں نے بھی بہت محبت دی ۔اور چترال کے بارے میں بات چیت کی ۔ اس دوران لنچ بھی لگ چکی تھی ۔ یہ کشمیر کی روایتی ڈشز پر مشتمل ضیافت دی ۔ جس کے ہر ہر آئٹم سے خلوص کے ذائقے محسوس کئے جا سکتے تھے ۔ مقامی ساگ ، کڑی ، لسی ، مکئی کی روٹیاں ایسی ذائقہ دار کہ ہر نوالے پر مزہ آرہاتھا ۔ اور دل و دماغ مسلسل ماضی کو یاد کر رہے تھے ۔ جب یہی کھانے چترال میں پکائے جاتے تھے ۔ اور پیش کئے جاتے تھے ۔ آج پورا چترال ان روایتی کھانوں سے خالی ہو چکا ہے ۔ اور تمام لوگ پولٹری فارمز کی برائلر مُرغیوں پر ہی انحصار کرتے ہیں ۔ ہم ان روایتی کھانوں سے تواضع پر بہت خوش ہوئے ۔ اور دل سے اُن کے خلوص اور محبت کی تعریف کی ۔ کھانے کے دوران کچھ سیاسی باتیں بھی ہوئیں ۔ اور یہ جان کر حیران رہے ۔ کہ پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے کشمیر کے لوگ اچھی توقع نہیں رکھتے ۔ ابرار حیدر صاحب سے ایک سوال پر انہوں نے کہا ۔ کہ کشمیر یوں کو پیسوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ 15لاکھ کشمیری بیرون ملک مقیم ہیں ۔ جن کی آمدنی ہی کشمیر کی تعمیرو ترقی کیلئے کافی ہے ۔ کشمیریوں نے اپنی آمدنی سے علاقے کو ترقی دی ہے ۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا ۔ کہ کشمیر کی آزادی کی جنگ ایک لا حاصل جنگ ہے ۔ اس لئے کشمیریوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی ضرورت ہے ۔ لنچ کے بعد ہم نے اپنے صحافی دوستوں سے رخصت لی ۔ اور کوہالہ پُل کے راستے مری کیلئے روانہ گئے ۔ ہمیں مری کے ائریے میں داخل ہونے کے بعد اندازہ ہوا ۔ کہ سڑک کی خرابی کے باعث ہمارا یہ سفر بہت تکلیف دہ اور وقت طلب ہو سکتا ہے ۔ اور ایسا ہی ہوا ۔ ہم نہ ختم ہونے والی خراب سڑک کا انتخاب کیا تھا ، اور یہ آزاد کشمیر کی طرف سے مری کا راستہ تھا ۔ بالا خر اس سڑک سے ہماری جان چھوٹی اور مری کی شہری حدود میں داخل ہو گئے ۔ لیکن ہم مری کو مزید وقت نہیں دے سکتے تھے ۔ اس لئے راولپنڈی کی راہ لی ۔ اور شام 7بجے پنڈی پہنچ گئے ۔ ہم بہت زیادہ تھک چکے تھے ، اس لئے کھانے کے بعد سونے کیلئے ہوٹل کے کمروں تک محدود ہو گئے ۔ راولپنڈی ہمارے ٹور کا آخری مقام تھا ۔ جہاں قیام کے بعد اگلی صبح ہم نے گھروں کی راہ لی ۔

Print Friendly, PDF & Email