تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> چیف جسٹس ثاقب نثارنے چترال کے وکلاء اور صحافیوں کے مشترکہ وفد سے ملاقات میں چترال کے متعدد مسائل پر متعلقہ محکموں کے سیکرٹریوں سے جواب طلب

چیف جسٹس ثاقب نثارنے چترال کے وکلاء اور صحافیوں کے مشترکہ وفد سے ملاقات میں چترال کے متعدد مسائل پر متعلقہ محکموں کے سیکرٹریوں سے جواب طلب

چترال (ڈیلی چترال نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے چترال کے وکلاء اور صحافیوں کے ایک مشترکہ وفد سے ملاقات میں چترال کے متعدد مسائل پر متعلقہ محکموں کے سیکرٹریوں سے جواب طلب کرنے کے بعد انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ خیبر پختونخوا بار کونسل کے رکن عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر خورشید حسین مغل اورصدر چترال پریس کلب ظہیرالدین کے علاوہ ڈسٹرکٹ بار کے سینئر ارکان محمد کوثر ایڈوکیٹ ، وقاص احمد ایڈوکیٹ ، چترال پریس کلب کے جہانگیر جگر اور سید نذیر حسین شاہ پر مشتمل وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان کو پیسکو میں میٹر ریڈر اور بل ڈسٹری بیوٹروں کے نہ ہونے کی وجہ سے فرضی ریڈنگ کی بنیاد پر بل بھیجنے کی شکایت کی جس سے چترال میں بجلی کے 16ہزار صارفین مشکلات ومصائب میں مبتلا ہیں۔ اسی طرح وفد نے سابق حکومت کے دورمیں چترال شندور روڈ، چترال گرم چشمہ روڈ ، اویر ٹو تریچ روڈ اور کالاش ویلیز روڈ کی منظوری ہونے اور ابتدائی دفتری کاروائی کے باوجود موجودہ حکومت کی طرف سے ان روڈ منصوبہ جات کو مبینہ طور پر سرد خانے کی نذر کرنے کی طرف ان کی توجہ دلائی۔ اسی طرح ایندھن کے طور پر استعمال کے لئے جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے لئے ایل پی جی ٹینک کی چترال ، ایون اور دروش میں تنصیب کے ذریعے گھروں میں قدرتی گیس کی فراہمی کے پراجیکٹ کو التواء میں ڈالنے کی بھی شکایت پیش کی گئی۔ چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ڈاکٹر وں اور سہولیات کی کمی کے بارے میں کہاکہ وہ متعلقہ محکمہ جات کے سیکرٹری لیول کے افسران سے جواب ملنے کے بعد مناسب کاروائی کا حکم دیں گے۔ اس موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے عطیات جمع کرنے کے حوالے سے کہاکہ اس سے عوام میں جوش اور ولولہ پیدا کرنے اور اپنے مسائل کو آپ حل کرنے کے لئے ترغیب دینے کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ ملک کے کونے کونے سے اس فنڈ میں ذوق وشوق سے ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق حصہ لے رہا ہے ۔ انہوں نے وکلاء پر زور دیا کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور قومی یکجہتی واستحکام کا کام سمجھ کر انجام دیں۔

 


error: Content is protected !!