73

دُنیا کوسوم وفا کوری شیر وا کوسوم بہچور ……بھائی تاج محمد فگار مرحوم کی یاد میں۔۔۔۔۔۔ محکم الدین اویونی 

دُنیا کوسوم وفا کوری شیر وا کوسوم بہچور
دُنیا کی بے ثباتی مسلمہ ہے ۔ کیونکہ موت اٹل ہے ۔ اور یہ پل کیلئے بھی کسی کو مہلت نہیں دیتی ۔ ا ور جب وقت آن پہنچتا ہے تو انسان نہ چاہتے ہوئے بھی دل میں ہزاروں خواہشیں اور آرمان لئے دُنیا سے رخصت ہو نے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ لیکن یہ بات حقیقت ہے ۔ کہ جو لوگ دُنیا میں مختصر قیام کے دوران اچھائی ، نیکی ، ہمدردی ، شفقت ، انسان دوستی اور دوست احباب کے ساتھ اچھے سلوک کا رویہ اپنا تے ہیں ۔ اُن کی خواہشیں اُن کی آل اولاد کے ہاتھوں پوری ہوتی ہیں ۔ اور ایسے لوگ خاندان اور دوست احباب کے دلوں میں بھی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔
28ستمبر 2017کے دن دُنیا میں رونما ہونے والے کئی واقعات تاریخ کا حصہ بن چکے ہوں گے ، لیکن میرے لئے یہ دن اس لئے ناقابل فراموش ہے ۔ کہ اس روز ہمارے انتہائی قابل احترام دوست اور مشفق بھائی تاج محمد فگار ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جُدا ہو گئے ۔ حرکت قلب کے موذی مرض نے اچانک اُن پر حملہ کیا ۔ ڈاکٹربھر پور کوشش کے باوجود اُن کی زندگی بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ اور میں و اُن کے فرزند ارجمند فہد احمد ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال کے ایمرجنسی یونٹ میں ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے کے سوا اُن کے کوئی کام نہ آسکے ۔ لیکن جس طرح زمانے کا رسم رہا ہے ۔ صدمے کے وہ دن گزر گئے اور آج اُن کی وفات کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے ۔ یقین جانیئے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ تاج بھائی وفات پا چکے ہیں ۔
تاج محمد فگار بہ یک وقت ادب و صحافت کے شہسوار تھے ۔ شعرو شاعری کے دلدادہ اور اُدباء و شعراء سے مر مٹنے کی حد تک محبت کرنے والے خاکسار انسان تھے ۔ شعرو ادب سے وابستہ ساتھیوں سے ملے بغیر اُن کو سکون نہیں ملتا تھا ۔ گھرمیں ادبی محا فل کاانعقاد اُن کا محبوب مشغلہ تھا ۔ ادبی دوستوں کی میزبانی کرکے خوشی سے پھولے نہ سماتے اور اپنی و گھروالوں کی تکالیف و مشقت کو تکلیف ہی نہ سمجھتے ۔ درجنوں شعراء دوستوں کیلئے ضیافت کا اہتمام کرتے ، مشاعرے کے محا فل جمتے اور رات گئے تک جاری رہتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کھوار زبان و ادب گذشتہ نصف صدی سے جہاں پلی بڑھی وہ تاج محمد فگار کا دولت خانہ ہے۔ تو یہ بات بے جا نہ ہو گی۔
تاج بھائی جہاں شعرو ادب میں ایک مقام رکھتے تھے، وہاں ایک صحافی کی حیثیت سے اپنے قلم کے ذریعے مختلف سماجی ، معاشرتی ناہمواریوں اور عوامی مسائل کو حکومت کے ایوانوں تک پہنچانے کے حوالے سے بھی اپنی صحافتی ذمہ داریوں سے بھی بخوبی آگاہ تھے ۔ چترال کے تمام اداروں کے آفیسران اور مقامی لوگ اُسے ادب و صحافت دونوں شعبوں کے حوالے سے نہ صرف جانتے تھے ۔ بلکہ اُن کی بہت قدر کرتے تھے ۔ آپ انتہائی احترام دینے والے ، دل کے نرم ،ترس کھانے والے اور سخاوت کرنے والے شاہانہ طبیعت کے مالک شخصیت تھے ۔ اُن کا دسترخوان بہت وسیع تھا ۔ اس لئے آج بھی اُن کا دولت خانہ آباد ہے اور دسترخوان کی وسعت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ آپ سے فقیروں ، نادار وں ضرورتمند وں کی حالت نہیں دیکھی جاتی تھی۔ ایسے لوگوں کو کبھی بھی مایوس کرکے خالی ہاتھ نہ لوٹاتے ، اور ہر ممکن مدد کرنے کیلئے دوسرے ساتھیوں کو بھی تلقین کرتے ۔
تاج بھائی صوفی منش انسان تھے ۔ صوفیائے کرام ، علماء اور بزرگان دین کی بہت عزت کرتے تھے ۔ اور اُن سے دُعا لینے میں پیش پیش ہوتے ۔ بزرگان دین کے مزارات پر بھی حاضری دیتے ۔ اور سکون و اطمینان کا اظہار کرتے ۔ اور کہتے۔ کہ بزرگوں کو اللہ پاک نے یہ مقام ویسے نہیں دیا ۔ یہ اللہ پاک کے برگُزیدہ بندے ہیں ۔ جنہوں نے حق کی تبلیغ کی خاطر اپنی زندگیاں لوٹا دی ہیں ۔
تاج بھائی مرحوم کی ہر بات لکھنے کے قابل تھی ۔ لیکن افسوس ہے کہ ہم اُس کو نہ سمجھ سکے ۔ وہ ایک محسن ، بہترین دوست اور بھائی تھے ۔ جنہیں اجل نے ہم سے چھین لیا ہے ۔ لیکن اُن کی باتیں اور یادیں آج بھی زندہ ہیں ۔ اللہ پاک اُنہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ،اور اُن کے خاندان کو ہمیشہ شاد اور آباد رکھے ۔ اور خوشیوں شادمانیوں سے بھر دے ۔ آمین

Print Friendly, PDF & Email