79

AKESPمجموعی طور پر 64لاکھ روپے کے انعامات اور بونس ادارے کے 45تعلیمی اداروں میں پڑہانے والے 193ٹیچروں میں تقسیم کئے گئے

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال نیوز) آغا خان ایجوکیشن سروس (اے کے ای ایس پی) نے گزشتہ دودنوں کے دوران چترال شہر اور اپر چترال کے کوراغ میں تکریم اساتذہ کے سلسلے میں منعقدہ دو مختلف تقاریب میں مجموعی طور پر 64لاکھ روپے کے انعامات اور بونس ادارے کے 45تعلیمی اداروں میں پڑہانے والے 193ٹیچروں میں تقسیم کئے گئے جس کا مقصد بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ٹیچروں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے کوالٹی ایجوکیشن کا مقصد حاصل کرنا ہے جس کے لئے یہ ادارہ گزشتہ چھ عشروں سے کوشان ہے۔ اتوار کے دن کوراغ میں آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول برائے طالبات میں منعقدہ تقریب میں اپر چترال کے اے کے ای ایس کے سکولوں میں پڑہانے والے 90ٹیچروں میں پچیس ، پچیس ہزار وپے کے انعامات، 12میں 35ہزار روپے، 7ٹیچروں میں 50ہزار روپے فی کس اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل 3ٹیچروں کو 75ہزار روپے کے انعامات دے دئیے گئے۔ اس موقع پر معروف مذہبی اسکالر پروفیسر شمس النظر فاطمی مہمان خصوصی تھے جبکہ حکیم علی ایڈوکیٹ نے صدارت کی ۔ تقریب میں اپر چترال کے معززیں اور شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ اپنے خطاب میں اے کے ای ایس کے جنرل منیجر بریگیڈیر (ریٹائرڈ ) خوش محمد نے کہاکہ آغاخان ایجوکیشن سروس کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ اس کے زیر اہتمام تعلیمی اداروں میں پڑہانے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کی انتھک محنت کا صلہ دینے کا اہتمام کیا جاتا ہے کیونکہ تعلیمی ترقی میں وہ بنیادی ستون کی حیثیت کے حامل مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہر سال اساتذہ کو پرفارمنس منیجمنٹ اینڈ ریوراڈ سسٹم (پی ایم آر ایس ) کے ذریعے کارکردگی کی جانچ پرکھ کے بعد انعامات کے حقدار قراردئیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے 45سکولوں میں 8300طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں جن کے لئے 370سے ذیادہ ٹیچرز تعینات ہیں جبکہ معیاری تعلیم ہمارا ہدف ہے کیونکہ چترال میں ترقی کے لئے ہیومن ریسورس پر ہی انحصار کیا جاسکتا ہے جہاں نہ تو زرعی زمین کی مطلوبہ مقدار میں دستیاب ہے اور نہ ہی انڈسٹری موجود ہے۔ انہوں نے کہا ان اداروں کے فارع التحصیل طلباء وطالبات انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی، غلام اسحق خان انسٹییٹوٹ سمیت ملک کے کئی ممتاز تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں جبکہ پچاس کے قریب ڈاکٹر اور انجینئراور پاک فوج میں کمیشنڈ افسران ان اداروں سے فارع ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول کوراغ پرنسپل کی سربراہی میں مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے جس کی طالبہ حراناز نے پاکستان بھر میں آغا خان ایجوکیشن بورڈ میں پوزیشن لے لی جبکہ سین لشٹ میں قائم بوائز سکول کا طالب علم زہیب احمد نے دوسری پوزیشن لے لی تھی۔ انہوں نے ضلع کے طول وعرض میں قائم مختلف سکولوں کی اپ گریڈیشن اور ان میں پڑہانے والے ٹیچروں کو دی جانے والی پیشہ ورانہ تربیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان اساتذہ کی بھرتی کا عمل بھی نہایت شفاف طریقے سے ہوتی ہے۔ اپنے خطاب میں پروفیسر شمس النظر فاطمی نے کہاکہ اے کے ای ایس تعلیم کے میدان میں نئی ٹرینڈ سیٹ کرنے والا ادارہ ہے جس کا مقصد تعلیم میں کوالٹی اور مقدار دونوں پر مرکوز کرنا رہا ہے اور ان مقاصد میں اس نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے اور علاقے میں زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کے سلسلے میں نمایان خدمت انجام دی ہے۔ انہوں نے طالب علموں پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ان میں پوٹینشل اور قابلیت اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتے جب تک محنت کی امیزش اس میں شامل نہ کیا جائے کیونکہ یہ تین عناصر مل ہر طالب علم کی اعلیٰ پروفائل کو تشکیل دے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گلوبل چینچ میں کلچر اور تہذیب کا حساس کردار ہے اور کوئی نصاب تعلم اس وقت تک نامکمل ہے جب تک ان دو عناصر کو ان میں جگہ نہ دی جائے۔ انھوں نے اے کے ای ایس پی اساتذہ کی بہترین کارکردگی پر منیجمنٹ سے انکی تنخواہیں بھی بڑھانے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ مذید دلجمعی سے نونہال قوم کی رہنمائی کرسکیں ۔ اس موقع پر حکیم علی خان ایڈوکیٹ نے کہاکہ ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان کی وژن کے مطابق کوالٹی ایجوکیشن انسان میں ا یثار، محنت، صبر ، امن پسندی کے اوصاف پیدا کرتی ہے اور اسے منشیات سے دور رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اے کے ای ایس کے تعلیمی اداروں میں پڑہانے والے کم تنخواہوں کے باوجود ایک جذبے سے کام کرتے ہوئے علاقے میں معیار ی تعلیم کو آگے بڑہارہے ہیں جوکہ قابل قدر بات ہے۔ تقریب میں آغا خان ایجوکیشن سروس کے اعلیٰ ذمہ داران ذوالفقار، پرنسپل سلطانہ، طفیل، اخترنواز، امیر محمد، صاحب حسین، فیض ، ابراہیم قبول اور دوسرے بھی موجود تھے۔ اساتذہ کو انعامات اپر چترال کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے معززین اور سکول کنوینئرز کے ہاتھوں دلوائے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email