155

خودی کا پیام بر…اقبالؒ ۔۔۔ ( تحریر۔شہزادہ مبشرالملک) * علمی سفر۔

جن عظیم شخصیات نے … برصغیر کے مسلمانوں میں الگ … ملی تشخص… کے احساس کو تقویت پہنچائی ان میں … حضرت اقبال… کا نام ہمیشہ … سنہرے حروف… سے لکھا جایگا ۔ اقبال… 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوے ۔ والدین ہی سے … تصوف اور دینی ذوق ورثے میں ملا..استاد مولوی میر حسن نے اس دینی رنگ کو اور بھی پروان چڑھایا ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں … فلسفے میں ایم اے امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور کچھ عرصہ یہی لیکچریر رہے… علم سے لگاو نے … کیمریج … پہنچا دیا جہاں سے فلسفے میں Tripos کی ڈگری حاصل کی اور 1907ء میں جرمنی کی مشہور یونیورسٹی … میونخ… سے PHD کی ڈگری حاصل کی۔
*سیا سی سفر۔
اقبال ملت اسلامیہ میں … شاعر … فلسفی… محقیق… وکیل…اور سیاست دان کے طور پر پہچانے جاتے ہیں لیکن بطور … شاعراور مفکر… زیادہ مشہور ہوئے ۔ قیام انگلستان کے دوران ہی … مسلم نوجوانوں… میں دلچسپی لینے لگے جو … برصغیر سے تعلق رکھتے تھے ۔ اس دوران Pan Islamic Societ میں سر گرم رہے … علامہ نے یہاں تقاریر کا سلسلہ شروع کیا اور انگلستان کے اخبارات نے انہیں شائع کیا ۔ وطن واپس آکر آپ سیاست سے کنارہ کش رہے۔ لیکن … مسلمانوں… کے اجتماعی معاملات سے وہ خود کو دیر تک … الگ تھلگ … نہیں کر
پائے 1926ء سے زندگی کے آخری ایام تک سیاست کے تمام بڑے کاموں سے ان کا تعلق قائم رہا۔
* فکری سفر۔
شروع میں … اقبال … ایک ہندوستانی قوم پرست کی سوچ اور جذبات رکھتے تھے….
؂ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ہم بلبل چمن ہیں یہ گلستان ہمارا۔
لیکن … نیشنلیزم… کے ہاتھوں … کمزور اقوام … کی جو تذلیل و توہین ہورہی تھی اس نے اقبال کو شدت متاثر کیا اور ان ہی تجربات و مشاہدات نے اقبال کو … مسلم نوجواں … کا روپ دھارنے پر مجبور کیا… اقبال نے ہمیشہ کے لیے … ہندوستان… کی جگہ …. اسلام کو اپنے لیے بطور … وطن… کے قبول کرلیا ۔ اس کے بعد تمام عصبیتوں اور قوم پرستی کے خلاف اپنے اشعارکی … تلوار … کو بے نیام کیا…
؂ ان تازہ خداوں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرھن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے۔
؂ بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے۔

* رہنمائی کا سفر۔
اقبال نے دو طریقوں سے قوم کی رہنمائی کا سفر جاری رکھا۔ پہلا کام اپنے اشعار کے ذریعے… مغربی تہزیب کے اثرات اور غیر اسلامی … افکار… کے یلغار کو روکنے کے لیے اس پر زبردست … تنقید… کی ۔مسلمانوں کو اپنے شاندار ماضی پر … فخر… کا احساس دلاکر اپنی جداگانہ … قومیت… کا احساس دیا۔ دوسری طرف مسلمانوں کی زبردست سیاسی رہنمائی کا فرئیضہ بھی نبھایا۔ دنیا اس وقت دو مخالف نظاوں کے گرد گھوم رہے تھی اور مسلمان بھی اس سے متاثر ہوے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ ایک..نظام سرمایہ داری… اور دوسرا..نطام اشتراکیت… اقبال نے دونوں کی خامیوں پر جارہانہ وار کیے اور سرمایہ دارنہ نظام کا پردہ یوں چاک کیا ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں