57

پنجاب اور دیر سے چترال لایا جانے والا دودھ قابل استعمال ہے بھی کہ نہیں ، بیچنے والوں کے خلاف ابھی تک ایکشن لیاجائے

چترال ( محکم الدین ) ملک کے مختلف شہروں میں حکومت ناقص دودھ کی مارکیٹ میں فروخت کے خلاف سرگرم عمل ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے چترال میں اس قسم کے کیمکل دودھ بیچنے والوں کے خلاف ابھی تک ایکشن لیا گیا ہے ۔ اور نہ اس پر کاروائی کی ضرورت محسوس کی جاری ہے ، جس کی وجہ سے بازار میں پنجاب سے دیر اور دیر سے چترال لاکر تازہ دودھ کے نام پر کیمکل سے تیار شدہ سفید مائع فروخت کیا جاتا ہے ۔ اور چترال کے لوگ بغیر کسی تحقیق کے بازار سے کُھلے کیمکل زدہ دودھ ، دہی اور کھیر خرید لیتے ہیں ۔ اور کوئی بھی اس بارے میں معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔ کہ پنجاب اور دیر سے چترال لایا جانے والا دودھ قابل استعمال ہے بھی کہ نہیں ۔ گولدور روڈ پر واقع دودھ کی دکان سے حاصل کئے گئے معلومات کے مطابق وہ پنجاب سے خاص گاڑیوں کے ذریعے دودھ دیر پہنچاتے ہیں ۔ اور دیر سے پھر دودھ چترال منتقل کیا جاتا ہے ۔ جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے روزانہ ہزاروں لیٹر ناقص ،کیمکل سے تیار شدہ دودھ ضائع کرنے کی مہم کے بعد اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ کہ یہ دودھ چھپتے چھپاتے چترال پہنچایا جاتا ہے ۔ اور فروخت کیا جاتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے چترال میں کیمکل زدہ دودھ فروخت کرنے والوں سے پو چھا جاتا ہے اور نہ ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوتی ہے ۔ جس سے لوگ روزانہ دودھ کی شکل میں زہر استعمال کرتے ہیں ۔ اور اپنی موت کا ساما ن خود کرتے ہیں ۔ انتظامیہ اور محکمہ فوڈ کے پاس اس قسم کے ناقص اشیاء کے جانچنے کا کوئی آلہ ہے ، اور نہ ان پر ہاتھ ڈال کر عوام کی جان بچانے کی ذمہ داری انجام دی جاتی ہے ۔ اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ متعلقہ ادارے اس قسم کے کاروبار کرنے والوں پر ہاتھ ڈالنے سے چشم پوشی کر رہے ہیں ۔دودھ کے ناقص ہونے کیلئے یہی کافی ہے ۔ کہ اُسے پنجاب سے چترال پہنچایا جاتا ہے ۔ جبکہ خود پنجاب میں لوگ خالص دودھ کو ترس رہے ہیں ۔ دودھ کی دکان پر دہی بنانے اور کھیر بنانے کی جگہ بھی دودھ کو ناقص بنانے کیلئے کافی ہے ۔ جہاں صفائی سے محروم کمرے میں گندے کپڑوں سے دہی کے برتنوں کو ڈھانپ دیا جاتا ہے ۔ اور کھیر تیار کرکے اُن کو کھلے عام بغیر ڈھکنے کے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ جبکہ اس ایریے میں پولٹری کی کئی دکانیں موجود ہیں ۔ جہان سے اُڑتی گردو غبار سے ان کو بچانے کی کوشش بھی ضروری خیال نہیں کیا جا تا ۔ عوام پہلے ہی ناقص گھی ، مصالحہ جات ، چائے وغیرہ استعمال کرکے امراض کے نرغے میں آ چکی ہے ۔ اور لوگ امراض قلب ، بلڈ پریشر ، شوگر وغیرہ بیماریوں کی وجہ سے چلتے میں موت کی اغوش میں چلے جاتے ہیں ۔ اب ناقص دودھ کی چترال میں فراہمی اس میں مزید اضافے کا سبب بنے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email