216

خواتین پرظلم وتشدد۔۔۔۔۔۔تحریر:اورنگریب شہزاد

آج کل عورتوں کے حقوق کے بارے میں پوری دنیامیں بحث جاری ہے ۔لیکن اسلام نے آج سے 14سوسال پہلے خواتین کے حقوق کانعرہ بلندکیا۔بحیثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ معاشرے میں عورتوں کواُن کاجائز مقام ملناچاہیے۔بنی اکرم ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایاتھاکہ اپنی عورتوں کے حقوق کاخیال رکھیں۔ اُن سے نرمی سے پیش آئیں، لہذاماں ،بیٹی ،بہن اوربیوی کے تقاضوں کومدنظررکھتے ہوئے اُن سے اچھاسلوک کرناچاہیے۔
آج ہم جس دورمیں جی رہے ہیں یہاں توعورتوں کے حقوق اُن کی عزت واخترام کادعوی محض باتوں کی حدتک ہے آج مردعورتوں کے ساتھ غلاموں جیساسلو ک کرتے ہیں۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ صنف نازک کی حیثیت سے عورت اورمرد کے کام میں فرق ہے۔خود اپنے ملک میں خواتین کے ساتھ جونارواسلوک روارکھاجاتاہے ۔وہ ہندونہ ذہن کے زیراثرہے کیونکہ صدیوں سے برصغیرمیں بیٹے کوبیٹی پر ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ہمارے ہاں بعض علاقوں میں عورتوں پرہاتھ اُٹھانااورمعمولی غلطی کی بڑی سزادینامردانگی کی علامت سمجھاجاتاہے۔اگرعورت پرکوئی شک ہوتواس کی زبان،ناک اورکان کاٹ دیتے ہیں۔حتیٰ کہ جان سے مارڈالنے کوبھی مردانگی کہاجاتاہے۔حالانکہ اسلام صبروتحمل برادشت اورغفودرگزارکادرس دیتاہے۔بات اگرعورتوں کی شادی کی ہوجائے تواس میں بھی عورتوں کواپنی مرضی کااظہارکرنے کی اجازات نہیں ۔مردیہ نہیں دیکھتے کہ اُن کے بھی جذبات اوراحساسات ہیں اوروہ اپنے مستقبل کافیصلہ خودکرسکتی ہیں۔گھرکے اندرعورتوں سے کام ڈھنک سے نہ ہوتودرگزرنہیں کرتے۔مارپیٹ شروع کردیتے ہیں۔افسوس ناک بات یہ کہ پاکستان میں ایک سروے کے مطابق ملک کی آبادی کی 43فیصدخواتین اورتہائی مردیہ سمجھتے ہیں کہ شوہراپنی بیوی پرتشددکرسکتاہے۔یہ سروے 1990سے 2013تک تین بارکیاگیا۔جس نے چاہااعواء کیا،جس نے چاہامنہ پرتیزاب پھینکااورجس نے چاہازیادتی کانشانہ بنایا۔حالیہ دنوں میں ملک کے بڑے شہروں میں بچیوں کے ساتھ جونارواسلوک کیاگیااس کی مثال کسی مہذب معاشرے میں نہیں مل سکتی۔ایک طبقہ عورتوں کے تعلیم کے بالکل خلاف ہے ۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ لڑکیوں کوگھرکی چاردواری سے باہرنہیں نکلناچاہیے۔ایسے علاقے بھی ہیں جہاں خواتین کے خلاف فیصلے جرگہ کرتاہے۔اورجرگہ کے ممبران شرعی اورملکی قوانین سے نابلدہوتے ہیں۔حصول علم کے حوالے سے ارشادنبوی ؐہے کہ علم حاصل کرنامسلمان مرداورعورت پرفرض ہے ۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی عورتوں پرظلم تشددکوروکنے میں ناکامی ہوئی ہے۔اس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اقوام متحدہ کے فنڈزبرائے آبادی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہرپندرہ سیکنڈبعدایک عورت تشددکانشانہ بنتی ہے۔جنوبی افریقہ میں ایک لاکھ میں سے 121خواتین پرتشددہوتاہے جودنیامیں سب سے زیادہ ہے۔یونان جوتہذیب تمدن اورفلسفے میں اپناکوئی ثانی نہیں رکھتاوہاں بھی عورت کومردکی نفسیاتی تسکیں کاباعث سمجھاجاتاہے۔الغرص عام تہذیبوں اورمعاشروں نے کسی نہ کسی طورعورت کوکم ترثابت کیے رکھا۔اوراُسے مردکی باندی اورغلام بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات کئے۔حضرت آدم اورحضرت ہوا کی جنت سے بے داخلی کاواقعہ ہو،یاحضرت مریم سے حضرت عیسیٰؐؐؐؐؐ کی ولادت الزام عورت پرہی آیا۔اگرصنفی تفریق کاسلسلہ اس طرح جاری رہاتوصورت حال بدسے بدترہوگی۔مساوات اورعدل انصاف پرمبنی معاشرے کاتصورچکناچورہوجائے گا

Print Friendly, PDF & Email