39

چترال،بارش اور پہاڑوں پر برفباری سردی میں غیر معمولی اضافہ،چھتوں سے محروم خیموں میں رہائش پذیر مشکلات سے دوچار

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) چترال کے لوگوں کو شدید مشکل حالات کا سامنا ہے ۔ گذشتہ رات سے بارش اور پہاڑوں پر برفباری نے ایک طرف سردی میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے ۔ تودوسری طرف بارش، چھتوں سے محروم خیموں میں رہائش پذیر متاثرین کیلئے ایک اور عذاب بن کر آن پڑی ہے ۔ مسلا دھار بارش سے پانی خیموں میں داخل ہونے کے سبب اب خیموں میں وقت گزارنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے ضعیف العمر افراد اور بچے شدید اضطراب میں ہیں ۔ لوگوں کو کچھ سمجھائی نہیں دیتا۔ کہ کیا کریں۔علاقے میں چار دنوں سے ٹرکوں کی امدورفت رکنے کی وجہ سے اشیاء خوردونوش کی قلت کا بھی سامنا ہے ۔ اور مسلسل اس میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ درجنوں گاڑیاں جو پشاور چترال آنے کیلئے لواری ٹنل پہنچ چکے ہیں ۔ این ایچ اے اور سامبو کمپنی کی طرف سے اجازت نہ ملنے کے باعث برف پر ٹنل کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ درین اثنا بالائی چترال کے علاقہ مستوج ، شندور پاس ، تورکہو ، موڑکہو ، گرم چشمہ کے مقام شاہ سلیم ، بگوشٹ کے علاوہ کالاش ویلز میں بھی برفباری ہوئی ہے ۔ اور لوگوں کو ضلع کے اندر بھی نقل و حمل میں شدید خطرات درپیش ہیںْ ۔ کیونکہ بارش سے زمین اور پہاڑی ایریے نرم ہو چکے ہیں اور پہاڑی تودے گرنے و سلائڈنگ کا خطرہ موجود ہے ۔ ضلع میں مشکلات دن بدن بڑھ رہے ہیں ۔ اور لوگ انتہائی پریشانی کے عالم میں ہیں ۔ضلعی انتظامیہ کی طرف سے زلزلہ متاثرین کے چیکوں کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے ۔ اور ہزاروں کی تعداد میں متاثرین چیکوں کے حصول کیلئے ڈپٹی کمشنر آفس اور انتظامیہ کے دیگر آفیسران کے دفاتر کے سامنے سارا دن اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں ۔ لوگوں کی اس پریشانی اور رش کے باعث ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ نے گذشتہ روز خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اب چترال شہر کے علاوہ تمام چیک متعلقہ گاؤں میں جا کر تقسیم کئے جائیں گے ۔ تاکہ لوگوں کو مشکلات نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اب تک چار ہزار متاثرین کو چیک جاری کئے جا چکے ہیں ۔ جبکہ سولہ ہزار مزید چیک تقسیم کئے جائیں گے ۔ جن میں مکمل نقصان شدہ مکانات اور جزوی نقصانات شامل ہیں ۔ ڈپٹی کمشنر نے صوبائی حکومت کی طرف سے ملنے والی نئی ہدایات کے مطابق مویشی خانوں اور چار دیواری کے نقصانات پر امدادی چیک نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس پرغریب متاثرین کو بہت دھچکا لگا ہے ۔ ایک متاثرہ شخص ناصر احمد نے میڈیا کو بتایا ۔ کہ اُن کے مویشی خانے زلزلے سے گر گئے اور اُن کے گھر کے دودھ کا واحد ذریعہ ایک گائے تھا ۔ جو اس میں ہلاک ہوا ۔ جسے ذبح بھی نہ کیا جا سکا ۔ اب میرے ساتھ اس حوالے امداد نہ کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔ جبکہ میرے گھر کے تمام اشیاء بھی زلزلے میں تباہ ہو گئے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں