تازہ ترین
Home >> مضامین >> صدا بصحرا۔۔۔۔کرتا رپور کی راہداری ۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 

صدا بصحرا۔۔۔۔کرتا رپور کی راہداری ۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 

انگریزی محاورے کی رو سے برف پگھل رہی ہے پاک بھارت تعلقات میں کر تا رپور راہداری کو نیا اور خوشگوارموڑ قرار دیا جارہا ہے محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف زرداری یا نواز شریف نے جب کبھی پاک بھارت ہمسائیگی کا ذکر کیا تو ان کو وطن دشمن اور غدار قرار دیا گیا پچھلے ڈھائی تین سا لوں میں مو دی کا جو یار ہے غدار ہے کا نعرہ مقبول تھااب نیا نعرہ آیا ہے ’’مودی کا جو یار ہے ،دلدار ہے دلدار ہے ‘‘ تین دن پہلے بھارتی نا ئب صدر اور مشرقی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے ضلع فیروزپور میں کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تھا 29نومبر کے اخبارات میں پا کستانی وزیر اعظم کی تقریر شائع ہوئی انہوں نے بر ملا اور ووٹوک اعلان کیا کہ پاک بھارت دوستی وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے لئے ہمیں جرء ت مندانہ فیصلے کر نے چاہئیں کرتار پور راہداری کے منصوبے کو پاک فوج کی بھر پور تائید حا صل ہے اس سڑک کے ذریعے سر حدیں کھولنے کے بعد پا کستانی پنجاب کے ضلع نا روال میں واقع دربار صاحب تک بھارتی سکھ یاتریوں کی رسائی آسان ہوگی 2018میں سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانگ کے 550ویں جنم دن کی تقریبات منائی جارہی ہیں ضلع ناروال کے شکر گڑ ھہ میں با با جی نے 18سال گزارے تھے اور یہاں کا در بار صاحب سکھ مذہب کے مقدس مقامات میں شمار ہوتاہے کرتا ر پور کی سر حد کھولنے کے نتیجے میں باہمی تجارت اور آمد ورفت میں آسانی ہو گی مبصرین نے اس کا م کو مو جو دہ حکومت کا اہم ترین کار نامہ قرار دیا ہے شاعر نے کہا تھا ؂
تیری زلف میں آئی تو حسن کہلائی
جو سیاہی میرے نامۂ اعمال میں تھی
مو جودہ حکومت کو یہ کریڈت جا تاہے کہ ملکی سلامتی کے اداروں اور مسلح افواج کی قیادت کے ساتھ اس کے مثا لی تعلقات قائم ہیں اور کسی بھی بڑے فیصلے کے لئے دو نوں کا اعتماد ضروری ہے ذولفقار علی بھٹو شہید نے شملہ معاہدہ کیا تو اُ س سال سول اور ملٹری قیادت میں مثالی ہم آہنگی تھی جنرل مشرف نے آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر آمد و رفت کی اجازت دیدی تو اُ س وقت سول اور ملٹری قیادت ایک ہی تھی ؂
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
جب بھی سول اور ملٹری قیادت کسی مسئلے پر متفق ہوئی مسئلہ حل ہوا بیسوی صدی میں دنیا کی کیا حالت تھی ؟ فرانس اور جر منی آپس میں دشمن تھے، جرمنی اور بر طانیہ میں دُشمنی تھی اکیسویں صدی آنے سے پہلے ہی وہ دشمنی گہری دوستی میں بدل گئی اکیسویں صدی میں کیو با اور امریکہ کی دشمنی ختم ہوئی ، ویت نام اور امریکہ کی دشمنی بھی دوستی میں بدل گئی جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کی دشمنی کو دوستی میں بدل دیا گیا دنیا کے ہو شیار لو گوں نے محسوس کیا کہ دشمنی پالنا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ خود ایک مسئلہ ہے اس لئے لوگوں نے دشمنیوں کو ختم کیا پوری دنیا نے ایک مقو لے پر عمل کیا مقو لہ یہ ہے کہ ’’جنگ ایک سنجیدہ معا ملہ ہے اسے فوج کے حوالے نہیں کیا جا سکتا ‘‘ اس ایک جملے نے دنیا میں دشمنیوں کو دوستیوں میں بدل دیا فا صلوں کو قر بتوں میں تبدیل کیا لیکن ہمارے ہاں اس مقو لے کو کسی نے اہمیت نہیں دی اگر کسی نے سنائی تو سننے والوں نے ایک کان سنی دوسری کان اڑا دی وہ جو کسی نے کہا تھا ’’جو کہا تو سن کے اڑا دیا جو لکھا توپڑ ھ کے مٹا دیا ‘‘ پا کستان اور بھا رت کے در میان کر تار پور کی طرح بے شمار اقدار مشترک ہیں اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کا مزار ہے بستی نظام الدین میں سلطان المشائخ نظام الدین او لیاء ؒ کا مزار ہے جہاں پا کستانی مسلمان عقیدت پیش کرنے کے لئے جا نا چاہتے ہیں لیکن سفارتی سرد مہری کی وجہ سے ویزا کے مسائل آڑے آتے ہیں ولی دکنی ، امیر خسرو، میر تقی میر ، مو من خان مو من ، استاد ذوق ، اور مر زا غا لب بھارت میں مد فون ہیں جبکہ علامہ اقبال ، فیض احمدفیض ،انتظار حسین ، مولوی عبدالحق اور مشتاق احمد یوسفی نے پا کستان کی مٹی کو ابدی نیند کے لئے چن لیا دونوں ملکوں کے لو گ سر حد پار کرکے اپنے ممدوحوں کی قبروں پر زیارت کے لئے جا نا چاہتے ہیں مگر حکومتوں کی باہمی چپقلش آڑے آتی ہے شکر ہے گورونانک بابا کی 550سالگرہ پر دونوں حکومتوں نے کرتار پور کی نئی سرحد کو آمد و رفت کے لئے کھول دیا اس طرح کی خیر سگالی کو فو جی قیادت نے قبول کیا تو برف پگھلنے میں دیر نہیں لگے گی


error: Content is protected !!