تازہ ترین
Home >> مضامین >> داد بیداد ۔۔۔۔ گلہ ہے مجھے خدا وندان مکتب سے ۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ 

داد بیداد ۔۔۔۔ گلہ ہے مجھے خدا وندان مکتب سے ۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ 

بازار سے گذرا تو بازار میں چند ہ ہو رہا تھا سفید کپڑوں میں سکول کے بچے چادر پھیلا کر چند ہ مانگ رہے تھے قصبے کی بڑی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے گیا تو مسجد کے باہر وہی بچے چادر پھیلا ئے چند ہ ما نگ رہے تھے سکول کے بچوں کا موقف یہ تھا کہ ہم نے ادبی پروگراموں اور جسمانی کھیلوں کے مقابلوں میں مسلسل کا میابی کا ریکارڈ قائم کیا ہے اب تک زونل سطح کے مقابلے جیت لئے ، ضلع کی سطح پر مقابلے جیت لئے ، ڈویژن کی سطح پر بھی کا میا بی کے جھنڈے گاڑ دئیے اب صوبائی سطح پر مقابلہ کے لئے جارہے ہیں 400 کلو میٹر کا سفر ہے چھ (6)دنوں میں ڈیڑھ لاکھ روپے کا خرچہ ہے سکول کے پاس فنڈ نہیں محکمہ تعلیم کے پاس فنڈ نہیں ضلعی حکومت کے پاس فنڈ نہیں ایم این اے اور ایم پی اے کے پاس پھوٹی کوڑی نہیں اس لئے عوام کے سامنے جھولی پھیلا رہے ہیں اور یہ پہلی بار نہیں تیسر ی بار جھولی پھیلائی جارہی ہے ہم نے دل ہی دل میں کہا ’’’ جس جھولی میں سو چھید ہو ئے اُس جھولی کا پھیلا نا کیا ‘‘ ہم میں سے کسی کو بھی اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے 1960 ؁ء کی دہا ئی میں ہم بھی طالب علم تھے ہم نے بھی صو بائی سطح کے مقابلوں میں حصہ لیا تھا اس کے بعد یونیورسٹی کی سطح پر بھی ہم نے بڑے بڑے مقابلے دیکھے بڑوں سے سنا کہ پشاور یونیورسٹی کی فٹ بال ٹیم کو مقابلے کے لئے ڈھا کہ بھیجا گیا تھا یہ مقابلے کبھی جھولی پھیلا کر ، چادر بچھا کر چند ہ جمع کر کے نہیں جیتے گئے جو محکمہ مقابلے کر اتا ہے وہ فنڈنگ بھی کر تا ہے ایلمینٹری اینڈ سکینڈری ایجو کیشن کا محکمہ سالانہ مقابلوں کے لئے سکولوں سے رجسٹریشن فیس لیتا ہے اس مد میں 23 لاکھ روپے کی آمدنی ہو تی ہے ایک پائی کا خرچہ نہیں ہوتا گراو نڈ مفت میں مل جاتا ہے کوئی سرٹیفیکٹ،کو ئی کپ، کوئی ٹرافی نہیں دی جاتی تقسیم انعامات کی تقریب پر آنہ پائی خرچ نہیں کیا جاتا 100 ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ اگرایلمینٹر ی اینڈ سکینڈری ایجو کیشن کا محکمہ ایک پائی کا بجٹ نہیں دے سکتا تو سالانہ ادبی مقابلے اور کھیلوں کے ٹور نانمنٹ کیوں کرواتا ہے ؟ ہم نے دیکھا ہے کہ بورڈ آف انٹر میڈیت اینڈ سکینڈری ایجو کیشن جب مقابلے کر واتا ہے تو سارے اخراجات برداشت کر تا ہے یونیورسٹیوں کے حکام مقابلے کر واتے ہیں تو سارے اخراجات برداشت کر تے ہیں تقسیم انعامات کی تقریب بھی ہو تی ہے کپ اور ٹرافیاں دی جاتی ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سکول کے بچوں نے بازاروں میں ،مسجدوں میں چند ے مانگ کر اپنے اخراجات پورے کئے ہوں ایک سینئر استاد کا کہنا ہے کہ ہم بچوں کو مختلف مقابلوں کے لئے تیار کر تے ہیں مگر خوش قسمتی سے بچے زونل سطح پر مقابلہ جیت کر ضلعی سطح کے لئے آگے بڑھیں تو ہماری شامت آجاتی ہے سکول کے پر ائیویٹ فنڈ کا جو اختیار ملتا ہے وہ زونل مقابلوں میں ختم ہو جاتا ہے آگے بد قسمتی کا سفر شروع ہو تا ہے ضلعی سطح کے لئے چند ہ ، ڈویژنل مقابلوں کے لئے پھر چند ہ اور صوبائی مقابلوں کے لئے ایک بار پھر چند ہ مانگنا پڑ تا ہے اس لئے ہم دعا کر تے ہیں کہ ہماری کوئی ٹیم کسی سطح کا مقابلہ ہی نہ جیتے ورنہ جیتنے کے بعد بچوں کو بازاروں میں ذلیل ہو نا پڑ تا ہے ملاکنڈ ڈویژن میں ماضی کی اچھی مثالیں موجود ہیں سٹیٹ کے زمانے میں محکمہ تعلیم کے اندر ہم نصابی سرگرمیوں کے لئے سپر وائزر اور سپورٹس افیسر کے عہد ے ہو تے تھے گرل گائیڈ، بو ائے سکاؤٹس کی سرگرمیاں ہو ا کر تی تھیں ریاستی سکولوں کو لاہور ، کراچی اور کو ئٹہ تک سر کاری خرچے پر مختلف مقابلوں میں شرکت کے لئے بھیجا جاتا تھا اب بھی بورڈ اور یو نیورسٹی کے اہتمام سے جو مقابلے ہو تے ہیں اُن میں شرکت کے لئے طلباء کو بازاروں میں چند ہ کشی کی ضرورت نہیں پڑتی سکول کے اساتذہ اور بچوں کے والدین پر یہ بوجھ نہیں ڈالا جا تا کہ تمہا رے بچوں نے مقابلہ جیتا ہے اب 20 ہزار روپے اپنے بچے کو دید و تا کہ آگے جا کر صوبائی مقابلہ جیتے اور سکول کا نام روشن کر ے یہ بات حوصلہ افزائی کی جگہ حوصلہ شکنی کے زمرے میںآتی ہے مسئلے کے دو ممکنہ حل ہیں پہلا حل یہ ہے کہ محکمہ ابتد ائی و سیکنڈری ایجو کیشن سالانہ مقابلوں کے لئے فنڈ مہیا کر ے اگر یہ ممکن نہیں تو ان مقابلوں کا انتظام تعلیمی بورڈوں کے سپر د کر ے تعلیمی بورڈوں کے حکام ایسے مقابلے منعقد کر انے کی صلا حیت اور اہلیت رکھتے ہیں وہ ایسے مقابلوں کے لئے وسائل بھی فراہم کر سکتے ہیں کسی مقابلے میں کا میاب ہونے والی ٹیم کا یہ انعام تو نہیں کہ وہ چادر اور جھولی پھیلا کر چند ہ مانگے اور وہ چند ہ کشی کے ذریعے اگلے مقابلے کی تیاری کر ے علامہ اقبال نے یہ بات ویسے نہیں کہی
گلہ ہے مجھے خد اوندانِ مکتب سے یارب
شاہین بچوں کو سبق دیتے ہیں خاک بازی کا
یادش بخیر ! جنرل مشرف کہا کرتے تھے ’’ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ‘‘ کالم کے اختتام پر مجھے یاد آیا کہ تم لکھتے ہو کس کے لئے ؟ یہاں پڑھتا وڑتا کوئی نہیں اخباری تراشے حکام کو نہیں بھیجے جاتے پارٹی کارکن اور عہد یدار اخباری شکایات پارٹی کے لیڈروں تک پہنچانے کی ہمت نہیں کر تے اور اخباری کارکن ،صحافی ،کالم نگاریا تجزیہ کار اوپر کے حکام تک رسائی نہیں رکھتے بقول شاعر
بات اپنی واں تک پہنچتی نہیں
عالی رتبہ ہے جناب بہت


error: Content is protected !!