123

آل ٹیچرز بیسک کمیونٹی سکولز ضلع چترال کی درجنوں خواتین ٹیچرز نے ڈپٹی کمشنر آفس چترال کے سامنے احتجاجی مظاہر ہ

چترال ( محکم الدین ) آل ٹیچرز بیسک کمیونٹی سکولز ضلع چترال کی درجنوں خواتین ٹیچرز نے پیر کے روز ڈپٹی کمشنر آفس چترال کے سامنے احتجاجی مظاہر ہ کیا ۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ اس موقع پر احتجاجی ٹیچرز کی نمایندگی کرتے ہوئے آفتاب جبین ، شازیہ سلطانہ و دیگر نے کہا ۔ کہ وہ گذشتہ بیس سالوں سے قوم کے بچوں کو انتہائی کم مشاہرے پر کنٹریکٹ بنیاد پر پڑھاتی رہی ہیں ۔ آج وہی بچے یونیورسٹیوں سے فارغ ہو چکے ہیں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ اُن کو پڑھانے والے اساتذہ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں ۔ اور گذشتہ 7مہینوں سے تنخواہیں بند ہونے کی وجہ سے اُن کے چولہے بجھ چکے ہیں ۔ اور شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ موجودہ وزیر اعظم الیکشن کے دنوں میں ہمارے ساتھ انتہائی ہمدردی کا اظہار کر رہے تھے ۔ اور اقتدار میں آکر مسئلہ حل کرنے کی یقین دھانی کر چکے تھے ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ آج ہمارے مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ۔ اور ہم اپنے اضلاع اور اسلام آباد میں اس شد ید سردی میں اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دینے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 1999میں انہوں نے صرف ایک ہزار روپے کی تنخواہ پر بچوں کو پڑھانے کا آغاز کیا ۔ لیکن بیس سال گزر گئے ۔ ہمیں مستقل کیا گیا اور نہ تنخواہ میں مناسب اضافہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اُن کی تمام زندگی قوم کے بچوں کے روشن مستقبل کیلئے پڑھاتے ہوئے گزر گئی ہے ۔ اس لئے اُن کے ساتھ انصاف کا سلوک کیا جائے ۔ احتجاجی ٹیچرز نے کہا ۔ کہ حکومت نے 45دنوں کے اندر مسئلہ حل کرنے کی یقین دھانی کی تھی ۔ مگر دو مہینے سے بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اُن کے مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اُن کے ساتھ اگر یہی رویہ روا رکھا گیا ۔ تو اسلام آباد سمیت تمام اضلاع میں بھر پور احتجاج کیا جائے گا ۔ اور بھوک ہڑتال کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں 93اساتذہ سات مہینوں سے بند تنخواہوں کی فراہمی اور کنٹریکٹ ملازمت کو مستقل کرنے کے انتظار میں ہیں ۔ درین اثنا سابق تحصیل ناظم چترال و رہنما پاکستان تحریک انصاف سرتاج احمد خان نے احتجاجی اساتذہ سے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔ اور کہا ۔ کہ اُنہوں نے قوم کیلئے بہت بڑی قربانی دی ہے ۔ جس میں وہ اُن کے مطالبات کو بھر پور سپورٹ کرتے ہیں ۔ مظاہرین نے ایم پی اے چترال مولانا ہدایت الرحمن کا طویل انتظار کیا ۔ مگر وہ یقین دھانی کے باوجود مظاہرین سے یکجہتی کیلئے ڈی سی آفس نہیں آئے ۔ جس پر مظاہرین نے انتہائی مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email