81

لیڈیز ہیلتھ ورکرزچترال کے پانچ سو سے ذیادہ ملازمین نے کئی مہینوں سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سخت تشویش کا اظہار

چترال (ڈیلی چترا ل نیوز) لیڈیز ہیلتھ ورکرز(ایل ایچ ڈبلیو) پروگرام چترال کے پانچ سو سے ذیادہ ملازمین نے کئی مہینوں سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آپہنچی ہے اور بچوں کی تعلیم کا سلسلہ متاثرہونے کے ساتھ ساتھ ان کے دوسرے روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنا محال ہوگیا ہے جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت ایک خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایل ایچ ڈبلیوایسوسی ایشن کے صدر اسیہ بی بی ،نائب صدر سعدیہ منصور، جنرل سیکرٹری شاہینہ محمود، فنانس سیکرٹری زاہدہ مظفراور دوسرے رہنماؤں حریرہ، شمس العارفہ، گل بیدہ اور دوسروں نے کہا کہ آٹھ ہزار روپے کی قلیل تنخواہ پر کام کرنے کے باوجود ایل ایچ ڈبلیو کو کئی کئی مہینوں سے تنخواہ سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑے گا کیونکہ بنیادی صحت کے سلسلے میں ایل ایچ ڈبلیوایک ڈاکٹر سے لے کر دائی کی ذمہ داریاں ادا کررہی ہیں اور گھر گھر جاکرزچہ وبچہ کے مسائل کرنے سے ان کی شرح اموات میں نمایان کمی آنے سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ایل ایچ ڈبلیو محکمہ صحت کے تمام عوامی مہمات سے لے کر دوسرے پروگراموں اور خصوصاً پولیو کے خاتمے کے پروگرام میں بھی ہراول دستے کا کردار ادا کرتے آئے ہیں لیکن ان کو تنخواہ سے مسلسل محروم رکھ کر انہیں مسائل میں جھونک دیا گیا ہے جوکہ قابل افسوس ہے۔ اس موقع پر ہیومن رائٹس کے معروف لیڈر اور ہیومن رائٹس پروگرام کے چیرمین نیاز اے نیازی بھی موجود تھے۔

DSC01622

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں