165

گیارہ دسمبرپہاڑوں کاعالمی دن۔۔۔۔۔تحریر:نذیرحسین شاہ نذیر

پاکستان سمیت دنیابھر میں گیارہ دسمبرکو پہاڑوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد پہاڑوں کا قدرتی حسن میں اضافے، قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے اقدامات ،پانی اورزراعت کے حوالے سے شعور اجاگرکرناسمیت قدرتی وسائل کے حوالے سے آگاہی فراہم کرناہے ۔پاکستان بھی قدرتی حسن سے مالا مال ہے اور یہاں دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑ قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش موجود ہیں ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعے 2002کو پہاڑوں کا سال قراردیاتھا۔اقوام متحدہ کے مطابق سیاحت، آلودگی، جنگلات کی کٹائی اورموسمی تبدیلیوں کی وجہ سے پہاڑوں کا قدرتی حسن تباہ ہورہا ہے۔
حکومت کی طرف سے چترال میں سیاحتی مقامات کی بہتری کیلئے موثر اقدامات کر نے کی ضرورت ہے اور سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دیکر قومی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔پاکستان میں پہاڑی سلسلے سیاحوں کیلئے کشش کاباعث ہیں،پاکستان قدرتی خوبصورتی اورتاریخی مقامات سے مالامال ہے۔پہاڑی سلسلوں کو ماحولیاتی خطرات سے بچانا اور پہاڑوں کا قدرتی حسن برقرار رکھنے کے لئے اقدامات کا شعور اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہے۔ 
چترال بھی ہندوکش کے بلندوبالا چوٹیوں کے درمیان واقع ہے ہندوکش کی سب سے بلند ترین چوٹی تریچ میر (25261فٹ) ضلع چترال کے بالکل وسط میں واقع ہے اور پوری چترال سے اس کا نظارہ کیاجاتاہے اپنی شایان شان وجاہت کے اعتبار سے اس چوٹی کا اثر چترال کی ثقافت پر انتہائی گہرا ہے۔ چترال اور گلگت بلتستان کی لوک کہانیوں اور لوک روایات میں تریچ میر کو پریوں کا مسکن کہاجاتاہے۔ تریچ میر کو پہاڑوں کا شہنشاہ بھی کہاجاتاہے اور ہر طرف سے چترال کی سرزمین کے پس منظر کے طورپر نظروں کو فرحت بخشتاہے سال بارہ مہینے برف سے ڈھکا رہتاہے ۔یہ حسین پہاڑ کوہ ہندو کش کے سلسلے کا بلند ترین پہاڑ ہے۔ناروے کی ایک ٹیم نے پہلی مرتبہ1950ء میں اس چوٹی کو سرکرنے کا کارنامہ سرانجام دیاتھا۔ اس کے ساتھ ہی چترال میں سیاحت اور کوہ پیمائی میں نمایاں ترقی دیکھنے کو ملی۔
دنیا کی پچاس فیصد سے زیادہ آبادی زراعت اور بجلی پیدا کرنے کیلئے پہاڑوں سے آنے والے پانی پر انحصار کرتی ہے۔ پہاڑ ماحول کو متوازن رکھنے میں مددگار ہیں تو یہ پینے کے صاف پانی کے حصول کا سب سے بڑاذریعہ بھی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ انسان بقاء کیلئے لازمی ہونے کے باوجود پہاڑوں کی حفاظت کیلئے کوئی اقدامات نہیں کرتا۔ چترال کے طول وعرض میں قدرتی جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے چترال کے پہاڑ اب تقریباً جنگلات سے مکمل طورپر محروم ہوچکے ہیں اس کا اثر آئے روز کی سیلابوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اسی طرح چترال میں زیادہ بکریاں پالنے کی وجہ سے قدرتی سبزہ ختم ہورہی ہے اوران کے پاؤں کے نیچے زمین گردوغبارمیں تبدیل ہوجاتی ہے۔ چترال کے پہاڑ درختوں اورسبزے سے محروم ہیں یہی وجہ ہے کہ مون سون کی بارشوں کو برداشت نہیں کرسکتے جس کی بنا پر سال 2015کے مون سون کے موسم میں چترال بارشوں اور سیلابی ریلوں سے دوچار ہوا اسی طرح یہاں کے عوام نے جلانے‘ عمارتیں تعمیر کرنے اوربالخصوص بعض بااثر افراد نے جنگلات کی بے تحاشہ کٹائی کی، پہلے سے درختوں کی کمی کا شکارچترال کی پہاڑیاں ٹمبر مافیاز کی بے دردی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوگئے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ پہاڑی خطوں میں بسنے والے لوگوں کو ان پہاڑوں سے متعلق آگاہی نہیں لہذا وہ احتیاطی تدابیر برتنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے پہاڑیاں اورسیاحتی مقامات بری طرح متاثر ہورہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ آنے والی نسلوں کو محفوظ خطہ زمین دینے کے لئے آج ہی سے احتیاطی تدابیر اپنائی جائے بصورت دیگر مکمل تباہی ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email