65

دادبیداد ۔۔۔۔۔ہمہ جہتی تعلیم ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 

نصاب کا ذکر آجکل اخبارات میں بار بار آتا ہے کبھی مثبت انداز میں ،کبھی منفی سوچ کیساتھ بھی آتاہے اس ہفتے کی سب سے دلچسپ خبر یہ تھی کہ حکو مت نے یکساں نصاب تعلیم کے لئے ٹاسک فورس تشکیل دی ہے اس خبر کے ساتھ ہی دوسری خبر شائع ہوئی ہے اُس میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ نصاب کا اسلامی حصہ آہستہ آہستہ حذف کیا جا رہا ہے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے نصا بی کتابوں سے اسلامی مو ضو عات کو نکا ل دیا ہے اکیسویں صدی کا ایک چوتھا ئی ختم ہونے کو ہے ہمیں یہ نہیں معلوم کہ طالب علم کے بستے کا وزن کیا ہو نا چاہیئے تعلیم مادری زبان میں ہو، قومی زبان میں ہو یا بین الاقوامی زبا ن میں ہونی چا ہئیے اور تعلیمی نصاب میں اسلام کا کتنا ’’ تڑ کا ‘‘ ہمارے لئے کا فی ہو گا ؟ زمینی حقائق یہ ہیں کہ دنیا کتا بوں سے آگے جا چکی ہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نصابی کتابوں کو ختم کرکے نصاب ہی پڑ ھا یا جا رہا ہے عنوا نات کی جگہ اہداف (SLOs) پڑ ھا ئے جا رہے ہیں بینج مارکس پر زور دیا جا رہا ہے انٹر نیٹ ، اور سو شل میڈیا نے کتاب کی جگہ لے لی ہے تعلیم کو سر ٹیفیکٹ اور ڈگری سے بے نیاز کر دیا گیاہے تعلیم چار بنیادی مہارتوں کا نام بن چکی ہے سننے ، بولنے ، پڑھنے ، اور لکھنے کی مہارتوں کے ذریعے طالب علم سے یہ توقع کی جا تی ہے کہ وہ ایف ایس سی کی سطح تک آتے آتے تاریخ ، جعرافیہ ، زبان و ادب ، فلسفہ اور سیاسیات کے ساتھ حالات حا ضرہ کا علم وادراک حا صل کرے گا طالب علم کو جاننا ہو گا کہ سائنس سے مراد صرف کیمسٹری ، فزکس ، بیا لوجی اور ریا ضی نہیں جعرافیہ ، تاریخ ، ادب اور حالات حا ضرہ بھی سائنس ہے کیونکہ سائنس انداز فکر کا نا م ہے سوچ اور تدبّر کے اسلوب کا نا م ہے سائنسی اسلوب اختیار کیا جائے تو ادب اور زبان کی تعلیم بھی سائنس کے زمرے میں آتی ہے اور اکیسویں صدی کے طا لب علم کو میڈیکل ، انجینرنگ یا منیجمنٹ سائنسز کے ساتھ ادب ، تاریخ اور حالت حا ضرہ کے علم پر بھی عبور حا صل ہو نا چاہئیے بنیادی مہارتوں کے لحا ظ سے کسی دفتر میں کسی کانفرنس میں ، کسی ہوائی اڈے کے ٹرانزٹ لاونج میں یا کسی عام مجلس میں اس کی گفتگو کا جائزہ لیکر اُس کے تعلیم یا فتہ ہونے یا محض خواندہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا کیمسٹری میں 95فیصد نمبر لیکر آنے والا اگر تاریخ ، جعرافیہ اور ادب میں کوراہو گا تو اس کو تعلیم یافتہ نہیں بلکہ خواندہ قرار دیا جائے گا فارسی کا مقولہ ہے ’’ تامردی سخن نگفتہ باشد عیب و ہُنرش نہفتہ باشد‘‘ آدمی جب تک بات نہ کرے اس کا عیب یا ہنر سامنے نہیں آتا فلسفہ کے ایک طالب علم ہماری یو نیورسٹی میں کا فی مشہور ہوئے تھے وجہ شہرت یہ تھی کہ وہ نئی نئی کتابوں کے شو قین تھے دوست احباب ہر ملا قات میں پا نچ چھ دواؤں کے نا م بتا کر کہتے کہ یہ کتا بیں بازار میں آگئی ہیں تو وہ ان کو نہ صرف پڑھنے کا دعویٰ کر تے بلکہ ان پر ’’ بصیرت افروز‘‘تبصرہ بھی داغ دیتے مثلاً امجد خان کہتے کہ پر و فیسر سائیکو سوما کی نئی کتاب آگئی ہے تو فلسفی دوست جاپانی پروفیسرکی کتاب کا خلاصلہ بتا دیتے بعد میں پتہ چلتا کہ سائیکو سو ما جا پا نی پر و فیسر کا نام نہیں دماغی امراض کی ایک دوا کا نام ہے اس طرح جنید اکبر انکشاف کرتے کہ نیا نا ول ’’کوٹرائی میکسازول ‘ ‘ ارباب روڈ کی دکا نوں پر دستیاب ہے تو فلسفہ کے طالب علم کی ’’رگ صحا فت ‘‘ پھڑک اٹھتی وہ فو راً کہتے میں یہ نا ول کل ہی ختم کیا ہے بہت دلچسپ نا ول ہے اس پر فلم بننی چاہیئے مو صوف ایم اے کے طالب علم تھے مگر انہیں فارمیسی کا اتنا علم بھی نہیں تھا کہ دوا وں کے نا موں کی پہچان ہو تی اگر اتنا علم ہو تا تو وہ ہنسی مذاق کا نشانہ کبھی نہ بنتے اس طرح ڈاکٹر اور انجینر کو تاریخ اور جعرافیہ کا پتہ نہ ہو تو اُ سے مجلس میں خواندہ شمار کیا جا تاہے تاریخ کے پرو فیسر کو ادب کا پتہ نہ ہو تو اُس کا مذاق اڑا یا جا تاہے قدیم زمانے کے مدارس میں 17بنیادی علوم پر طالب علم کو پڑ ھا ئے جاتے تھے مو جودہ دورمیں ’’ملٹی ڈسیپلی نیری ‘‘ طریقہ تعلیم لا یا گیا ہے جس میں طالب علم بیک وقت 10مضا مین پر عبور حا صل کر لیتا ہے جن لو گوں نے 1960یا 1970کے عشرے میں تعلیم حا صل کی اُن کو پتہ ہے کہ اُس زمانے میں سائنس،ریاضی ،انگریزی، جعرافیہ ، تاریخ اور ادب کے ساتھ فزیکل ایجو کیشن،لائبریری اور بوائے سکاوٹ سکول کی تعلیمی سر گر می کا لازمی حصہ ہوتے تھے 1980کے بعد پانچوں کو نکال دیا گیا 2017میں خیبر پختونخواکے 4000ہائی ، ہائیرسکینڈری سکولوں اور 200کا لجوں کا سروے ہوا کسی ادارے میں کسی ایک کلاس روم کے اندر بھی پاکستان کا نقشہ نہیں تھا کسی بھی سکول میں ڈرل اور پی ٹی نہیں تھی کسی بھی سکول میں لائبریری نہیں کھلی تھی اور بوائے سکا وٹ کا نام کسی نے نہیں سنا تھا اس سسٹم میں پڑ ھ کر ایف ایس سی یا بی ایس سی کرنے والا طالب علم ’’ لکیر کا فقیر ‘‘ ہو تا ہے وہ مکھی پر مکھی مار سکتا ہے کسی پڑھے لکھے شخص کے ساتھ گفتگو نہیں کر سکتا کسی انٹر ویو میں پا س والے نمبر نہیں لے سکتا اپنی میز پر کوئی تخلیقی کام نہیں کر سکتا اس لئے ضرورت اگر ہے تو نصاب تعلیم اور سکول کی بنیادی ضروریات ، کمرہ جما عت کے تدریسی ما حول اور طریقہ تدریس پر از سر نو غور کرنے کی ہے اور اس پر بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں سے نکلے ہوئے طلباء اور طالبات انٹر ی ٹیسٹ میں 90فیصد اور مقا بلے کے امتحا نات CSSیا PMSمیں 98فیصد یا 97فیصد کیوں فیل ہوتے ہیں پاس ہونے کی شرح 2فیصد یا3فیصد کیوں ہوتی ہے ایک جملے میں اگر جواب دیا جائے تو جواب یہ ہے کہ بڑے بڑے امتحا نات ہمہ جہتی تعلیم (Holistic Education)کا تقاضا کرتے ہیں پڑھے لکھے لو گوں کے ساتھ گفتگویا لیکچر کے لئے بھی ہمہ جہتی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہمارا ذریعہ تعلیم اور طریقہ تعلیم تدریس طوطوں کی نسل پیدا کررہا ہے

Print Friendly, PDF & Email