150

ضلع اپر چترال کا قیام ۔۔۔۔۔ محکم الدین ایونی 

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں ضلع اپر چترال کا قیام ایک تاریخی کار نامہ ہے ۔ یہ ایسی کارکردگی ہے جسے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتیں بار بار مطالبات کے باوجود عمل میں نہ لا سکیں ۔ اپر ضلع کیلئے ایک وقت ایسا بھی آیا ، کہ جب اس مطالبے کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے سامنے پیش کرنے کیلئے مرحوم ایم پی اے چترال ذین العابدین کی قیادت میں اپر چترال کے وفد نے شندور میں اُس سے ملنے کی کو شش کی ۔ تو اُنہیں ملنے نہیں دیا گیا ۔ جس پر لوگوں کی طرف سے احتجاج ہوا ۔ نتیجتا مظاہرین پر پولیس کی طرف سے بد ترین لاٹھی چارج کیا گیا ۔ اشک آور گیس کا استعمال ہوا ، فائرنگ کی گئی ۔ اورشندور پولو گراونڈ میدان جنگ بن گیا، اور کئی ا فراد کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔ یوں (صوبہ سرحد ) موجودہ خیبر پختونخوا اور مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود چترالی عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ منظور نہ ہو سکا ۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کی سابق صوبائی حکومت نے نہ صرف اس مطالبے کو سنجیدہ لیا ۔ بلکہ گذشتہ سال اپنے دورہ چترال کے موقع پر سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کے سامنے ضلع اپر چترال کا اعلان کرکے چترال کے عوام کا دھائیوں پر محیط دیرینہ مطالبہ نہایت خوش اسلوبی سے حل کر دیا ۔ جو کہ نو ٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد قانونی طور پر ضلع کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔
اپر چترال ضلع جیسا ایک دیرینہ مطالبہ بغیر کسی احتجاج اور تحریک کے وجود میں آنا تحریک انصاف چترال کے قائدین کی بھر پور کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ چترال کے لوگ کھل کر اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ کہ اگر پی ٹی آئی کے ضلعی قائدین اس حوالے سے اپنی مرکزی اور صوبائی قیادت کو قائل کرنے میں کامیاب نہ ہوتے ، تو شاید اتنا بڑا قدم پی ٹی آئی کی حکومت نہ اُٹھاتی ۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف چترال کے قائدین ایم پی اے وزیر زادہ ، عبداللطیف ، رحمت غازی ، ، اسرارالدین ، سرتاج احمد خان ، آفتاب طاہر و دیگر کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ یہی وجہ ہے جب گذشتہ دنوں اپر چترال ضلع کے نوٹیفیکیشن کے ساتھ ایم پی اے چترال وزیر زادہ کی قیادت میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں پر مشتمل قافلہ بونی کی طرف روانہ ہوا ۔ تو پورے راستے میں ایک جشن کا سماں تھا ۔ اور سینکڑوں لوگوں نے نہ صرف مختلف مقامات پر بھنگڑے ڈال کر ڈھول کی تھاپ پر اپنی بھر پور خوشی کا اظہار کیا ۔ بلکہ بونی میں شاندار جلسے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور اپر چترال کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
اپرچترال کو ضلع بنانے کی ضرورت اس لئے بھی تھی ۔ کہ یہ علاقہ حکومت کی نظروں سے اوجھل رہنے اور سرد مہری کی وجہ سے دیگر گوں مسائل سے دوچار ہے ۔ وسیع رقبے پر پھیلے علاقے کی مختلف وادیاں ہیں ، جہاں کی سڑکوں کو مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مرمت کرکے ضلعی ہیڈ کوارٹر کے ساتھ رابطہ بحال رکھا ہوا ہے ۔اس لئے نئے ضلع کے قیام کے بعد ان پر حکومت بھر پور توجہ دے گی ، اور یہ مسائل حل ہو جائیں گے ،لیکن تحریک انصاف کے مخالفین کا یہ خیال ہے ۔ کہ پی ٹی آئی حکومت اپر چترال کو منظم ضلع بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ ایک طرف ملک کی معاشی حالت انتہائی طور پر تشویشناک ہے ۔ بر سر روز گار افراد بے روزگار ہو رہے ہیں ۔ کوئی معاشی مستقبل نظر نہیں آرہا ۔ اور دوسری طرف تحریک انصاف کی پچھلی صوبائی حکومت نے چترال پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ 2015 کے سیلاب اور زلزلے کے دوران صوبائی حکومت نے چترال کو یکسر نظر انداز کر دیا ۔ اس لئے آج بھی اپر چترال کے بہت سے علاقوں میں سڑکیں بحال نہیں ہوئی ہیں ۔ اور اگر موجود ہیں تو وہ انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں ۔ تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز سہولتوں سے محروم ہیں ، نہری نظام اور آبنوشی سکیموں کا بُرا حال ہے ۔ جنگلات کی قلت ہے ٹمبر اور جلانے کی لکڑی کیلئے اپر چترال کے لوگ لوئر چترال کے محتاج ہیں ۔ ایندھن اور روشنی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک بھی بڑا بجلی گھر اپر چترال میں موجود نہیں ۔ اور 2015کے سیلاب سے متاثرہ ریشن بجلی گھر صوبائی حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے آج بھی کھنڈر کی صورت میں اپنی بحالی کا انتظار کر رہا ہے ۔ ایسی حالت میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اپنی خفت چھپانے کیلئے اگر ایک سال پہلے اعلان کردہ ضلع اپر چترال کا نوٹیفیکیشن کرتی ہے ۔ اور توقع کے مطابق فنڈ فراہم نہیں کرتی ۔ تو اس ضلع سے لوگوں کو کیا حاصل ہو گا ۔
اس حوالے سے ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ کے خیالات بھی حوصلہ افزاء اور پُر اُمید نہیں ہیں ۔ اُنہوں نے گذشتہ روز اس سلسلے میں منعقدہ ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ۔ کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے متعلق اُن کا جو تجربہ رہا ہے ۔ وہ انتہائی تلخ ہے ۔ تاہم وہ نئے ضلع کی حمایت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،لیکن یہ ضلع تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے ۔ جب اس کیلئے اس کی ضرورت کے مطابق فنڈ دیے جائیں ۔ بصورت دیگر یہ ڈسٹرکٹ صرف نام کا ڈسٹرکٹ ہی رہے گا ۔ اور اپر چترال کے لوگوں کے مسائل مزید بڑھیں گے ۔ لیکن بہت سے لوگ اس بات پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ کہ چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔ نئی تقسیم سے دس یونین کونسل اپر چترال ضلع کا حصہ ہوں گی اور چودہ یونین کونسل لوئر چترال میں ہوں گے ۔ اس تقسیم سے انتظامی امور کی انجام دہی میں حائل مشکلات کم ہوں گی ۔ اپر چترال کے لوگوں کو ضلعی ہیڈکوارٹر تک پہنچنے کیلئے طویل سفر کی صعوبتیں برداشت نہیں کرنی پڑیں گی ۔ گھر کی دہلیز پر مسائل حل ہوں گے ۔ تقریبا 3900نئی آسامیاں نکل آئیں گی ۔ اور بے روزگاری میں کمی آئے گی ۔ سی پیک سے براہ راست استفادہ کے مواقع ملیں گے ۔ سیاحت کو فروغ ملے گا ۔ گلیشئر ز ، معدنیات اور قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخائر سے استفادہ کے مواقع میں اضافہ ہو گا ۔اور قدرتی نظاروں سے لطف انداوز ہونے اورمختلف فیسٹولز میں شرکت کیلئے ملک اور بیرون ملک سے بڑی تعداد میں سیاح علاقے کی طرف آئیں گے ۔ جبکہ حکومت کی طرف سے ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تعمیر سے نہ صرف اپر چترال بجلی سے خود کفیل ہو گا ۔ بلکہ آمدنی بھی ہو گی ۔ اور ان ہی روشن امیدوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تحریک انصاف کی طرف سے اپر ضلع کا قیام ایک بہت بڑا تحفہ ہے ۔ تاہم اس کو عملی طور پر ضلع بنانے کیلئے حکومت کی توجہ اور ممبران اسمبلی کی بھر پور محنت اور کوشش کی ضرورت ہے ۔ اور یہ وقت ہی بتائے گا ۔ کہ تحریک انصاف کی حکومت اپر چترال ضلع کو اپنے پاؤں کھڑا کرنے اور چترالیوں کے مسائل حل کرنے میں کس حد تک سنجیدہ ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email