63

صدا بصحرا۔۔۔۔میڈیکل کی تعلیم کا اخلاقی پہلو۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی 

انگریزی لفظ’’ میڈکل ‘‘ نے طبابت ، حکمت اور مسیحا ئی کے پیشے کو نئے معا نی اور مفا ہیم سے ہمکنار کر دیا ہے وجہ یہ ہے کہ طبا بت اور حکمت کی تعلیم کا 50فیصد اخلا قیات کی تد ریس و تر بیت کے لئے مختص ہو تا تھا میڈیکل کی تعلیم میں اخلا قیات کا حصہ صفر کے برا بر ہے اخلا قی تعلیم کی وجہ سے طبیب اور حکیم سب سے پہلے مریض یا مریضہ کو ہمدردی کی نظر سے دیکھتا تھا اخلاقی پہلو صفر ہونے کی وجہ سے میڈیکل کا لج سے آنے والا ڈاکٹر مریض یا مریضہ کو خر چ ہونے والے مال ، استعمال کی چیز یا انگریزی میں کمو ڈیٹی (Commodity)کی نظر سے دیکھتا ہے اور ذریعہ آمدن سمجھتا ہے میرے محترم دوست ڈاکٹر حفیظ اللہ جب میڈیکل کا لج کے پر نسپل تھے تو انہوں نے اخلا قیات کو میڈیکل کے نصاب میں شامل کرنے کے لئے جامع حکمت عملی وضع کی تھی ڈاکٹر عد نان گل کا معا ملہ سب سے الگ ہے وہ ہر مریض یا مریضہ کو ماں باپ، بہن بھائی اور اولاد کا درجہ دیتے ہیں اور یہ بہت مشکل کام ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے سامنے ایک رول ما ڈل ہے میں نے ڈاکٹر سید امجد حسین سے یہ مشکل سبق حا صل کیا ہے کا ر مسیحا ئی کے لئے اس سبق کی بیحد اہمیت ہے حکیم محمد سعید ، حکیم عبد الواسع ندوی ، حکیم سنجرانی اور حکیم صاد ق انیس اسی حوالے سے یاد کئے جا تے ہیں تمہید کی یہ لمبی بحث بے کار نہیں یہ کار آمد بحث ہے اس کے کار آمد ہونے کی دو بڑی مثا لیں ہیں 2018کے ڈوبتے سو رج نے خیبر پختونخوا کے دو بڑے ہسپتالوں میں دو منا ظر دیکھے پشاور میں ڈاکٹر نے پیسہ نہ ملنے کی وجہ سے غریب مریض کا اپریشن کرنے سے انکار کیا مریض اپریشن تھیٹر میں بے ہو ش پڑا تھامو ت کے منہ میں جا رہاتھا ایک سکیورٹی گارڈ نے مریض پر ترس کھا یا اپریشن کرکے مریض کو وارڈ میں منتقل کیا کرک کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں یہ فریضہ ایک دوسرے کلاس فور نے انجام دیا حکومت نے ڈاکٹر وں کو ترقی دی اور دونوں کلاس فو ملا زمین کو نو کری سے برطرف کیا کسی شاعر کا لا جواب مصرعہ ہے ’’جو چا ہے تیرا حسن کر شمہ ساز کرے ‘‘ ایک مریض کی گردن پر دانہ نکل آیا اُس نے ڈاکٹر کو دکھا یا ڈاکٹر نے کہا کہ کان ، ناک ، گلے اور گردن والے ڈاکٹر کے پاس جاؤ مریض نے شکا یت کی عا لیجاہ! میرے جسم کے ٹکڑوں کو الگ الگ کرکے ڈا کٹروں میں کس نے تقسیم کیا ؟ مر تا کیا نہ کر تا کان ، ناک ،گلے اور گردن والے ڈاکٹرکے پاس گیا اُس نے کہا کہ 25ہزار روپیہ خرچہ آئیگا چھوٹا سا اپریشن ہو گا ہسپتال میں کروگے تو ڈیڑھ ماہ بعد تمہا را نمبر آئے گا ، کلینک میں کر نا چا ہو تو آج شام تمہا را اپریشن کرونگا اُس شام 25ہزار روپے ہاتھ نہیں آئے مریض گھر آیا گھر میں ملتان شہر سے مہمان آیا تھا اتفاق سے ڈاکٹر تھا اس نے کہا یہ ٹی بی کا دانہ ہے کل میں تیرے ساتھ ہسپتال آونگا تمہارا ٹیسٹ کرا ونگا ٹیسٹ نے ٹی بی کی تصدیق کر دی 7ما ہ مفت دوا مل گئی مریض تندرست ہوا اگر اس کی جیب میں پہلے دن 25ہزار روپے ہو تے تو ناک ،کان ، گلے اور گردن والے سرجن کا دائمی مریض بن جا تااپنی قبر میں جا کر لیٹنے سے پہلے کم از کم 4لاکھ روپے مو صوف کی جیب میں ڈال کر اُس کو بد دعا دیتے ہوئے اس فانی دنیا سے رخصت ہو جا تا دوسری مثال پہلی مثال سے بھی زیا دہ بھیانک اور خوفناک ہے ٹریفک کے حا دثے میں ایک بزرگ کی ٹانگ اور بازو میں گہرے زخم آئے ، ہڈیاں ٹوٹ گئیں بزرگ کو شہر کے بڑے ہسپتال لایا گیا سپیشلسٹ نے اپریشن کے لئے 3ماہ کا وقت دیدیا مریض نے کلینک میں اپریشن کی استد عا کی ، سپیشلسٹ نے کہا 3لاکھ روپے کلینک میں جمع کر و کل تمہارا اپریشن ہو گا 3لاکھ جمع کرنے میں 6دن لگ گئے ، کلینک میں بزرگ کا اپریشن ہوا تیسرے دن مریض کو رخصت کرتے وقت سپیشلسٹ نے پوچھا ! طبیعت کیسی ہے؟ مریض نے شُستہ انگریزی میں کہا میں 1951ء میں تمہارا استاد تھا سپیشلسٹ نے کہا تم چترالی عبد الرحیم ہو؟ مریض نے کہا ، میں وہی بد قسمت ہوں سپیشلسٹ اُ س کے پاوں پڑ گیا معا فی مانگی پیسے وا پس کرنے کا حکم دیا بزرگ نے پیسے واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا گزشتہ 10دنوں سے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ نو جوان ڈاکٹر تم سے کیا سیکھینگے؟ تمہارے وارڈ میں تربیت حا صل کرنے والے ڈاکٹر دکھی انسا نیت کی کیا خد مت کرینگے؟ تیسری مثال بھی پہلی دو مثا لوں سے مختلف نہیں ہلکے بخار کا بیمار ڈاکٹر کے پاس آیا ڈاکٹر نے کہا سپیشلسٹ کو دکھا ؤ اتفاق سے بیمار خود سینئر میڈیکل ٹیکنشن ہے اُس نے پو چھا کس کو دکھا وں ؟ ڈاکٹر نے کہا میڈیکل یو نیورسٹی کا سابق پرنسپل ہلکے بخار کے علا ج کا سب سے بڑا ما ہر ہے سنیئر میڈیکل ٹیکنشن نے 1500/روپے فیس دیکر وقت لے لیا اُس روز 85مریض تھے اس کا نمبر 64تھا ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ فون پر بات کر رہا تھا ایک مہر نو کر کو دیدیا نو کرنے 7ٹیسٹوں کا مہر کا غذ پر لگا کر دیا اور کہا ڈاکٹر صا حب نے اشارہ کیا ہے ٹیسٹ کرکے آجاؤ ٹیسٹ ، ایکسرے وغیر ہ میں 4600/روپے خر چہ آیا سنیئر میڈیکل ٹیکنیشن دوسری بار ڈاکٹر کے کمرے میں اس خیال سے داخل ہوا کہ اب میری بات سنے گا ،اپنا تعارف کرا ونگا اور کہو نگا 400کلو میٹر دور سے آیا ہوں لیکن اس کا مو قع نہ ملا سپیشلسٹ نے مریض کی طرف دیکھے بغیر ایک مہر نو کر کو دیا نو کر نے مہر لگا کر سنیئر میڈیکل ٹیکنیشن سے کہا ، دوائی لے لو ٹھیک نہ ہوا تو واپس آجا ؤ دکا ن پر آکر حساب لگا یا تو 7000روپے کا نسخہ تھا اس میں 130روپے کی ایک دوائی کام کی تھی اُس نے سودا لینے سے انکار کیا وہ افسوس کر تا ہے کہ کا ش میڈیکل یو نیور سٹی کا سابق پرنسپل مجھے 20سیکنڈ دیتا مگر مسئلہ یہ ہے کہ سپیشلسٹ نے ایک گھنٹے میں 85مریضوں کو دو ، دو بار مہریں لگا کر دینا ہے مریض کو بلا نے اور رخصت کرنے پر اُس کا نو کر 20سکینڈ ضا ئع کرتا ہے اُس کے پاس وقت نہیں وہ 1500/روپے لینے کے بعد مریض کا نام بھی نہیں پوچھ سکتا اُس کی کو شش ہے کہ روزانہ 100یا 110مریض دیکھے 15لاکھ روپے سے کم آمد نی ایک شام کی ہو تو غریب کا گزارہ نہیں ہو تا ہر سال ہمارے میڈیکل کا لجوں سے 80ہزار ڈاکٹر نکلتے ہیں اُن کے سامنے یہ رول ماڈل ہیں ان کا استاد پیسہ بنا نے کی مشین ہے سنیئر ڈاکٹر کے سامنے یا میڈیکل یو نیور سٹی کے سر براہ کے سامنے اخلاقیات کا کوئی معیار نہ ہو تو جو نیئر ڈاکٹر اخلاقیات کا سبق کس سے اور کہاں جا کر سیکھے گا اللہ پاک کا فضل و کرم ہے ہم مدینہ کی فلا حی ریا ست میں داخل ہو چکے ہیں آرمی چیف جنرل قمر جا وید باجوہ اگر آرمی میڈیکل کور کا نصاب اور اُس نصاب کا اخلاقی حصہ ملک کے میڈیکل کا لجوں میں پڑ ھانے کا قا نون پاس کرائیں تو قوم کے پسے ہوئے طبقات پر ، ملک کے عوام پر احسان ہو گا کارِ مسیحا ئی اور وڈیرہ شاہی میں فرق ہے یہی فرق اگر ڈاکٹر وں کو پڑ ھایا جائے تو شاید اتنا ہو جائے گا کہ سپیشلسٹ ڈاکٹراپنے مریض کو عقل و شعور والا انسان سمجھ کر اس کا علاج کرے گا یا کم ازکم بولنے وا لا جانور ( حیوانِ ناطق ) سمجھ کر مریض یا مریضہ سے اُس کا نام پو چھنے کی زحمت کرے گا اور نسخہ دیتے وقت پہلے سے تیا ر مہر سے کام لینے کی جگہ اپنے ’’ دست زر پرست ‘‘ سے دو چار الٹی پلٹی ، تر چھی ، ٹیڑھی لکیریں کا غذ پر کھینچنے کی زحمت کرے گا 400کلو میڑ دور سے آنے والے بیمار کے لئے اتنی ہی تسلی کا فی ہے طبیب اور حکیم کو ہم سپیشلسٹ اور پروفیسر یا پرنسپل نہیں کہتے ، 1500روپے فیس بھی نہیں دیتے تا ہم اُس کے کلینک سے مریض تسلّی اور اطمینان کے ساتھ گھر آتا ہے ڈاکٹر عد نان گل سے کسی کانفرنس یا سیمینار میں ملا قات ہو جائے تو یہ عرض کرونگا کہ کسی دن اپنے رول ماڈل ڈاکٹر سید امجد حسین کو بلا کر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے لئے اُن کے جا مع ، پر سوز اور پراثر لیکچر کا اہتمام کر وائیں تاکہ مریضوں کی زبان سے بد دعا کی جگہ نیک دعا نکلے اور معاشرے میں ڈاکٹروں کی شہرت پیسے کی بجائے علاج اور دوا کے حوالے سے ہو کیونکہ یہی انکا پہلا اور آخری حوالہ ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email