218

سیاسی صورتحال اور کارکن کی یاد ،تحریر ناہیدہ سیف ایڈووکیٹ

ملک میں سیاسی صورتحال بڑے ہوشربا انکشافات کی طرف رواں دواں ہیں عوام بڑے توجہ سے ملاحظہ کر رہی ہے کہ کیسے بے دردی سے اس ملک اور اس کے مکینوں کو لوٹا گیا مجھے کبھی بھی یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب ایک چیز صحیح طریقے سے مل رہی ہو تو لوگ غلط راستہ کیوں اپناتے ہیں شاید اس لیے کہا جاتا ہے کہ قدرت دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی آزماتا ہے ، اور پھر دنیا والوں کی پکڑ سے شاید کوئی بچے لیکن قدرت کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا افسوس بھی ہوتا ہے کہ کیا عوام نے ان لوگوں کو ووٹ اس لیے دی عزت اس لیے دیا کہ ایک طرف لوگ غذائی قلت کی وجہ سے مرے اور دوسری طرف یہ صورتحال ہے کہ پیٹ بھر ہی نہیں رہا ہمارے پرانے حکمرانوں کو کسی سے گلہ نہیں کرنا چاہیے جو ان کے ساتھ ہو رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ اپنا بویا ہوا کاٹ رہے ہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کو خود کو سدھارنے کے بہت مواقع ملے لیکن لیڈر اور سیاست دان میں شاید یہی فرق ہوتا ہے کہ لیڈر وقت کو بھانپ لیتا ہے اور ان کی نظر دور کی ہوتی ہےاور سیاست دان وقتی فائدہ حاصل کرتا ہے میاں صاحب کو تین دفعہ اقتدار ملا بلکہ پنجاب کو ملا لے تو پتہ نہیں کتنے سال بنتے ہیں اس کے باوجود ان کا دوبارہ کرپشن کے کیسز پہ جیل جانا اور اپنے اقتدار میں پارلیمنٹ کو وہ اہمیت نہ دینا کیونکہ ایک جمہوری حکومت کا مظبوط ستون پارلیمنٹ ہی ہوتی ہے میاں صاحب اپنے آخری ٹینور میں صرف تین یا چار دفعہ پارلیمنٹ آئے اور مظبوط کرنے کی بجائے کمزور کیا ،دوسری طرح پیپلزپارٹی نے کوئی وہ کسر نہیں چھوڑی جس نے اس پارٹی کو وفاق سے سندھ کے دیہات تک محدود کر دیا ان میں سے ایک الیکشن کے نزدیک بلوچستان میں ایک جمہوری حکومت ختم کرانے میں اپنا حصہ ڈالنا اور سینٹ الیکشن میں ہارسٹریڈنگ اور پھر بڑے فخر سے اسکا اظہار کر کے وقتی فائدہ تو شاید حاصل کر لیا لیکن پارٹی کی سیاسی ساکھ میں آخری کیل ٹھونس دی اور پارٹی کے امیج کو بہت بری طرح متاثر کیا کارکن جو پہلے سے ہی نالاں اور متنفر تھےپاٹی کے غیر مقبول پالیسیز اور مفاہمت نے رہی سہی کسر اسی طرح کے اقدامات نے پوری کر دی کیونکہ کسی بھی پارٹی کا اپنا ایک الگ مزاج اور نظریہ ہوتا ہے جب اس مزاج اس نظریہ کو اس پارٹی سے نکال دیا جائے تو پارٹی کھوکھلی ہو جاتی ہےاور جب پارٹی کھوکھلی ہو جائے تو کسی کارکن کا اس پارٹی میں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، جب کرپشن کے خلاف تحریک عروج پر تھی تو ان کے کچھ احمق لوگوں نے باقاعدہ ان لوگوں کو دعوت دی جن کو عمران خان سینٹ الیکشن میں بے ایمانی پر نکالا تھا اس سے عوام میں یہ تاثر گیا کہ پیپلزپارٹی کرپٹ لوگوں کی حمایتی جماعت ہے اور ان کے اپنے لوگ بھی اس پارٹی سے بد ظن ہونا شروع ہوگئے جس کا رزلٹ الیکشن میں نظر آیا کہ سندھ کے علاوہ باقی صوبوں میں پی پی پی نظر ہی نہیں آتی ،کرپشن فری تحریک ایک بہت بڑا امتحان بھی ہے کیونکہ خان کے لیے کام اس نوجوان نے کیا جو سیاست سے بد ظن تھا اور ان کی نظر میں سیاست کا امیج بہت خراب ہو چکا تھا عمران خان نے انہیں موٹیویٹ کیا کہ میرا ساتھ دو ہم مل کر اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرینگے اور کرپٹ لوگوں کو سیاست سے نکال باہر کرینگے کوئی مانے یا نہ مانے عمران خان کا منشور ہی یہی تھا اور عزم بھی یہی تھا اور ووٹ بھی انہیں اسی سلوگن پہ ملا اب ان کے سامنے دو راستے تھے کہ ویز اعظم بننے کے بعد یا تو وقتی فوائد کے لیے مفاہمت کرتے یا اس نوجوان سے کئے ہوۓ وعدے کو نبھاتے تاکہ اگلی دفعہ وہ نوجوان اس پہ دوبارہ اعتماد کرسکے ظاہر ہے خان جیسے سیاستدان جنہوں نے پہلے سے ہی بہت دنیا اور ایک فریم دیکھا ہو جس نے بہت جدوجہد کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہو ان کی سوچ سطحی نہیں ہو سکتی کہ اپنے کارکن کی جدوجہد کو رد کر کے ان کو مایوس کر کے وقتی فائدہ حاصل کر لیتے لہذا انہوں نے کرپشن پر کریک ڈاؤن شروع کرنے اور اس پہ کسی طرح بھی سمجھوتہ نہ کرنے کا آ پنا اصولی فیصلہ کر لیا یہ انکا اپنے کارکن سے الیکشن سے پہلے وعدہ تھا اور ان کو پتہ ہے کہ آج کا نوجوان کرپشن اور کرپٹ لوگوں سے شدید نفرت کرتا ہے یہی ایک سیاسی لیڈر کی سوچ ،اور اس کے کارکن اس کے مال،متاع ہوتے ہیں ،کارکنوں سے پارٹی بنتی ہے پارٹی سے کارکن نہیں بنتے کارکن کے پاس جانے کے لیے بہت سارے راستے ہوتے ہیں جب کارکن میں یہ تاثر چلا جائے کہ انکا لیڈر بھروسے کے قابل نہیں ہے وہاں سے اس پارٹی کا زوال شروع ہو جاتا ہے،ہمارے پرانے سیاست دانوں کی شاید یہ خوش فہمی تھی کہتے ہیں کہ جو خود کو زیادہ ہوشیار سمجھتا ہے وہ سب سے زیادہ بے وقوف ہوتا ہے کہ ان کی جگہ کوئی اور نہیں آسکتا اس لیے انہوں نے آپس میں اندر سے ہمنوالہ ہم پیالہ بننے کا معاہدہ کیا تھا یہ بھی حقیقت ہے کہ منی لانڈرنگ کے سارے کیسز ن لیگ کی حکومت میں آشکار ہوئے اور پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ کے امیج کو خراب کرنے میں جتنا زیادہ رول ن لیگ کا رہا ہے شاید کسی کا اتنا رہا ہو چودھری نثار کی پریس کانفرنسز سب کو یاد ہے اب جب یہ دونوں پارٹیز اکھٹی ہو بھی جائے تو انکا امیج اس سے بھی زیادہ خراب ہو جائے گا اور فائدہ پی ٹی آئی کو ہی ملے گا ان پارٹیز کو یہ نہیں پتہ تھا وقت بدل چکا ہے نسل بدل چکی سوشل میڈیا اتنا مظبوط ہو چکا تیسری پارٹی بہت تیزی سے اپنا قدم جما رہی ہے اب یہاں بیٹھ کر نوجوان پوری دنیا کی سیاست کو دیکھ رہی ہےاورسیاست میں متحرک ہو رہی ہے اپنا رول پلے کر رہی ہے اب نئی نسل کو بےوقوف بنانا اتنا آسان نہیں رہا ایک تو پرانی سیاسی جماعتوں نے اپنے کارکنوں کو اقتدار کے وقت اتنا نظر انداز کیا کہ جب وقت نے کایاپلٹا اور ن لیگ کو کارکنوں کی ضرورت پڑی تو ان کے لیڈر کو لینے لیے ائیر پورٹ پر چند ہی لوگ تھے ،تحریک چلانے کے لیے نوجوانوں کی ضرورت ہوتی ہے اب لوگ بےوقوف نہیں رہے کہ اپنی مطلب کے لیے ان کو استعمال کرے اور فائدہ کے وقت تم کون میں کون،یہی کچھ پرانی سیاسی پارٹیز نے اپنے کارکنوں ساتھ کیا ، اب ان کے پاس چند موروثی نوجوانوں کے اور کوئی ہے ہی نہیں وہ بھی اس لیے ساتھ ہیں کہ جب تک کھائیں گے گن گائیں گے اور جہاں تک اندازہ ہے وہ ان کے لیے کوئی تکلیف سہنا کبھی گوارا نہیں کریں گے، پاکستان کے سیاسی حالات کا رخ بہت ہی تیزی سے بدل رہا ہے اب سیاستدانوں کو حالات کے بے رحم لہر وں نے دوبارہ ان بیچارے کارکنوں کی یاد دلا دی اور ان کی ضرورت محسوس کرا دی ہےجو پتہ نہیں ان کے گیٹ پر کتنے عرصے سے ذلیل ،خوار ہوتے رہے اور مایوس ہو کر تھک ہار کر بیٹھ جاتے تھے حالات اسی طرح ہی پلٹ کھاتے ہیں ،یہ خان صاحب کے لیے بھی بڑا امتحان ہے کہ وہ اس نوجوان کو مایوس نہ کرے جس کو اب بھی ان پر بہت اعتماد ہے کہ جب بھی کہیں ان کے ساتھ سیاسی ڈسکشن کا موقع ملتا ہے وہ بڑے اعتماد سے کہتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ خان ہمارے ساتھ، ملک کے ساتھ برا نہیں کرے گا کیونکہ وہ کرپٹ نہیں ہے بے ایمان نہیں ہے منافق نہیں ہے سادہ مزاج کا آدمی ہے جو بات دل میں ہے وہی اپنی قوم سے کرنی ہے چاہیے بعد میں ان کو پریشانی کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے وہ ضرور اس ملک کے لیے بہتر کرے گا وہ وقت کےساتھ ساتھ مہنگائی پر بھی قابو پا لے گا، اس اعتماد کو اس بھروسے کو کس حد تک نوجوانوں کا خان قائم رکھتاہے اور اس پر کس حد تک پورا اترتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا

Print Friendly, PDF & Email