تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> تازہ ترین >> ناانصافی اور ظلم و زیادتی کرنے والا زیادہ دیر نہیں چل سکتا ۔ سب سے زیادہ سزا لوگوں کی بد دعا سے ملتی ہے۔ فرقان بلال

ناانصافی اور ظلم و زیادتی کرنے والا زیادہ دیر نہیں چل سکتا ۔ سب سے زیادہ سزا لوگوں کی بد دعا سے ملتی ہے۔ فرقان بلال

چترال ( محکم الدین  ) ڈی پی او چترال فرقان بلال نے کہا ہے ۔کہ ناانصافی اور ظلم و زیادتی کرنے والا زیادہ دیر نہیں چل سکتا ۔ سب سے زیادہ سزا لوگوں کی بد دعا سے ملتی ہے ۔ اس لئے کسی بھی اختیار والے کو نا انصافی ,اور بددعاؤں سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایک مقامی ہوٹل میں سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پریزینر ایڈ (شارپ) اور آئی سی ایم سی کے اشترا ک سے منعقدہ سنسٹائزیشن ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں ایڈیشنل ایس پی نور جمال , ایس ڈی پی او چترال فاروق جان , ایس ڈی پی او گرم چشمہ عبدالستار , ایس ڈی پی او دروش اقبال کریم , ڈی ایس پی محی الدین , میڈیا کوآرڈنیٹر ڈی پی او چترال امان اللہ اور دیگر پولیس آفیسران کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ ڈی پی او نے کہا ۔کہ ہمارے ملک کی بد قسمتی یہ ہے ۔ کہ یہاں ایک دوسرے کے کام اور اختیارات میں مداخلت ایک معمول بن گیا ہے ۔جبکہ ہر ادارے کو اپنے دائرہ کار میں کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جب کوئی آفیسر قانون میں اپنی ذاتی خواہش شامل کرتا ہے ۔ تب دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا عمل شروع ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہ شارپ کے زیر انتظام ہیومن رائٹس اور رفیوجی رائٹس سے متعلق حسا سیت پیدا کرنے کی کوشش قابل تعریف ہے ۔ فرقان بلال نے کہا ۔ کہ ہمیں سب سے پہلے انسانیت کی قدر کرنی چاہیے ۔ اس کے بعد ہی ہم حقوق و فرائض کو سمجھ سکتے ہیں ۔ قبل ازین ٹیم لیڈر شارپ قاضی سجاد ایڈوکیٹ نے پاکستان خصوصا چترال میں رہائش پزیر افغان مہاجرین کے مسائل , مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی قوانین, پی او آر کارڈ کی اہمیت اور حکومت کی طرف سے مہاجرین کو دیے گئے سہولیات سے متعلق امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا ۔ کہ پاکستان پروٹوکول پر دستخط نہ کرنے کے باوجود مہاجرین کی طویل خدمت کا ریکارڈ رکھتاہے۔ اور مہاجرین کو آزادانہ کاروبار اور نقل و حمل کی اجازت ہے ۔ اگر ان کے پاس مطلوبہ دستاویزات اور پی او آر کارڈ موجود ہوں۔ ورکشاپ میں پریزنٹیشن دیتے ہوئے میٹی گیشن آفیسر چترال یونیورسٹی میر تنزیل الرحمن نے کہا ۔ کہ پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی کمی نہیں ۔ لیکن یہ کتابوں تک محدود ہیں ۔ عملی طور پر ان قوانین پر عملدرآمد ہمیشہ تحفظات کا شکار رہا ہے ۔ ہم حقوق کی بات ضرور کرتے ہیں ۔ لیکن حقوق کی فراہمی سے قاصر ہیں ۔ ورکشاپ کے دوران سوالات و جوابات کے سیشن ہوئے ۔ جکہ آ خر میں ڈی پی او نے شرکا میں سرٹفیکیٹ تقسیم کی ۔

Print Friendly, PDF & Email